بھارت میں شوہر کے جنسی جبر کا شکار ہونیوالی خاتون کی کہانی

بھارت میں شوہر کے جنسی جبر کا شکار ہونیوالی خاتون کی کہانی
بھارت میں شوہر کے جنسی جبر کا شکار ہونیوالی خاتون کی کہانی

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک بھارتی وزیرکے بیان کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ آیا خاتون کی مرضی کے بغیر شوہر جنسی تعلقات قائم کرسکتاہے یانہیں ، اسے قابل جرم سزاسمجھاجاناچاہیے یا نہیں ۔ازدواجی جنسی جبر کا نشانہ بننے والی ایسی ہی ایک خاتون کی کہانی بی بی سی سامنے لائی ہے ۔

پہلے پہل تو شوہر کے ڈر سے ایک متاثرہ خاتون نے بی بی سی سے بات کرنے سے ہی گریز کیا ، 25سالہ خاتون انصاف کے حصول کی جنگ تنہا ہی لڑ رہی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق خاتون نے بتایاکہ شوہر کے لیے صرف ایک کھلونا ہے جسے وہ رات میں مختلف طریقوں سے استعمال کر سکے، ایسے اوقات بھی آئے، جب طبیعت خرابی کے باوجود بھی مرد باز نہیں آیا،یہاں تک ماہواری کے دنوں میں بھی‘۔

کئی بھارتی شہریوں کا خیال ہے کہ شادی مردوں کے لیے جنسی خواہشات کی تشفی کا ذریعہ ہے اور اس خواہش کو پورا کرنے کے خواتین کو ہر دم تیار رہنا ہے جبکہ خاتون کی درخواست سپریم کورٹ بھی مسترد کرچکی ہے اور قراردیاہے کہ کسی ایک فرد کے لیے قانون تبدیل کرنے ممکن نہیں ۔

ایک اور خاتون نے بتایاکہ اُنہوں نے دفتری ساتھی سے محبت کی شادی کی ،ویلنٹائن ڈے 2014ءکی رات ابھی یاد ہے،میری سالگرہ تھی ، تکرار ہوئی اور پھر ا±س نے زبردستی کرنا شروع کر دی، بالآخر خاتون کو ہسپتال داخل ہوناپڑا۔

بھارت میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کا مطالبہ ہے کہ ازدواجی ریپ کو قابل سزا جرم قرار دیا جائے۔دہلی ریپ کے بعد ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے ریپ اور ازوادجی ریپ کے خلاف قوانین میں تبدیلی کی تجاویز دیںلیکن ا±س وقت کی حکومت کانگریس نے کمیٹی کی تجاویز رد کر دی تھیں۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2005 تا 2006 کے مطابق بھارت کی 29 ریاستوں میں ایک لاکھ 24 ہزار 385 خواتین میں سے صرف دس فیصد خواتین نے جنسی تعلق کے دروان شوہر کے نازیبا رویے کی شکایت درج کروائی۔

دوسری جانب مردوں کے حقوق کی تنظیم سیو فیملی فاو¿نڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ ازدواجی ریپ کو جرم قرار دینے کے معاملے پر کافی محتاط ہیں،دیکھا گیا ہے کہ جہیز کے خلاف قانون کے ذریعے خواتین نے مردوں اور ا±ن کے خاندانوں کو نشانہ بنایاجبکہ سینٹرل ویمن کمیشن آف انڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ ہر سال ریپ کے مقدمات میں کچھ جھوٹے بھی ہوتے ہیں۔

مزید : جرم و انصاف