امریکہ سمیت دنیا کے 7طاقتور ممالک چین کیخلاف متحدہ ہوگئے ، نیا خطرہ ، کشیدگی کو ہوا نہ دی جائے:بیجنگ

امریکہ سمیت دنیا کے 7طاقتور ممالک چین کیخلاف متحدہ ہوگئے ، نیا خطرہ ، کشیدگی ...
امریکہ سمیت دنیا کے 7طاقتور ممالک چین کیخلاف متحدہ ہوگئے ، نیا خطرہ ، کشیدگی کو ہوا نہ دی جائے:بیجنگ

  


آئس شیما (ایجنسیاں) دنیا کے سات ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی سیون کی 2 روزہ سربراہ کانفرنس جاپان کے سیاحتی مقام آئس شیما میں جاری ہے جس میں جنوبی بحیرہ چین کے معاملے پر ٹھوس پیغام دینے پر اتفاق کیاگیاجبکہ چین نے بھی واضح کیاہے کہ کشیدگی کو ہوادینے سے گریز کیاجائے ، اجلاس میںجرمن ،امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا اور میزبان جاپان کے سربراہانِ مملکت و حکومت شریک ہیں۔کانفرنس میں عالمی اقتصادی مسائل، بحیرہ جنوبی چین کا تنازعہ اور شام کے بحران کے علاوہ عراق اور شام میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم داعش کے خلاف عسکری کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کرنے بارے بات چیت کی گئی ۔

تفصیلات کے مطابق جی سیون ممالک کے رہنماﺅں نے جنوبی بحیرہ چین کے معاملہ ٹھوس پیغام بھیجنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ اس سمندر پر چین کا جاپان اور دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ہمسائیوں سے تنازعہ چل رہا ہے۔ جاپانی وزیراعظم شنزو کی سربراہی میں ہونیوالے جی 7 ممالک کے رہنماﺅں کے اجلاس میںرہنماﺅں نے اتفاق کیا کہ بحریہ جنوبی چین مسائل پر جی سیون کو واضح اشارہ دینا چاہیے۔ ادھر چین کے وزیر خارجہ وانگ ڑی نے جی 7 ممالک پر زور دیا جنوبن بحیرہ چین کے متعلقہ علاقہ ممالک کو ہوا نہ دی جائے۔ عالمی تشویش کے اقتصادی مالیاتی و ترقیاتی امور پر توجہ مرکوز رکھیں یہ ہمارا اپنا معاملہ ہے۔ اوباما نے کہا شمالی کوریا کا نیوکلیئر اور میزائل پروگرام خطرہ ہے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لئے پرعزم ہے چین اس خطرے کو کم کر سکتا ہے وہ جوہری مواد اور ہتھیار اسے نہ بیچے۔

اوباما نے کہا عالمی اقتصادی مسائل شام کے بحران کے علاوہ عراق اور شام میں سرگرم کے خلاف عسکری کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کرنے پر اتفاق رائے بھی متوقع ہے۔ اجلاس سے قبل ان رہنماﺅں نے دو ہزار سال سخت انتظامات کئے گئے ہیں میڈیا کو بھی اجلاس کے ویٹو تک جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں عالمی معیشت میں سست روی دہشت گردی اور پناہ گزینوں کے بحران بحری سلامتی جیسے موضوعات پر بات چیت ہوگی۔

جرمن چانسلر مرکل نے جی سیون اجلاس کی سائیڈ لائن پرکہاکہ یو کرائن تنازع میں ملوث ہونے پر روس کے خلاف عائد پابندیاں اٹھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔

اس سے قبل وزیراعظم شنزو نے اوباما اور برطانیہ فرانس جرمنی اٹلی اور کینڈا کے رہنماﺅں کا ازے گرینڈ شرائن پر استقبال کیا جو جاپان کے شنٹو مذہب کے مقدس ترین مقام ہے۔ وزیراعظم اسے بھی اسی مذہب کے پیروکار ہیں۔ تمام رہنماﺅں نے درگاہ پر جانے کے لئے سفید لباس میں ملبوس پجاریوں کے ہمراہ پیدل ایک پل عبور کیا اور درگاہ پر حاضری کے بعد روایتی گروپ فوٹو بنوائی۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...