حضرت محبوبِ ذات سید احمد حسین گیلانی ؒ

حضرت محبوبِ ذات سید احمد حسین گیلانی ؒ

ظہور کاظمی:

سیّد السالکین السیّد احمد حسین گیلانی کنیت مویدالدین ابو محمد اور خطاب محبوبِ ذاتؒ ہے۔آپ کی ولادت باسعادت12ربیع الاول 1314ھ،منڈیر شریف سیّداں ضلع سیالکوٹ میں ہوئی۔آپ کا شجرۂ نسب والد ماجد کی طرف سے حضرت امام حسن علیہ السلام اوروالدہ ماجدہ کی جانب سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی وساطت سے حضرت علیؓ سے جا ملتا ہے۔آپ ربِّ ذوالجلال کے نور سے فیض یاب ہوتے ہوئے جوانی کی دہلیز تک پہنچے تو آپ کا باطن اور باطنی شعور کی نسبت براہ راست سرکارِ بغداد سر تاج اولیاء محبوبِ سبحانی،قطبِ ربانی ،شیر یزدانی ،غوثِ صمدانی حضرت شیّخ سیّدعبدالقادر جیلانی ؒ کے ساتھ قائم ہو گئی۔

حضرت محبوب ذات ؒ کے دِن خدمتِ خلق اور راتیں عبادتِ الٰہی میں بسر ہوتیں۔آپ بے مثال و باکمال پیر طریقت تھے۔طریقت کا مخالف جب بھی کبھی کوئی آتا توطریقت کا قائل ہوجاتا۔یعنی دِل کی گہرائیوں سے راہِ حق کوقبول کر لیتا چنانچہ آپ کے حلقہ ارادت میں ہرمکتب فکر کا طالب علم رہا،اہل حدیث،اہل تشیع ،عیسائی ، ھندو سکھ غرض ہر ایک دین و مذہب اور فرقے کا پیرو کار آپ کے سلسلہ ارادت میں شمولیت کو فخر سمجھتا تھا ۔

حضرت محبوبِ ذاتؒ جوانی کے ایام میں مری کے جنگلات جو شیروں چیتوں اور دیگر موزی جانوروں سے بھرے پڑے تھے۔رات بھر بے خوف وخطر عبادتِ میں مشغول رہتے اور اگر کسی وقت تھکن یا غلبہ نیند محسوس کرتے تو اپنی آنکھوں میں مرچیں ڈال لیتے،اپر باڑیاں کے قریب آپ کے فیض سے ایک چشمہ جاری ہواجوکہ لا علاج مریضوں کے لئے شفاءِ کامل تھا،اِسی چشمہ کو انگریزوں نے باؤلی کا نام دیا۔جو اب تک شیروں کی باؤلی کے نام سے مشہور ہے۔چشمہ کے قریب ہی ایک درخت جسے آپ نے لوگوں کے اسرار پر کہ سرکار ؒ آپ یہاں سے تشریف لے گئے تو ہم آپ کو کہاں تلاش کرتے پھریں گے۔جس پر آپ ؒ نے درخت کو سدا سہاگن قرار دیا اور فرمایاکہ اس میں شفاء ہے ،یہ نہ تو پت جھڑ کے موسم میں جھڑے گا اور نہ ہی خشک ہو گا۔اس درخت کا پتہ صرف ٹوٹنے سے ٹوٹے گا اور اتنا سخت کڑوا ہو گاکہ جو کھائے گا شفاء یاب ہو گا۔

حضرت محبوب ذات ؒ تبلیغ اسلام کے لئے ہمہ وقت سفر پر ہی رہا کرتے تھے۔آپ نے30 سال تک ہندوں میں شمع اسلام روشن کی اور ہندستان کا شاید ہی کو شہر ایسا ہو گا جہاں آپ نے تبلیغ اسلام کے لئے سفر نہ کیا ہو۔ان میں بنارس، انبالہ،جبل پور،الہ ٰ آباد،الموؤں لکھنو ،لال کڑتی میں تو آپ ؒ نے ایک عرصہ تک قیام کیا۔آپ ؒ نے ہندؤں سکھوں عیسائیوں اور غیر مذاہب کے لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔آپ کی گفتگو تبسم نہاں اور نگاہِ پاک باز میں اِتنی تاثیر موجود تھی کہ لوگوں کے دلوں میں اُتر جاتی اُن کا دل باغ باغ ہو جاتا ۔

1921ء خدمتِ خلق اور اتحادِ بین المسلمین آپ ؒ کا نصب العین تھا۔ہر نماز کے بعد یہ دُعا فرماتے کہ یااللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ پاک محمد الرّسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری کی ساری اُمت کے گناہوں کو معاف کر دے،انہیں جنت میں رہنے کے قابل بنا دے ،تمام مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پر گامزن کر دے،انہیں سچا مسلمان بنا دے،اِن کا ایمان پختہ کر دے،دینِ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کے دے، اسلام کا پرچم لہرادے،اسلا م کا سِکہ کُل روئے زمین پر چلا دے، سب کے کبیرا صغیرا گناہ معاف کر دے،پم سب کو اپنے میں بندوں شمار کر لے،سب کو سچا پکا نمازی بنا دے۔یا اللہ میرے سارے دوستوں کو اپنے دوستوں میں قبول فرما۔آمین !

حضرت محبو بِ ذات ؒ کے چار صا حبزادگان ہیں۔سب بڑے حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانی ؒ آپ 10محرم الحرام1445ھ 21جولائی 1936ء بٹالہ شریف ،انڈیا میں پیدا ہوئے۔آپ ؒ نے اپنے والدماجد کی حیات طیبہ میں کاشتکاری کے فرائض سر انجام دئیے۔حضرت محبوبِ ذات ؒ کے وصال کے بعدآپ کو سجادہ نشینی کے منصب پر فائض کیا گیا،آپ 36سال منڈیر شریف سیّداں کے سجادہ نشین رہے،آپ نے ایک کتاب ’’ملفوظات محبوبِ ذات ؒ ‘‘ تصنیف کی ابھی دوسری کتاب کی کمپوزنگ جاری تھی کہ 20مارچ 1998ء کو وصال فرما گئے۔

حضرت محبوبِ ذات ؒ کے دوسرے فرزند حضرت سیّد اقبال احمد حسین گیلانی 26مارچ1931ء جبل پور بھارت میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے والد ماجد کے زمانہ میں ٹھیکیدری کرتے،آپ نے کئی مربے بنجر زمینون کو آبادکیا۔آپ کو حضرت محبوبِ ذات ؒ نے ہمیشہ کنٹرول صاحب کے لقب سے یاد فرمایا سرکار پاک کے وصال کے بعد سے ابتک دربار شریف کا کنٹرول آپ ہی کے ذمہ ہے۔بحیثیت سجادہ نشین منڈیر شریف سیّداں فرائض انجام دے ہے ہیں۔

آپؒ کے تیسرے صاحبزادے حضرت سیّد افتخار احمد حسین غوث گیلانی ؒ ۔آ پ 30 ستمبر1936ء کو انبالہ بھارت میں پیدا ہوئے،1969 ء آپ نے اپنے برادرِ حقیقی سیّد اقبال احمد حسین گیلانی کے ساتھ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔آپ ؒ نے جامعہ غوثیہ وزیر آباد سے دورۂ قرآن۔جامعہ نعمانیہ سے دورۂ حدیث اور جامعہ نعیمیہ لاہور سے درسِ نظامی،فقہ اور بعد میں قاضی کورس کیا۔آ پ کی تصانیف میں مشعلِ راہ،شجرۃ النبی ؐ،راہِ ہدایت، حدیقۂ مصطفی، شجرہ ہائے نسب و طریقت،علم شریعت اور مراۃ الرّحمٰن،آپ کی شہرہ آفاق تصانیف وتالیف ہیں۔آپ ؒ آخری چار سال منڈیر شریف سیّداں کے سجادہ نشین رہے۔

حضرت محبوبِ ذات ؒ کے چوتھے صاحبزادے حضرت سیّد امجد علی امجد ؔ گیلانی۔آپ 12اگست1941ء ،منڈیر سیّداں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے،آپ نے مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے کیا۔بلند پایہ شاعر، حقیقی اور مجازی دونوں طرح کی شاعری میں حقیقت کا رنگ نما یاں ہے ۔ اسلام آباد میں مقیم اپنے والد گرامی قدر کے مشن کو پاےۂ تکمیل تک پہنچانے میں کوشاں ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1