خلع کی بنیاد پر طلاق:اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کے بیان پر علماءدو حصوں میں تقسیم

خلع کی بنیاد پر طلاق:اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کے بیان پر علماءدو حصوں ...
 خلع کی بنیاد پر طلاق:اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کے بیان پر علماءدو حصوں میں تقسیم

  

 لاہور(خبر نگار خصوصی)اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی نے مطالبہ کیا ہے خلع کے ذریعے خاوند سے طلاق لینے سے متعلق خواتین کا حق ختم کرنے کےلئے مسلم فیملی لاز کی شق 8میں ترمیم کی جائے۔انہوں نے کہا ہے کہ جب تک خاوند راضی نہ ہو عدالتیں طلاق کی ڈگری جاری نہ کریں ۔پاکستان کے فیملی لاز نہ صرف خاتون کو خلع کے ذریعے طلاق کا حق دیتے ہیں بلکہ ان قوانین کے تحت مروجہ نکاح نامے میں بھی یہ شق شامل ہے کہ شوہر خاتون کو طلاق کا حق تفویض کر سکتا ہے ۔اس سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا۔ مولانا راغب نعیمی نے کہا کہ خلع کی بنیا د پر نکا ح ختم نہیں ہو سکتا جب تک شوہر اپنی مرضی سے طلاق نہیں دیتا اس وقت تک طلاق نہیں ہوتی۔عدالت یکطرفہ فیصلہ نہیں دے سکتی۔عدالت کو مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پولیس کو بھیج کر شوہر کو طلب کرے اور نہ ہی شوہر کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کا بیان قابل غور ہے اور اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ فیملی لاز کو اسلام کے مطابق بنانے کےلئے اس میں مجوزہ ترمیم ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے ہشام الہٰی ظہیر کا کہنا ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین کا مطالبہ اسلام کے منافی ہے۔مولانا محمد خان شیرانی کو اپنے مطالبے پر غور کرنا چاہیے۔

جمعیت علماءاسلام (س)کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرحمٰن فاروقی نے کہا کہ جب تک خاوند کا مﺅقف سامنے نہ آئے یکطرفہ فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔عدالت کو حق حاصل نہیں کہ وہ طلاق جاری کرے اور اگر خاوند کے جان بوجھ کر عدالت نہ آنے سے ایک طلاق ہو سکتی ہے ۔جب کہ اسلام میں شوہر اور بیوی کی علیحدہ کےلئے تین طلاقیں ہیں ۔ سابق ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پروفیسر یاسین ظفر نے کہا کہ خلع عورت کا بنیادی حق ہے جس کےلئے وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہے اگر غلط نوٹس جاری ہوتا ہے جس سے خاوند لا علم ہے تو طلاق نہیں ہوتی اور اگر خاوند جان بوجھ کر نہیں آتا تو عدالت طلاق کا فیصلہ دے سکتی ہے اور اگر خلع ہو بھی جائے تو شوہر کو طلاق دینا پڑتی ہے۔

مزید : لاہور