وہ ایک چیز جس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم غیرملکیوں کو ہر صور ت بچ کر رہنا چاہیےورنہ ۔۔

وہ ایک چیز جس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم غیرملکیوں کو ہر صور ت بچ کر رہنا ...
وہ ایک چیز جس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم غیرملکیوں کو ہر صور ت بچ کر رہنا چاہیےورنہ ۔۔

  

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ممالک میں مقیم غیر ملکیوں کو مسائل سے بچنے کے لئے کئی طرح کی احتیاطیں کرنا پڑتی ہیں لیکن ایک معاملہ ایسا بھی ہے کہ جس میں سخت ترین احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اگر غلطی ہوجائے تو اس کا انجام بہت ہی دردناک ہوتا ہے۔

عرب ممالک اور خصوصاً متحدہ عرب امارات میں بینکوں سے لیا گیا قرضہ واپس کرنے میں حددرجہ ذمہ داری کی ضرورت ہے کیونکہ اگر کسی غیر ملکی کو بینک کی طرف سے ڈیفالٹر قرار دے دیا جائے تونہ صرف اس کے خلاف مقدمہ درج کروادیا جاتا ہے بلکہ اس کے اور اس کی فیملی کے ویزے کی تجدید بھی نہیں کی جاتی جس کے باعث ملک سے فرار ہونا بھی ممکن نہیں رہتا اور ملازمت ختم ہونے پر قرضہ واپس کرنے کی بھی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔

اخبار ”گلف نیوز“ نے جب بینکوں کی طرف سے اس قدر سخت ایکشن کے متعلق ایک مقامی بینک کے سینئر افسر سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ بینک صرف ان کسٹمرز کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہیں کہ جو ارادتاً قرضہ واپس نہ کرنے کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قرضے کی ایک قسط رکنے کی صورت میں کسٹمر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر رابطہ ممکن نہ ہو تو دوسری قسط رکنے کی صورت میں کسٹمر کی طرف سے فراہم کئے گئے ریفرنس سے رابطہ کیا جاتا ہے تاکہ معاملے کو حل کیا جاسکے۔ سینئر بینکر نے بتایا کہ جب کسی شخص کو ڈیفالٹر قرار دے دیا جاتا ہے تو اس کے خلاف کرمنل کیس شروع کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی ملازمت بھی ختم ہوجاتی ہے، ویزے کی تجدید بھی نہیں ہوسکتی اور بہرصورت سزا مقدر بن جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تکلیف دہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مسائل کے شکار کسٹمر بینک سے رابطہ نہ کرنے کی غلطی کرتے ہیں، کیونکہ اگر یہ کسٹمر چھپنے کی بجائے بینک سے رابطہ کریں تو کوئی نہ کوئی حل نکالا جاسکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس