ایف آئی اے(FIA) کے اربابِ اختیار کی فوری توجہ کے لئے!

ایف آئی اے(FIA) کے اربابِ اختیار کی فوری توجہ کے لئے!
ایف آئی اے(FIA) کے اربابِ اختیار کی فوری توجہ کے لئے!

  

اگرچہ پاکستان کے ہفتہ واری سکینڈل پروگرام میں تازہ واقعہ ڈسکہ میں ایک وکیل صاحب کا تھانیدار کے ہاتھوں قتل ہو جانا ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے کا سکینڈل بھی ’’ایگزیکٹ سکینڈل‘‘ کے نام سے خاصی عالم شہرت پا چکا ہے اور پاکستان کا نام ’’مزید روشن‘‘ کر رہا ہے۔ مَیں نے گزشتہ کسی کالم میں لکھا تھا کہ اس قسم کے سانحات سے پاکستان کی مین سٹریم پبلک اب اتنی مانوس ہو چکی ہے کہ کوئی بھی حادثہ /سانحہ/سکینڈل باعثِ حیرت نہیں بنتا۔ ہم پھٹی پھٹی آنکھوں سے سانحے کی تفاصیل کی ویڈیو دیکھتے ہیں، متعلقہ تفصیلات سنتے ہیں اور پھر روزمرہ کے کام کاج میں یوں مشغول جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

دُنیا کے تمام انقلابوں کی تاریخ کا مطالعہ کر لیجئے،ان میں ایک حقیقت آپ کو مشترک نظر آئے گی۔ ہر انقلاب کا آغاز معاشرے کے اخلاقی بگاڑ سے شروع ہوتا ہے۔ ہم پاکستان میں آج جو کچھ بھی ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ اسی اخلاقی انحطاط کی ’’نوید‘‘ دے رہا ہے۔

ایگزیکٹ سکینڈل کی تفصیلات اتنی پیچیدہ اور ’’سٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ حرامزدگیوں سے لبالب ہیں کہ وزارتِ داخلہ کو امریکیFBI سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سکینڈل(Scam) میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی تھی وہ عام پاکستانیوں کی ذہنی اور تفتیشی حدود سے کہیں آگے نکل چکی تھی۔ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا معاشرہ، زوال کی ان حدوں کی طرف جا رہا ہے، جس کا نتیجہ بہت جلد نکل آئے گا۔ ایوا لانچ شروع ہو چکا ہے اور برفانی تودے دامنِ کوہ کی طرف لڑھکتے اور گرتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔۔سطور ذیل میں ایک واقعہ کا ذکر کرنا چاہوں گا جو میرے متذکرہ بالا استدلال کی تائید کرے گا۔

جب سے سوشل میڈیا کا دور دورہ ہوا ہے، پاکستانی معاشرے میں فراڈ کا ایک اضافی تکنیکی باب بھی وا ہو گیا ہے۔میری طرح آپ کو بھی کئی بار اپنے موبائل پر ’’بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ‘‘ یا اسی قسم کی انعامی رقومات کے پیغامات موصول ہوئے ہوں گے، جن میں آپ کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے نئے نئے طریقے ایجاد اور استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن درج ذیل واقعہ اِسی ’’ڈاکہ کلچر‘‘ کی وہ اَپ ڈیٹ ہے جو بالآخر ایگزیکٹ سکینڈل تک جا پہنچی ہے۔

گزشتہ جمعہ(22مئی2015ء) کا ذکر ہے۔ صبح کے ساڑھے نو بجے ہیں۔مَیں حسبِ معمول بعض احباب کے خطوط کا جواب لکھ رہا ہوں۔ اتنے میں ملازم آ کر بتاتا ہے:’’ سر کوئی کاشف صاحب لائن پر ہیں اور آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں‘‘۔۔۔مَیں سوچتا ہوں کہ 5،6 دوست اور عزیز وغیرہ کا نام کاشف ہے۔ لیکن ان سب کے پاس تو میرا موبائل نمبر بھی ہے۔ یہ لائن نمبر پر کون کاشف ہے؟

بہرکیف کمرے سے نکل کر لاؤنج میں جاتا ہوں۔ گفتگو کا خلاصہ سنیئے:

’’ہیلو‘‘

’’سر کیا آپ غلام جیلانی خان صاحب بول رہے؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

’’سر مَیں شان فوڈ انڈسٹری سے بول رہا ہوں۔ ہمارا لاہور دفتر رائیونڈ روڈ پر ہے۔ ہمارے ایم ڈی (منیجنگ ڈائریکٹر) آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ سر میرا موبائل نمبر نوٹ کر لیجئے جو 0423-7030211 ہے۔ ہمارے MD کا نمبر0300-2918863 ہے اور ان کا نام ریحان بخاری صاحب ہے‘‘۔

’’شکریہ‘‘ کہہ کر کاشف صاحب فون بند کر دیتے ہیں۔ مَیں کاشف اور بخاری کے فون نمبر نوٹ کرتا ہوں اور ریحان صاحب کو کال کرتا ہوں۔

’’ہیلو سر، ریحان بخاری ہیر(Here)۔۔۔کوئی سروس؟‘‘

’’مجھے کسی کاشف محمود صاحب نے آپ کا نمبر دیا ہے اور بتایا ہے کہ آپ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

’’سر آپ کا اسم گرامی؟‘‘

’’غلام جیلانی خان‘‘

’’سر آپ کو ہمارا کوئی لیٹر نہیں ملا؟‘‘

’’نہیں‘‘

’’سر آج کل میں مل جائے گا۔ مَیں کراچی ہیڈ آفس سے ’’شان فوڈ انڈسٹریز‘‘ کاMD عرض کر رہا ہوں۔ پیچھے آپ نے شائد لاہور کے کسی سٹور سے ہماری کوئی پراڈکٹ خریدی تھی اور ایک انعامی ٹوکن بھیFill کر کے بھیجا تھا۔ سر! 2مئی 2015ء کو ہماری فرم کی قرعہ اندازی ہوئی ہے جس میں آپ کا انعام نکلا ہے۔ مَیں اس سلسلے میں آپ سے بات کر رہا ہوں؟‘‘

’’کیا انعام ہے؟‘‘

’’سر! سوزوکی کلٹسVXR گاڑی ہے‘‘

’’اچھی بات ہے، بھیج دیجئے‘‘

’’سر، چند ایکFormalities ‘‘ ہیں،مَیں ان کا ذکر کئے دیتا ہوں۔۔۔ ایک تو اپنےIDکارڈ کی فوٹو کاپی ارسال کر دیجئے اور PTCL کی طرف سے جاری کردہ گزشتہ ماہ کے Paid Bill کی ایک کاپی بھی ساتھ بھیج دیں۔‘‘

’’بخاری صاحب، اس قسم کے فراڈ آج کل عام ہو رہے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ بھی فراڈ ہے۔‘‘

’’(ہنستے ہوئے) نہیں سر! یہ کوئی فراڈ نہیں۔ شان فوڈ انڈسٹریز ہر ماہ کئی انعامات تقسیم کرتی ہے۔ کیا آپ ٹیلی ویژن نہیں دیکھتے سر؟‘‘

’’بخاری صاحب یہ بتایئے کہ کار کے حصول میں مجھے اور کیا کرنا ہو گا؟‘‘

’’سر کچھ نہیں۔ ہمارے لاہور آفس کی ایک ٹیم آپ کے پاس جلد حاضر ہو گی۔معلوم نہیں اتنی دیر کیوں ہو گئی ہے۔ وہ سوزوکی کلٹس ساتھ لائے گی‘‘ ایک ٹیلی ویژن ٹیم بھی ساتھ ہو گی۔ آپ انعامی گاڑی کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ وہ اشتہاری ویڈیو ہم بڑے بڑے ٹی وی چینلوں کے ذریعے عام کریں گے۔ سر، یہ ہماری پروموشن کمپین کا حصہ ہے۔ فکر نہ کریں۔ ’’فراڈ وراڈ‘‘ نہیں ہے۔ آپ لاہور میں ہمارے بزنس منیجر ذوالفقار چیمہ سے بات کر لیں۔ ان کا نمبر042-35019423 ہے۔ مزید تفصیل وہ آپ کو عرض کریں گے‘‘۔

