سانحہ ڈسکہ:وکلاءکا احتجاج جاری ،ملزموں کو سزا دینے کے لئے 30دن کا الٹی میٹم

سانحہ ڈسکہ:وکلاءکا احتجاج جاری ،ملزموں کو سزا دینے کے لئے 30دن کا الٹی میٹم
سانحہ ڈسکہ:وکلاءکا احتجاج جاری ،ملزموں کو سزا دینے کے لئے 30دن کا الٹی میٹم

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی /نامہ نگار)ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے صدر سمیت 2کلاءکے قتل کے خلاف وکلاءکا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا ۔کہیں ہڑتال کی گئی تو کہیں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ۔پاکستان بار کونسل سمیت تمام وکلاءتنظیموں نے ملزموں کو سزا دینے کے لئے 30دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔پاکستان بار کونسل اور وکلاءتنظیموں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ایسے تمام پولیس افسر جن کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں انہیں فوری طور پر ان کے عہدوں سے الگ کردیا جائے اس حوالے سے سابق پراسیکیوٹر جنرل پنجاب زاہد حسین بخاری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو معاملے کی مسلسل نگرانی کرے گی ۔لاہور ہائیکورٹ بار نے مقتول وکلاءکے لواحقین کی مالی اعانت کے لئے ایک فنڈ قائم کر دیا ہے جس میں تمام ممبران حسب استطاعت حصہ ڈالیں گے۔
صوبہ بھر میں لاہور سمیت ضلعی اورتحصیل کی سطح کی عدالتوں میں وکلاءنے ہڑتال کی اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ۔وکلاءنے ریلیاں بھی نکالیں اور بار رومز میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں ۔لاہور میں وکلاءنے پی ایم جی چوک اور لاہور ہائی کورٹ کے باہر جی پی او چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا ۔دونوں بار ایسوسی ایشنوں نے احتجاجی کیمپ بھی قائم کردیئے ہیں جو کیس کے فیصلے تک جاری رہیں گے جبکہ ہر سوموار کوملک بھر کے وکلا واقعہ کے خلاف احتجاج کیا کریں گے ۔لاہور ہائی کورٹ بار میں ہونے والے اجلاس میں طے کیا گیا کہ سانحہ ڈسکہ کے ملزموں کا 30دن میں فیصلہ نہیں ہوا تو وکلاءسڑکوں پر ہوں گے ۔ہائی کورٹ بار میں ہونے والے اجلاس سے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ ،ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین محمد احسن بھون ،لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی ،سیکرٹری ہائی کورٹ بار بیرسٹر محمد احمد قیوم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر 30دن کے اندر مذکورہ مقدمہ کا فیصلہ نہ ہوا تو پھر ہم قانون کی جنگ نہیں بلکہ سڑکوں پر جنگ لڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 26مئی کو 200مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں جن میں سے 199پرامن تھیں لیکن میڈیا نے صرف ایک ریلی کو ہدف بنائے رکھا ۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ تصویر کے دونوں رخ دکھائے جائیں ۔اجلاس میں وکلاءراہنماﺅں کی طرف سے بتایا گیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت ہوگی ۔اجلاس میں ڈی پی او سیالکوٹ کی معطلی اور ٹی ایم او ڈسکہ کے خلاف انضباطی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔لاہور بار ایسوسی ایشن کی طرف سے پی ایم جی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس سے قبل بار روم میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور بار کے قائم مقام صدر جہانگیر احمد بھٹی اورسیکرٹری جنرل ادیب اسلم بھنڈر نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب اپنے عہدوں سے استعفے دیں ۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے سے سانحہ پر بھی وزیراعلی ٰ تصویریں بنوانے پہنچ جاتے ہیں مگر ڈسکہ کے واقعہ پر کوئی حکومتی عہدیدار اظہار ہمدردی کے لئے وکلاءکے پاس نہیں آیا ۔
حیرت ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس واقعہ پر کوئی ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا ۔پنجاب بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی جی پنجاب کو تبدیل کرکے ان کے خلاف غفلت برتنے کے الزام میں کاروائی کی جائے ۔ڈی پی او سیالکوٹ کو معطل اور ڈی ایس پی ڈسکہ کو نوکری سے برطرف کیا جائے ۔پنجاب بار کونسل نے حکومت کو 24گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ ظالموں کے ساتھ ہے یا مظلوموں کے۔ اس کے بعد حالات کی ذمہ دار حکومت خود ہوگی اور یہ بات وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے استعفے تک جائے گی۔

مزید : لاہور