بلوچستان اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں 11 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

بلوچستان اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں 11 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

ملتان ،ساہیوال ،گوجرانوالہ ،فیصل آباد، کوئٹہ/لاہور(اے این این)بلوچستان اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں سزائے موت کے 11قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکا دیاگیا ، مجرموں کی تمام اپیلیں اور رحم کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد سزا پر عملدرآمد کیا گیا، لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں ، دسمبر 2014کے بعد سے پھانسی پانے والوں کی تعداد 122سے تجاوز کر گئی ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اور بلوچستان کی مختلف جیلوں میں منگل کی صبح سزائے موت کے 11مجرموں کو تختہ دار پر لٹکادیا گیا ۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قتل کے 2مجرموں کوپھانسی دی گئی۔ مجرم شکیل نے1998 جبکہ مجرم شیرعلی نے2001 میں ایک شص کو قتل کیا تھا۔ :سینٹرل جیل میں سزائے موت کے2 قیدیوں کو پھانسی دی گئی ۔سینٹرل جیل فیصل آباد میں سزائے موت کے 2قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ مجرم افتخار احمد نے 2001میں جھگڑے کے دوران فائرنگ کر کے 2بھائیوں سمیت 3افراد کو قتل کیا تھا جبکہ مجرم آصف زیب نے1998 میں دشمنی کی بنا پرایک شخص کو قتل کیا تھا۔ ساہیوال میں قتل کے مجرم اسحاق کوپھانسی دی گئی مجرم اسحاق نے1994 میں دشمنی پرایک شخص کوقتل کیاتھا۔ اسی طرح گوجرانوالہ کی سینٹرل جیل میں 2مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا ۔ مجرم محمدنوازنے1999 میں دشمنی پرایک شخص کوقتل کیاتھا۔ سینٹرل جیل ملتان میں سزائے موت کے مجرم رانا فریاد کو پھانسی دی گئی مجرم نے معمولی تکرار پر اپنے کزن کو قتل کیا تھا۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں قتل کے مجرم امجد علی کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ۔ مجرم امجدعلی نے2002 میں بھتیجی کو زیادتی کے بعد قتل کیا جبکہ پہچان لئے جانے کے ڈر سے مجرم نے مزید 2بچوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ڈسٹرکٹ جیل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں6افراد کے قاتل کو پھانسی دی گئی مجرم مجرم انور احمد نے 2006میں جائیداد کے تنازعے پر اپنے باپ بھائی سمیت خاندان کے6 افراد کو قتل کیا تھا۔مچھ سینٹرل جیل میں قتل کے مجرم ابرہیم کو پھانیسی دیدی گئی مجرم ابراہیم نے2003میں قلعہ سیف اللہ میں صفدرنامی شخص کوقتل کیاتھا۔ مجرم ابراہیم کوستمبر2005 میں انسداد دہشت گردی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

مزید : علاقائی