مَیں بخاری صاحب کی ’’مہذب گفتگو‘‘ سے متاثر ہوتا ہوں اور یہ خیال بھی کرتا ہوں کہ ابھی تک ان لوگوں میں سے کسی نے بھی مجھے ’’سر مبارک ہو، آپ کی کار نکلی ہے‘‘ جیسے الفاظ نہیں کہے جو ایسی وارداتیں کرنے والوں کا تکیہ کلام ہوتے ہیں۔

مَیں لاہور میں ذوالفقار چیمہ کو فون کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں:’’سر، میرا دفتر ٹھوکر نیاز بیگ سے آگے ملتان کی طرف جائیں تو مانگا منڈی سے ایک میل پیچھے سڑک کے دائیں طرف ہے۔ بڑا سا بورڈ آپ کو نظر آئے گا جس پر ’’شان فوڈ انڈسٹریز‘‘ لکھا ہوا ہے۔ مَیں وہیں بیٹھتا ہوں۔ تھینک یو سر، جلد حاضر ہوں گے۔۔۔۔ اگر ہمارا لیٹر آپ کو نہیں ملا تو دفتر میں تشریف لائیں۔ مَیں آپ کو ایک اور کاپی نکال کر دے دوں گا۔ میرا یہ دفتر ’’النور پلازہ‘‘ میں ہے۔‘‘

’’آپ بمعہ کار اور ٹی وی ٹیم میرے دولت خانے پر کب حاضری دیں گے چیمہ صاحب؟‘‘ ۔۔۔ مَیں ان سے از راہِ مذاق پوچھتا ہوں۔

’’سر، یہ گاڑی کراچی سے آئے گی، کب آئے گی یہ آپ کو اشفاق کارگو، ٹرانسپورٹ کمپنی کراچی والے بتائیں گے۔ ان کے انچارج کا نام میاں امجد ہے اور ان کا فون نمبر 0321-8865148 ہے۔‘‘

مَیں میاں امجد صاحب کو کال کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:’’سر! ہمارا ایک کنٹینر آج (جمعہ) ایک بجے لاہور جا رہا ہے۔ اس میں ایک گاڑی لوڈ کرنے کی گنجائش ہے۔ اگر آپ کہیں تو مَیں اسی لاٹ میں آپ کی گاڑی بھیج دوں؟‘‘

’’میاں صاحب! مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے، آپ ضرور بھیج دیجئے۔‘‘

’’سر، مَیں آپ کو یہ بھی انفارم کرنا چاہوں گا کہ اس کار کی ٹرانسپورٹیشن کا خرچہ آپ کے ذمہ ہو گا۔‘‘

’’کتنا خرچہ ہوتا ہے؟‘‘

’’دوسرے لوگوں سے تو ہم14000روپے لیتے ہیں لیکن ’’شان فوڈ‘‘ والوں سے، چونکہ ہمارا معاہدہ ہے۔ اس لئے ہم آپ سے صرف 9500 روپے لیں گے‘‘۔

’’کیا مَیںCheque ‘‘ بھیج دو؟‘‘

’’نہیں سر، چیک کی ضرورت نہیں۔ آپ کی گاڑی اتوار کی شام لاہور ڈرائی پورٹ پر پہنچے گی۔ ہمارا ڈرائیور گاڑی لے کر خود آپ کے گھر حاضر ہو گا۔ جب وہ چابی آپ کے حوالے کرے تو اس وقت آپ اس کو 9500 روپے ادا کر دیں۔‘‘

’’قارئین محترم!اب تک مَیں نے جو کچھ سطورِ بالا میں تحریر کیا ہے، کیا اس میں کسی فراڈ کا کوئی شائبہ آپ نے محسوس کیا؟۔۔۔ کیا کوئی شک گزرا کہ یہ سب جھوٹ ہے؟۔۔۔ اتنے مختلف لوگ، اتنے ٹیلی فون نمبر اور اس قسم کی مودبانہ گفتگو اگر آپ کے ساتھ ہوتی تو آپ کو بھی ان باتوں پر یقین آنے لگتا۔۔۔۔ مجھے بھی یقین سا آنے لگا۔۔۔۔ پھر اس کے بعد کا ’’وقوعہ‘‘ سنیئے:

تقریباً ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو گا جب میاں امجد کا دوبارہ فون آیا۔ مجھے کہا:’’ سر، یہ آدم جی انشورنش والے آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر میاں امجد نے اپنا موبائل کسی آدم جی انشورنس کے اہلکار کو دے دیا۔ وہ بولا:’’ سر، آپ کی گاڑی کی انشورنس فیس درکار ہے۔‘‘ مَیں نے ان سے کہا کہ میاں امجد صاحب کو فون دیں اور پھر ان سے کہا:’’ امجد صاحب جو ڈرائیور اتوار(24 مئی 2015ء) کی شام میرے پاس گاڑی لائے گا، اس کو مَیں آپ کے9500روپے بھی دے دوں گا اور بیمہ کی رقم بھی ادا کر دوں گا۔‘‘

’’نہیں سر، یہ انشورنس والے نقد پیسے لیتے ہیں۔ آپ نے ان کو8000روپے نقد دینے ہیں۔ یہ چیک نہیں لیتے۔ آپ بذریعہ ’’ایزی پیسہ‘‘ ان کو 8000 روپے ابھی بھجوا دیں! کوئی شک ہو تو ہمارے اسلام آباد آفس میں چودھری سعید صاحب سے بات کر لیں۔ ان کا نمبر051-2550830 ہے۔‘‘

مَیں نے فوراً سعید صاحب کا نمبر ملایا۔ وہ تھوڑی دیر ’’کاغذات‘‘ دیکھتے رہے اور پھر بولے: ’’ سر! آپ انشورنس والوں کو بجائے 8000 روپے دینے کے 5000روپے دے دیں اور باقی کار ملنے پر ڈرائیور کو ادا کر دیں۔ مَیں کراچی والوں کو فون کئے دیتا ہوں۔ ہمارے اکاؤنٹس آفس کراچی کا نمبر 021-35428819 ہے۔‘‘

یہ سُن کر پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ یہ سب فراڈ ہے۔ آٹھ ہزار سے ایک دم پانچ ہزار پر آنا اور پھر ’’ ایزی لوڈ‘‘ کا مطالبہ کرنا۔۔۔۔ مَیں نے سعید چودھری کو کہا:’’ مَیں کل کراچی جا رہا ہوں۔ ائر فورس والے میرے دیرینہ مہربان ہیں۔ وہ کل C-130کے ذریعے مجھے اور میرے ڈرائیور کو مفت کراچی پہنچا دیں گے۔ وہاں مَیں آپ کے شان فوڈ کے ہیڈ کوارٹر سے اپنی Cultus VXR وصول کر کے اپنے ڈرائیور کے حوالے کروں گا اور اللہ اللہ خیر سلا۔‘‘

یہ سننا تھا کہ سعید چودھری نے فون ڈراپ کر دیا۔ مَیں نے دوبارہ ان چھ نمبروں پر باری باری Ring کیا لیکن سب کے سب بند ملے۔۔۔۔

یہ واقعہ مَیں نے اس لئے آپ کو سنایا ہے کہ ’’بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ‘‘ کے20,000 روپوں کی نوید سے بات آگے نکل کر پہلے دس لاکھ کی کار تک پہنچی، جس میں چھ سات ’’صاحبانِ علم و دانش‘‘ Involve تھے۔ اور پھر وہاں سے نکل کر شعیب شیخ کے ایگزیکٹ سکینڈل تک کا فاصلہ طے کیا، جس کا ماہانہ منافع لاکھوں ڈالر بتایا جاتا ہے اور شیخ صاحب کے مطابق اگلے چند برسوں میں پاکستان کو اس کاروبار کی مد میں ’’50ارب ڈالر‘‘ کا سالانہ منافع حاصل ہوا کرے گا!

آخر میںFIA کے اربابِ اختیار سے درخواست ہے کہ مَیں نے اس چھوٹے سے کار سکینڈل کے سب کرداروں کے نام اور ان کے فون نمبر اس کالم میں لکھ دیئے ہیں۔ ان نوسر بازوں کو ٹریس کرنا کیا مشکل ہے؟ کیا FIA کا کوئی آفیسر، ان ’’بھلے مانسوں‘‘ کو پکڑ کر ان سے پوچھے گا کہ انفرادی فراڈ کلچر سے گروپ فراڈ کلچر تک کا فاصلہ کیسے طے ہوا؟

مزید : کالم