پنجاب ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن

پنجاب ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن
 پنجاب ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن

  

کسی بھی ملک کا جمہوری نظام دو بنیادی اصولوں کا احاطہ کرتا ہے ایک تمام شہریوں کے یکساں حقوق اور دوسرے عوام کے مسائل حل کرنا ہے ۔ اس تناظر میں اہل پنجاب بڑے خوش قسمت ہیں کہ انہیں محمد شہباز شریف کی صورت میں ایک ایسا وزیر اعلیٰ ملا ہے جو عوام دوست اور انتہائی متحرک رہنما ہیں ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا طرز حکمرانی کا ویژن اگر دو لفظوں میں بیان کرنا مقصود ہو تو یہ صرف ’’عوامی فلاح ‘‘ہے ۔ حکومت پنجاب کی صوبے کو ترقی دینے کی دن رات سعی اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ عوام کے لئے وقف کر رکھا ہے اور انہوں نے ہمیشہ عام آدمی کے مفاد کو ترجیح دی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے توانائی ، انفراسٹرکچر ،تعلیم ،صحت، مواصلات اور امن عامہ کے شعبوں میں اپنے قائدانہ کردار کی بدولت انقلابی اقدامات کئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی زیر قیادت ہر شعبہ زندگی میں ریکارڈ تعداد میں ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں اور ان منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت اور گڈ گورننس کے کلچر کو اس طرح ملحوظ رکھا گیا ہے کہ بد عنوانی اور لوٹ مار کا عنصر ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔

در حقیقت ان تمام ترقیاتی سرگرمیوں کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا یہ پختہ یقین ہے کہ ریاست کے تمام وسائل پر بجا طور پر عوام کا حق ہے اور حکومت وقت اس وسائل کو مقدس امانت سمجھتے ہوئے انہیں عوام کی فلا ح و بہبود اور ترقی پر خرچ کرنے کی پابند ہے کیونکہ وہ نہ صرف عوام کو جواب دہ ہے ۔ دور حاضر سفارتکاری اور سرمایہ کاری کا زمانہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس عصری تقاضے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عوام کے خادم کی حیثیت سے دن رات کام کرنے والے سیاستدان کے علاوہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی ہمہ پہلو شخصیت کو ما لیاتی ڈسپلن کے حوالے سے بھی ممتاز مقام حاصل ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جہاں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ، میرٹ ایمانداری کی شاندار روایات قائم کی ہیں وہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے فنڈز میں بچت کی روایات کو پروان چڑھایا ہے ۔ اور قومی دولت کو عوام کی امانت سمجھتے ہو ئے استعمال کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے میگا پرا جیکٹس سے 215ارب روپے کی بچت کی ہے اور یہی رقم اب تعلیم، صحت، عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ ہو رہی ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں ترقیاتی منصوبوں سے رقم بچانے کی مثال نہیں ملتی بلکہ بڑے بڑے منصوبوں سے کمیشن اور کرپشن سے جیبوں کو بھرا جاتا رہا ہے ۔ اس کے برعکس وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں سے اربوں روپے بچائے ہیں ۔ پیپرارولز کے مطابق کسی بھی منصوبے میں کم بولی دینے والے کو کام الاٹ کر دیا جا تا ہے ۔ مگر وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے کم بو لی دینے والے کے ساتھ بھی گفت وشنید کرکے مزید رقم کم کرائی ۔ حکومت پنجاب نے بلوکی پاور پراجیکٹ سے 39.44ارب روپے کی بچت کی ،بھکی پاور پلانٹ (1180میگاواٹ) 37.21 ارب روپے ، حویلی بہادر شاہ پاور پراجیکٹ سے 34.28ارب روپے ، اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے سے مجموعی طور پر 78.50ارب روپے ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پراجیکٹس سے 11ارب روپے ، میٹرو بس منصوبوں سے 4.6ارب روپے ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز کے قیام کے منصوبے سے 3.8ارب روپے اپنا روزگار سکیم سے 2.8ارب روپے ، قائداعظم سولر پارک پراجیکٹ سے 2.10ارب روپے ، آبپاشی کے منصوبوں سے ایک ارب روپے ،پینے کے صاف پانی کے منصوبوں سے 25کروڑ روپے اور بسوں کی خریداری سے 20کروڑ روپے کی بچت کی گئی۔

موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالاتو اسے توانائی کا بحران ورثے میں ملا ۔ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کی قیادت میں حکومت نے لوڈشیڈنگ کے عفریت سے نجات دلانے کا چیلنج قبول کیا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ حکومت نے توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا ہو ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے چین سمیت کئی ملکوں کے دورے کئے اوروہاں کی پاور کمپنیوں کو پاکستان میں توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا ۔ حکومت پنجاب نے نہ صرف تھرمل بلکہ سولر ، کوئلے اور ونڈکے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے لئے پرا جیکٹس شروع کئے ہیں ۔ 1320میگا واٹ کے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ، 1223میگا واٹ کے بلوکی پاور پراجیکٹ، 1180میگا واٹ کے بھکی پاور پلانٹ، 1230میگا واٹ کے حویلی بہادر شاہ پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور ان منصو بوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اسی طرح قائد اعظم سولر پارک سے بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگئی ہے اور اس منصوبے سے 1000میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام جاری وساری ہے ۔ اسی طرح ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لئے جنوبی پنجاب میں ڈنمارک کی کمپنی ویسٹاز کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے ۔اور راجن پور کے علاقے میں 250میگا واٹ کے 4میگا ونڈ پاور پلانٹ لگائے جائیں گے ۔ جبکہ رحیم یار خاں میں بھی چینی کمپنی نے 660میگا واٹ کے دو کول پاور پلانٹ لگانے کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں ۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے 2018ء تک ملک سے اندھیرے دور ہو جائیں گے اور وطن عزیز پر رو شنیوں کا راج ہوگا ۔ توانائی کی بحالی سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ صنعت کا پہیہ پہلے سے زیادہ رواں دواں ہوگا ، روز گار کے مواقع پیدا ہونگے اور غریب کا چولہاجلے گا ۔

حکومت پنجاب نے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی ولولہ انگیز قیادت میں صوبہ کے عوام کو جدید اور بین الاقوامی معیار کی آرام دہ تیز رفتار اور با کفایت سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں جدت آئی ہے ۔ صوبائی دارلحکومت میں دوست ملک ترکی کی معاونت سے میٹروبس سسٹم متعارف کرایا ۔لاہور میں میٹرو بس منصوبہ 11ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرایا جس پر ترکی کے ماہرین حیران رہ گئے ۔ لاہور میں یہ سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے اور روزانہ لاکھوں لوگ اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ لا ہور میں میٹرو بس کی کامیابی کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہر میں پاکستان میٹرو بس سروس سسٹم بھی کا میابی سے چل رہا ہے ۔ ملتان میں یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اس کے بعد فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں میٹرو بس چلائی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے بس ا سی پراکتفا نہیں کیا بلکہ اب لاہور میں اورنج لائن میٹروٹرین منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ ٹرین ٹریک کی لمبائی 27.1کلو میٹر ہے 25.4کلو میٹر حصہ زمین سے اوپر ہے جبکہ 1.7کلو میٹر زیر زمین ہے اورنج لائن ٹرین کے آغاز سے روزانہ تقریباًاڑھائی لا کھ مسافر سفر کریں گے بعد ازا ں یہ تعداد 5لا کھ یو میہ ہو جائے گی ۔ اڑھائی گھنٹے میں طے ہو نے والا سفر صرف 45منٹ میں طے ہوگا۔ یہ منصوبہ چین کی طرف سے پاکستان کے شہریوں کے لئے ایک تحفہ ہے ۔ چین کے بنک ایگزم بنک نے اس منصوبے کے لئے آسان شرائط پر فنڈز فراہم کر رہا ہے ۔ اور تقریباً 33ارب کی پہلی قسط بھی جاری کردی ہے جو پاکستان کی قیادت وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف پر اظہار اعتماد ہے ۔لا ہور اورنج لائن ٹرین کی لاگت دوسرے ممالک میں بنائی جانے والے میٹرو ٹرینز کے مقابلے میں نسبتاًکافی کم ہے ۔ اس پرا جیکٹ کی تعمیر سے متاثر ہو نے والی جائیدادوں کے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کے لئے حکومت پنجاب نے 20ارب روپے مختص کئے تھے جو متاثرین کو شفاف انداز میں ادائیگی کی گئی ہے ۔ حکومت پنجاب صرف شہری علاقوں کی ترقی پر کام نہیں کررہی بلکہ دیہی علاقوں کے لوگوں بھی بنیادی ذرائع نقل و حمل کی فراہمی کے لئے خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کا آغاز کیا ہے ۔ اس پروگرام پر تین سالوں میں 150ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ اس پروگرام کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلہ پر کام جاری ہے ۔ اس منصو بے سے کسانوں کو اپنی پیدوار بر وقت منڈیوں تک رسائی ممکن ہو جائے گی ۔ اس کے علاوہ طلبا و طالبات اپنے سکولوں اور مزدور اپنی ملازمت کے مقام پر وقت پر پہنچ سکیں گے ۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں ٹریفک کے بہاؤ میں روانی کے لئے انڈرپاسز اور ہیڈ برجز اور سگنل فری روڈ ز تعمیر کی ہیں۔اسی طرح دیہی علاقوں کے لوگوں کو پینے کے صاف پا نی کی فراہمی کے لئے تیزی سے کام جاری ہے اور اس منصوبے پر70ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں جس سے 4کروڑ سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر ہو گا ۔

