انقلابی بلدیاتی نظام لا رہے ہیں، عوام فیصلے خود کر سکیں گے، کپتان سب کو شکست دے گا: عمران خان

انقلابی بلدیاتی نظام لا رہے ہیں، عوام فیصلے خود کر سکیں گے، کپتان سب کو شکست ...
انقلابی بلدیاتی نظام لا رہے ہیں، عوام فیصلے خود کر سکیں گے، کپتان سب کو شکست دے گا: عمران خان

  

مردان (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ خیبرپختونخواہ میں ایسا بلدیاتی نظام لا رہے ہیں جیسا پہلے کبھی نہیں آیا۔ ایک طرف پرانے دشمن اور دوسری طرف مولانا صاحب ہیں۔ لیکن فکر نہ کریں کیونکہ کپتان عوام کے ساتھ مل کر ان سب کو شکست دے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے ایزی لوڈ کی خاطر 5 سال تک بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔

تفصیلات کے مطابق ریلوے گراﺅنڈ مردان میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آزادی کا مطلب اپنے فیصلے خود کرنا ہے، جو بلدیاتی نظام لا رہے ہیں ایسا پہلے کبھی نہیں آیا ، خیبرپختونخواہ کا بلدیاتی نظام غریب کی حالت بدلے گا اور اس نظام کے تحت گاﺅں دیہات کے لوگ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے جبکہ مردان کے فیصلے بھی مردان میں ہی ہوں گے، پشاور میں نہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور فنڈز ایم این اے یا ایم پی اے کے پاس نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ میں آئیں گے اور لوگ خود فیصلہ کریں گے کہ سکول کہاں بنانا ہے اور ہسپتال کہاں بننا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی کے ایک کارکن نے کہا کہ مردان میں سونامی ختم ہو گئی ہے۔ اسفند یار ولی! سونامی ختم نہیں بلکہ شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے 5 سال بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کرائے، اس لئے کیونکہ بلدیاتی نظام سے اختیاات نچلی سطح پر منتقل کرنے پڑتے ہیں اور اے این پی نے ایزی لوڈ کیلئے بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے جا رہی ہے جس کے تحت 45000 لوگوں کو عوام اپنا نمائندہ منتخب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ آبادی 13 فیصد جبکہ پنجاب کی 60 فیصد ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران 45 ہزار لوگ آئیں گے لیکن پنجاب میں 35 ہزار سے بھی کم لوگ آئیں گے اور بلدیاتی انتخابات کے باوجود وہاں آزادی نہیں آئے گی۔

عمران خان نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے لوگوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہے حالانکہ اس سے قبل انہیں روک دیا گیا تھا جس پر سوچا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پارٹی کا چیئرمین اپنی عوام کے پاس جا کر اپنا منشور نہیں بتا سکتا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ فخر سے کہتا ہوں کہ خیبرپختونخواہ کی پولیس مثالی بن گئی ہے جو لوگوں کی حفاظت کرتی ہے جبکہ پنجاب کے گلو لوگوں کو مارتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ وہ اس بات پر معذرت کرنا چاہتے ہیں کہ جس تیزی سے انہیں نوکریاں پیدا کرنا چاہئیں تھیں وہ نہیں کر سکے اور اس کی وجہ پہلی بار اقتدار میں آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے تاہم اب سمجھ آ گئی ہے اور انقلاب کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کی پولیس کو بہتر کرنے کے بعد اب ہسپتالوں کو بہتر کریں گے۔ پہلے سے موجود نظام کے تحت ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانا ممکن نہیں تھا اس لئے نیا قانون بنا لیا ہے اور اب عوام ہر گزرتے دن کے ساتھ ہسپتالوں کی حالت میں بہتری دیکھیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں