رجسٹریشن برانچ کے سب رجسٹرار ز نے سالہا سال سے انسپکشن سرٹیفکیٹ جمع نہ کروائے

رجسٹریشن برانچ کے سب رجسٹرار ز نے سالہا سال سے انسپکشن سرٹیفکیٹ جمع نہ ...

لاہور(عامر بٹ سے)بورڈآف ریونیو کے شعبہ رجسٹریشن برانچ میں تعینات سب رجسٹرار ز کی مجرمانہ غفلت ،رجسٹریشن ایکٹ کے پیرا نمبر 43 پرعملدرآمد کرنا بھول گئے ،ہفتہ وار بنیادوں پر ریکارڈ اکی انسپکشن اور رجسٹریشن برانچوں کا ریکارڈ اپ گریڈ رکھنے کے ذمہ دار سب رجسٹراروں نے بورڈآف ریونیو کی طرف سے جاری کردہ ہدائتیں بھی نظر انداز کر دیں ،جس کے باعث کاغذات کی گمشدگی ،نامکمل ریکارڈ اور برانچوں میں بے ترتیب بکھری رجسٹریوں نے برانچوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ،ریکارڈ کی مینٹینس کیلئے رکھا جانے والا پرائیویٹ عملہ بھی دیہاڑیاں لگانے پر ذور دینے لگا،کئی سالوں سے ڈسٹرکٹ رجسٹرار کو ایک ابھی انسپکشن سرٹیفکیٹ جمع نہ کروایا گیا ہے،تفصیلات کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے شعبہ رجسٹریشن میں تعینات سب رجسٹرارز نے رجسٹریشن ایکٹ کی خلاف ورزی معمول بنا لی ہے ،رجسٹریشن ایکٹ کے پیرانمبر 43کے مطابق سب رجسٹرار ہفتہ وار بنیادوں پر برانچ کی انسپکشن کرکے اس کی رپورٹ سرٹیفکیٹ کی شکل میں ڈسٹرکٹ رجسٹرار کو جمع کروانے کے پابند ہیں ،ڈسٹرکٹ رجسٹرار سب رجسٹرارز کی جانب سے جمع کروائے جانے والے سرٹیفکیٹ اور مسائل کی نشاندہی پر فوری عمل کرنے کا پابند ہے لیکن حیرت انگیز طورپر پچھلے کئی سالوں سے ڈسٹرکٹ رجسٹرار آفس ،کسی بھی رجسٹرار کی طر ف سے ہفتہ وار انسپکشن رپورٹ کا منتظر ہے ،رجسٹریشن ایکٹ سے پہلو تہی اور مجرمانہ غفلت کی بدولت قوانین کی دھجیاں اڑاتے سب رجسٹرارز اور ریکارڈ کی دیکھ بال کیلئے رکھا جانے والا پرائیویٹ عملہ دیہاڑیاں لگانے اور اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے ،رجسٹریشن ایکٹ کے پیرا نمبر 43پر عمل درآمد کی صورت میں رجسٹریشن برانچوں میں ترتیب اور باقاعدگی کی بجائے اس سے روگردانی کو آسان سمجھ لیا گیا ہے جس کی وجہ سے رجسٹریشن برانچوں کی موجودہ صورتحال کسی طور پر بھی سرکاری برانچ کے طور پر نظر نہ آتی ہیں جہاں ہر طرف بکھرے کاغذات ،رجسٹریوں کے علاوہ سائلین کی ملکیتی اراضی کے قیمتی کاغذات بھی گم ہونا معمول بن چکا ہے جس کا اثر براہ راست عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ،رجسٹریشن برانچوں میں تعینات پرائیویٹ عملہ جس کی ذمہ داری ریکارڈ کی دیکھ بال کرنا ہے وہ بھی سب رجسٹرار ز کے ساتھ مل کر ٹاؤٹ مافیا کا کردار ادا کرکے صرف دیہاڑیاں لگانے اور سارا دن کی کمائی کو باہمی مساوات کے ساتھ تقسیم کرنے کے بعد گھر کی راہ لیتے ہیں ،کئی سالوں سے ڈسٹرکٹ رجسٹرار آفس میں سب رجسٹرار ز کی طرف سے ایک بھی مینٹنس اور انسپکشن سرٹیفکیٹ جمع نہ کروانا اس بات کو ظاہر کرتاہے کہ یا تو سب رجسٹرار اس قانون سے نا بلد ہیں یا پھر جان بوجھ کر اس سے کنارہ کشی کی روش کو اپنائے ہوئے ہیں ،یہی صورتحال ڈسٹرکٹ رجسٹرار آفس کی ہے جس کی طرف سے بھی سب رجسٹرار ز کو ایک بھی ہدائت جاری نہیں کی گئی کہ رجسٹریشن ایکٹ کے پیرا نمبر43پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے انسپکشن رپورٹ جمع کروائیں،دونوں طرف سے سستی کوتاہی اور رجسٹریشن ایکٹ پر عدم عمل درآمد کی وجہ سے بے ترتیبی اور کاغذات کی گمشدگی روز کا معمول بن چکی ہے سائلین سے مک مکا اور رشوت ستانی کے ذریعے گمشدہ رجسٹریاں اچانک مل بھی جاتی ہیں اور باآسانی پاسنگ کے مراحل سے بھی گزر جاتی ہیں،رجسٹریشن ایکٹ جس کو صرف کاغذوں تک ہی محدود کر دیا گیا ہے اور جس ملک کے قوانین اور اداروں پر نافظ عمل مخصوص ایکٹ صرف کاغذوں تک محدود کردیئے جائیں ،ادھر کرپشن ،رشوت ستانی،بے ترتیبی ،ذاتی مفادات اور جھوٹ کا دور دورہ ہوتا ہے جس کا اندازہ رجسٹریشن برانچوں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے اس مجرمانہ غفلت اور قوانین سے روگردانی کرنے کی کیا وجہ ہے اس سے قطع نظر صرف عوامی مفادات کی خاطر رجسٹریشن ایکٹ پر باپندی ایک لازمی امر بن چکی ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والے پر پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کرکے رجسٹریشن برانچوں کی خراب ساکھ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

مزید : علاقائی