ڈسکہ سانحہ ۔۔۔۔۔۔

ڈسکہ سانحہ ۔۔۔۔۔۔
ڈسکہ سانحہ ۔۔۔۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مجسٹریسی نظام نہ ہونے کا ایک اور شاخسانہ !

ڈسکہ میں تھانہ انچارج کے ہاتھوں بار صدر کے قتل کا اندوہناک واقعہ، محض ایک مجرمانہ واقعہ ہی نہیں، ہمارے نظام کے منہ پر ایک طمانچہ بھی ہے۔ ایس ایچ او، اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے قانون کے نفاذ کا اپنے پورے علاقہ میں ذمہ دار اور حکومتی عمل دخل کا ’’ذمہ دار‘‘ نمائندہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی قانون دان (وکیل) قانون کا علمبردار اور قانون و انصاف کے نفاذ کا سب سے بڑا طالب و متمنی اور محرک (چہ جائے کہ وکلاء کا صدر اور رہنما) ڈسکہ کے سانحہ نے ’’قانون و انصاف‘‘ کے علمبرداروں اور بڑے داعیوں کو قاتل و مقتول کے طور پر پیش کرکے، ہمارے ملک کے نظام قانون و انصاف پر سوالیہ نشان بھی قائم کر دیا ہے اور المیہ بھی بنا دیا ہے۔

یہ سانحہ کیوں پیش آیا؟ جھگڑا کیوں ہوا؟ پرانی تلخی تھی یا موقع پر پیدا ہوئی؟ آغاز کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ سوالات ذہنوں میں ضرور پیدا ہوتے ہیں، البتہ اس سانحے اور دو انسانی جانوں کے بہیمانہ قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

قانون نافذ کرنے کے ذمہ داروں کے ہاتھوں، قانون کی دھجیاں بکھیرنے اور انسانی خون سے ہاتھ رنگنے کی سنگینی کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی اس کو طبقاتی یا محکماتی عصبیت کے پردے میں چھپانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ جو گولیاں برسانے اور قتل کرنے والے ہیں ان کو لازماً قرار واقعی سزا ملنی اور نشانہ عبرت بنایا جانا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ قانون کے علمبرداروں نے احتجاج کے نام پر جو کچھ کیا اور ان کے نوجوان ساتھیوں نے بھی جس طرح جگہ جگہ توڑ پھوڑ کی، سرکاری و غیر سرکاری املاک کو آگ لگائی، وہ بھی کسی طور قابل تعریف نہیں، بلکہ اسے بھی قابل مذمت ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ احتجاج کے نام پر جو کچھ ہوا، وہ ڈسکہ کے مقتول وکلاء کے عظیم سانحہ کو ملنے والی، ہمدردی کو کم کرنے کا باعث بن رہا ہے ۔۔۔

ہم ’’قانون و انصاف‘‘ سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران، ارباب اقتدار و اختیارات سے (بالخصوص وکلاء رہنماؤں) سے عرض کریں گے کہ ’’ڈسکہ سانحہ کو کسی طور پر بھی دو طبقوں (پولیس اور وکلاء) کی جنگ نہ بننے دیا جائے۔‘‘

گزشتہ دو روز میں جو احتجاج نظر آیا اور جس انداز میں کیا گیا، اس سے خدشہ پیدا ہو رہا تھا کہ احتجاج کرنے والے، ہر پولیس والے کو ’’قاتل‘‘ سمجھ رہے ہیں اور ان سے خود ہی ’’انتقام‘‘ بھی لینا چاہتے ہیں۔ وکلاء رہنماؤں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکیں اور ’’قانون کے نفاذ‘‘ پر ہی توجہ و زور رکھیں۔ پوری کوشش کریں کہ مجرموں کو ان کے کیے کی سخت ترین سزا مل کر رہے، نیز اس سانحے پر جو ’’سیاسی کھیل‘‘ بھی شروع ہوگیا ہے، بچا جائے اور لواحقین کو بچایا جائے۔

حکومتی ذمہ داران پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ پولیس پر اتنا خرچ کرتی ہے تو اس کی تربیت کا بھی کماحقہ اہتمام کرے۔ تھانہ انچارج سلجھے ہوئے افراد کو بنایا جائے۔ خونخوار اور بدنام، بندے مار لوگ، کبھی عوامی طبقات کو ساتھ لے کر نہیں چل پائے اور ’’بندے مار‘‘جرائم میں دھنسے پولیس والے بہرحال حکومتوں کی بدنامی اور سانحات ہی کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے ہی دیکھا جائے کہ تھانہ افسروں نے پولیس کے محکمے سے ہٹ کر کتنے مسلح باڈی گارڈز رکھ چھوڑے ہیں، اسی طرح ضروری (بلکہ بہت ہی ضروری) ہے کہ فوراً مجسٹریسی نظام کا احیاء کیا جائے۔ ماڈل ٹاؤن سانحہ اور ڈسکہ سانحہ جیسے کئی سانحات صرف اس لیے ہوئے کہ معاملات کو سنبھالنے کی زمہ داری محض پولیس کے سپرد کر دی گئی تھی۔ پولیس تو معاملات کو صرف اپنے ہی انداز میں لینی اور پرکھتی ہے۔ مجسٹریٹ ہوتے تھے تو گفت و شنید اور دھیمے پن سے معاملات نپٹا لیتے تھے۔ ہر کام ڈنڈے کے زور سے نہیں ہوتا۔ الجھے معاملات کو سلجھانے کیلئے دھیما پن اور نیک نامی بھی ضروری ہوتی ہے۔

اسی سانحہ کے پس منظر میں ایک اور بات بھی قابل توجہ اور حکومت وقت، بالخصوص وزیراعلیٰ شہباز شریف کو اس پر (بہرحال) توجہ ضرور دینی چاہیے کہ جگہ جگہ شہری مسائل بہت ہوچکے ہیں جبکہ ٹی ایم او حضرات ان کو حل کرنے کی بجائے مزید بڑھا رہے ہیں، ڈسکہ اور پسرور مسائل کی آماجگاہیں بن چکے ہیں۔ ڈسکہ کے وکلاء ان مسائل کو حل کروانے کیلئے سراپا احتجاج تھے کہ یہ عظیم سانحہ ہوگیا۔ اگر ان شہری مسائل کو حل نہ کیا گیا اور ٹی ایم او حضرات سے جواب دہی کا سسٹم موثر نہ کیا گیا تو مزید سانحات کا اندیشہ موجود ہے۔

مزید : کالم