دیگر شعبوں کی طرح صوبے کے بچوں کو تعلیم کے زیور آراستہ کرنا حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے ۔ حکومت پنجاب نے تعلیم کے فروغ اور اس شعبے کی بہتری لئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکومت پنجاب نے ہو نہار طلبا وطالبات جو کہ کم آمدنی کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے تھے کے لئے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کا اجراء کیا اور دو ارب روپے کی سیڈ منی سے شروع ہونے والے انڈومنٹ فنڈ کا حجم 14ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور ایک لاکھ سے زائد مستحق طلباء وطالبات 5ارب 61کروڑ روپے کے وظائف تقسیم کر چکا ہے ۔اس پروگرام سے صوبہ پنجاب کے علاوہ بلوچستان ، خیبر پختوانخوا، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر ، فاٹا اور اسلام آباد کے ذہین اور مستحق طلبا ء وطالبات کو وظائف دئیے جا رہے ہیں ۔ اسی طرح چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر ،فاٹا اور اسلام آباد کے پو زیشن ہولڈرز طلباء وطالبات کو نقد انعامات بھی دئیے جارہے ہیں اور گذشتہ سات برسوں میں ایک ارب روپے سے زائد کے نقد انعامات پو زیشن ہولڈرز میں تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ ذہین طلباء و طالبات میں آٹھ ارب روپے سے زائد کے دو لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ہیں ۔ حکومت پنجاب نے ای لرننگ پروگرام کا آغاز کیا ہے ۔ سکولوں میں پانچ سال تک کے بچوں کی سو فی صد حاضری یقینی بنانے کے لئے ’’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب‘‘ شروع کیا گیا ہے ۔

حکومت پنجاب نے صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں اور محکمہ صحت کے بجٹ کو گئی گنا بڑھا دیا گیا ہے رواں مالی سال میں صحت کے شعبے کے لئے 166ارب 33 کروڑ روپے رکھے ہیں ۔ جو کہ کل بجٹ کا چودہ فی صد ہے صوبے کے تمام ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں ۔ صوبہ میں پانچ نئے میڈیکل کالجز قائم کئے گئے ہیں ۔ بہاولپور میں 410بستروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے ۔ بنیادی و دیہی مراکز صحت کے علاوہ تحصیل ہیڈکوارٹرزہسپتال اور ڈی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے ۔ نرسوں کی ہزاروں نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں اور 50ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپر وائزرز کو مستقل کیا گیا ہے ۔جگر گردے کے مریضوں کے علاج کے لئے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جا رہا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا ہسپتال ہوگا جہاں پر غریبوں کا مفت علاج ہو گا ۔ اس کی تکمیل سے جگر کے مریضوں کو پیوکاری کے لئے اب بھارت ، چین یا کسی اور ملک جانا نہیں پڑے گا ۔ 2017ء میں انسٹی ٹیوٹ کا 200بیڈز پر مشتمل حصہ فنکشنل ہوجائے گا۔ اسی طرح غیر معیاری ، ملاوٹ شدہ خوراک ، ادویات اور زرعی ادویات وسپرے کی چیکنگ کے لئے بین الاقوامی معیار کی پہلی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کر دی گئی ہے ۔

حکومت پنجاب نے صوبے کے بے روزگار افراد کو روزگار کی فراہمی کے لئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں تا کہ وہ باعزت طور پر اپنا کام شروع کرکے اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں ۔ حکومت نے صوبے کے بے روزگار ہنر مند وں کے لئے خود روزگار سکیم کا جراء کیا ہے اب تک اس سکیم کے تحت 4برسوں میں 16ارب 30کروڑ روپے کے بلا سود قرضے 8 لاکھ 67ہزار سے زائد غریب خاندانوں میں تقسیم کئے جا چکے ہیں ۔ اس میں قرضوں کی واپسی 99فی صد سے بھی زائد ہے ۔ اس سکیم کی خوبی یہ ہے کہ مستحق خاندانوں کو تین برسوں میں 20لا کھ خاندانوں میں 40ارب کے بلا سود قرضے تقسیم کئے جا ئیں گے ۔ اسی طرح حکومت پنجاب نے 31 ارب روپے سے’’ اپنا روز گار ‘‘کا انقلابی پروگرام شروع کیا ہے اس پروگرام کے تحت 50ہزار گا ڑیاں نہایت شفاف اور کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے بیروزگار نوجوانوں کو دی ہیں ۔ حکومت نے خصوصی مستحق افراد کی بحالی کے لئے پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے پہلے پروگرام کاآغاز کیاہے جس کے تحت خصوصی افراد کو خدمت کارڈ دئیے جا رہے ہیں۔اس سکیم سے صوبہ بھر کے 2لاکھ خصوصی افراد مستفید ہوں گے۔ مستحق افراد کو 3600روپے سہ ماہی دئیے جائیں گے اور پہلے مرحلے میں 2 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔رقم کی ادائیگی اے ٹی ایم اور بینک آف پنجاب کے مقرر کردہ ادائیگی مراکز سے ہوگی۔حکومت پنجاب ایک اور سنگ میل وتاریخ ساز کام لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن ہے جو مکمل ہو گیاہے ۔پنجاب کی تمام 143تحصیلوں میں اراضی ریکارڈ سنٹرز نے خدمات کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ اب فرد صرف 30منٹ اور انتقال اراضی کا عمل 45منٹ میں مکمل ہورہاہے۔اس جدید نظام سے عوام کو نہ صرف پٹواریوں کی چیرہ دستیوں سے نجات ملے گی بلکہ کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ ہوگا۔

صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے،سٹریٹ کرائمز کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ ڈولفن فورس قائم کی گئی ہے ۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے نئی فورس کارپورلزقائم کرنے کے علاوہ قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں اور سزاؤں میں اضافہ کیا گیاہے اسی طرح سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیاگیا ہے اور چین کی کمپنی ہواوے کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں اسی پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں لاہور کو سیف سٹی بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت صرف لاہور میں 8023کیمرے لگائے جائیں گے جبکہ 800گاڑیوں پر بھی جدید کیمرے لگیں گے جس کے تحت سرویلنس کا نظام جدید خطوط پر استوار ہوگا۔لاہور کے بعد پنجاب کے 4دوسرے شہرو ں گوجرانوالہ ، راولپنڈی ، فیصل آباد اور ملتان میں سیف سٹیزپراجیکٹ پر بیک وقت کام شروع ہوگا۔ حکومت پنجاب نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں جس کے تحت خواتین پر تشدد کے خلاف قانون کی منظوری دی گئی۔خواتین کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے ’’سکوٹیز‘‘دینے کے پروگرام کا اجراء کیا جائے گا۔سرکاری ملازمت میں خواتین کے لئے 15فیصد کوٹہ مختص کیا گیاہے۔ خواتین کے لئے ان کے دفاتر کے نزدیک ڈے کئیر سنٹرز کا قیام اسی طرح غریب وبیوہ دیہی خواتین کی بہبود کے لئے خواتین میں مرحلہ وار مویشیوں کی تقسیم کا آغاز کیا گیا اور دیہی خواتین میں اب تک 15ہزار سے زائد مویشی تقسیم کئے گئے ہیں۔

وزیراعلی پنجاب نے بھٹہ خشت پر بچوں کی مشقت کو سنگین جرم قرار دے دیاہے اور تقریبا صوبہ بھر میں بھٹہ خشت پر بچوں کی مشقت ختم کر دی گئی ہے۔ بھٹو ں پر کام کرنے والوں بچوں کی تعلیم کے لئے خصوصی پیکیج دیاہے جس کے تحت سکول جانے والے ہر بچے کو 100فیصد مفت تعلیمی اخراجات کے علاوہ ایک ہزار روپے ماہانہ خصوصی وظیفہ دیا گیاہے۔ بچوں کو فری کتابیں ، سٹیشنری ، یونیفارم ، جوتے ،سکولز بیگ دئیے گئے ۔وزیراعلی نے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے آرڈیننس کی منظوری دی ہے۔آرڈیننس کے مطابق چائلڈ لیبرپربھٹہ مالکان کو 6ماہ تک قید 5لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔چائلڈ لیبر کا بھٹہ بھی سیل ہوگا۔اب تک ہزاروں بچوں کو بازیاب کروا کر سکولوں میں داخل کروایا گیاہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ہوٹلوں، ورکشاپوں، دکانوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمہ کاحکم دے دیاہے۔

دیگر شعبوں کی طرح حکومت پنجاب نے زرعی شعبے کی ترقی اور کسانو ں کی فلاح وبہبود کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں اور رواں مالی سال میں اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ کسانوں کو زرعی آلات اور دیگر اشیاء کی فراہمی کے لئے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کی ہے ۔وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کسانو ں کے لئے 341ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیاہے۔صوبہ میں 5ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کی مالی معاونت کی ہے۔اس طرح ڈی اے پی کھاد کی بوری میں 500روپے کمی ہے ۔وزیراعلی محمد شہبازشریف کی زیر صدارت زرعی کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جس میں وزیراعلی نے کسانوں کی خوشحالی و ترقی،زرعی پیداوار میں اضافہ کے لئے 100ارب روپے آئندہ 2برسوں میں خرچ کرنے کا اعلان کیا۔حکومت پنجاب نے ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے کے لئے پنجاب ریونیو اتھارٹی کے زیر اہتمام ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم امانت سکیم کا اجراء کیا۔ اس کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی کے پاس رجسٹرڈ ریسٹورنٹ سے کھانا کھانے والے افراد ہوٹلوں سے پکی رسید حاصل کر کے اس کانمبر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ایس ایم ایس کردیں جس کے بعد شفاف انداز میں بذریعہ قرعہ اندازی لاکھوں روپے مالیت کے انعامات جن میں ہونڈا،ٹیوٹا کرولا اور موٹر سائیکلیں، عمرہ ، ٹی وی ، فریج ، ایل سی ڈی کے انعامات دئیے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اپنے دست مبارک سے جیتنے والے خوش نصیبوں کوانعامات دئیے ہیں۔ اس سکیم کی قرعہ اندازی میڈیا کے نمائندوں کے ہمراہ شفاف اور میرٹ پر کی گئی ہے۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں صوبہ ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے ۔ منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت کے معیار کا اعتراف نہ صرف ملکی، بلکہ غیر ملکی اداروں اور اہم شخصیات نے کیا ہے۔ اب صوبہ پنجاب دوسرے صوبوں کے لئے رول ماڈل بن چکا ہے ۔

مزید :

کالم -