شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 18

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 18
شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 18

  

بیر کنڈ کی زمین زرخیز ہے ..... اس پر گندم ..... ارہر ..... جو ..... اور چنا کاشت کیا جاتا تھا ..... اور بلھار شاہ کی منڈی میں فروخت کیا جاتاہے .....

بیر کنڈ سے سات میل شمال مشرق جگدل ہے ..... جو نو گھروں پر مشتمل زرعی آبادی ہے ..... اور اس کا بیر کنڈ سے قریبی تعلق ہے..... دوسری آبادی پانچ میل مغرب میں ..... کھڈ ہے ..... جس میں بیس بائیس گھر ہیں - اور اچھی بڑی آبادی خیال کی جاتی ہے..... ان کے علاوہ جابجا مختصر ..... دو تین گھروں پر مشتمل آبادیاں بھی ہیں .....

اور یہ سب اس حال میں کہ ان گھنے جنگلوں میں زمین و آسمان کی ساری آفات بکثرت ہوتی ہیں ..... مون سون کے زمانے میںکالے اودے بادل مغربی گھاٹ سے یوں اٹھتے ہیں جیسے

سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل

ابر کے دوش پہ لائی ہے صبا گنگا جل

اور یہ بادل جب برستے ہیں تو یوں جیسے آسمان کے سارے چشموں کے من یکبارگی ہی کھول دیے گئے ہوں ..... پھر بجلی کے کوندے ایسے ہوتے ہیں جیسے ساری زمین میں آگ لگنے کو ہو ..... اور بادل یوں گرجتے ہیں جیسے کانوں کے پردے ہی پھٹ جائیں گے.....

ایسی طوفان زدہ زمین کا نام ہے بیر کنڈ..... اور جگدل ہے ..... اور کھڈ ہے ..... اور گبھا ہے ..... ! ان تمام قیامت آثار نشانیوں کے بعد پھر وہ بلائیں بھی ہیں جو ان جنگلوں میں پائی جاتی ہیں ..... شیر ‘ چیتے ..... ریچھ ..... جنگلی بلیاں ..... جنگلی کتے ‘ بھیڑئے ..... سیاہ گوش ..... ہزاروں قسم کے سانپ ..... بچھو ..... کنکھجورے ..... بھڑیں ..... مچھر ..... وغیرہ ..... ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انسان دشمن مخلوق سب اسی علاقے میں جمع ہو کر وہاں رہنے والوں کے خلاف محاذ قائم کیے ہوئے ہے .....

لیکن وہ انسان بھی بلا ہی تھے ..... اتنے تمام دشمنوں کے صف آرائی کے درمیان انھوں نے سینکڑوں سال ان جگہوں پر ہی گزار دیئے ..... نسل در نسل وہیں رہتے رہے اور ان تمام دشمنوں پر قابو پا لیا جو وہاں پائے جاتے تھے نہ صرف یہ کہ وہ لوگ وہاں رہتے ہی تھے بلکہ زراعت کرتے اور ان ہی جنگلوں پہاڑوں ..... ندیوں اور نالوں سے گزر کر ایک آبادی سے دوسری آبادی میں آتے جاتے ..... کاروبار خریدو فروخت کرتے ..... شادی بیاہ کرتے اور ہر اس عنصر مخالف کا مقابلہ کرتے تھے جو ان کو ایذا پہنچانے کی کوشش کرے .....

لیکن ..... ایک ایسی بلا نازل ہوئی جس کا تدارک ان کے پاس نہیں تھا ..... !

ہوایوں کہ بیر کنڈ کے گھرانے کے جوان ..... فیض ..... کی شادی جگدل کے ایک خاندان میںطے ہوئی ..... بیر کنڈ اور جگدل کا فاصلہ سات میل یا کچھ کم ..... فیض کے برات تین بیل گاڑیوں میں سوار ہو کر صبح سویرے ہی بیر کنڈ سے نکلی اور دوپہر جگدل جا پہنچی..... وہاں گانا بجانا بھی رہا ..... کھانے میں بھی دیر ہوئی ..... جب یہ لوگ دلہن کو رخصت کرا کے روانہ ہوئے تو سورج ڈھل کر اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھونے لگا تھا ..... یعنی سہ پہر ہورہی تھی .....

روانگی کے وقت جگدل کے ایک معمر اور سمجھ دار آدمی نے فیض کے باپ بیراں کو الگ لے جا کر بتایا .....

”پیراں بھائی ..... ذرا خیال رکھنا ..... ایک باگھ ادھر آیا ہے ..... سنا ہے کہ وہ گجھو کھڑ میں دو آدمی کھا چکا ہے ..... “

گجھو کھڑ وہاں سے تین میل شمال مغرب کی طرف ایک چھوٹی آبادی تھی .....

”شام ہورہی ہے ..... “

پیراں نے متفکر ہو کر کہا .....

”یہ باگھ دو دفعہ ایک چروا ہے کے پیچھے آچکا ہے ..... “

”ہاں ..... “ پیراں نے تعجب سے کہا .....

دلہن کی گاڑی چلی ہی تھی کہ لڑکیوں نے ایک گیت چھیڑ دیا ..... اور گیت کے بعد گیت ہو تا رہا کبھی کبھی دو چار مرد بھی ان کی آوازوں میں آواز ملا دیتے ..... پیراں نے اپنے بیٹے فیض کو شیر کے بارے میں بتا دیا تھا ..... اس نے اپنے سارے ساتھیوں کو یہ خبر سنا دی ..... اور سبھی ہوشیار رہے.....

گھنا جنگل ..... گاڑی کا راستہ تو ہوتا ہی ایسا ہے کہ جھاڑیوں کے بیچ میں سے گزرتا خصوصاً اس علاقے میں ..... راستے کے دونوں طرف اونچی گھاس ..... جھاڑیاں ‘ درخت ..... ہی تھے .....

تین چار مضبوط جوان کلہاڑیاں لیے گاڑیوں کے ہجوم سے دس بیس گز آگے آگے چل رہے تھے ..... ایک مقام پر گاڑی کا راستہ ایک بہت بڑے کوہ پیکر چٹان کے گرد گھوم کر مغرب کو مڑ جاتا تھا ..... یہ لوگ جو آگے آگے چل رہے تھے اس موڑ کے قریب جا کر یکبارگی ٹھٹک کردم بخودرہ گئے چند لمحے اس حال میں رہنے کے بعد وہ چپکے چپکے واپس ہوئے اور دوڑے ہوئے اس قافلے کے پاس آئے ..... گاڑیاں روک دیں گئیں .....

”کیا بات ہے ہنسی لال ..... ؟“

پیراں نے پوچھا

”چا چا ..... نہار .....“

ان سب کی توہوش اڑ گئے ..... گیٹ بند ہو گیا ..... اور ذرا دیر کی خاموشی طاری ہوگئی ..... لیکن وہ لوگ ان ہی علاقوں کے رہنے والے ..... دن رات شیروں اور چیتوں کو دیکھتے ہی رہتے تھے ان کو پریشانی صرف اس اطلاع کی بنا پر تھی وہ شیر گجھ کھڑا میں وارداتیں کر چکا تھا .....

”نہار ..... ؟ ..... “

”کہاں ہے ..... ؟ “

”راستے کے بیچوبیچ بیٹھا ہے ..... “

”گیدڑ ہوگا ..... “

”نہیں ..... نہار ..... نہار.....“

بارات میں کل پندرہ لوگ تھے ..... پانچ عورتیں بشمول دلہن‘ دس مرد ..... !ان میں سے پیراں سمیت تین بوڑھے ..... سات جوان..... تین آدمیوں کے پاس کلہاڑے تھے .....

”کہاں ہے ..... “ انہوں نے پھر پوچھا

”کتنی دور پر ہے ..... ؟“

بوڑھوں نے دولمحے غور کیا ..... ”سب مل کے شور مچائیں تو بھاگ جائے گا ..... “

وہ سب ہی موڑ کے قریب گئے اور دوسری طرف دیکھا ..... شیر ہی تھا ..... بہت بڑا گلچھوں والا شیر ..... اورراستے کے عین وسط میں گردن پھلائے سر اٹھائے اس طرح بیٹھا تھا جیسے ساری دنیا مل کر بھی اس کو وہاں سے ہٹانے کی جرات نہیں کر سکے گی.....

دو آدمیوں نے ایک قدم بڑھ کر اس کو ڈانٹا ..... اور سب نے ملک کر شور کیا ..... کلہاڑیاں لہرائیں ..... بالا خر شیر نے اٹھ کر ایک انگڑائی لی ..... ایک بار دانت نکال کر ان کو بھپکی دی ..... باراتیوں نے اور زیادہ شور کیا ..... اور شیر ..... ایک بے نیازانہ اندا ز سے اٹھ کر ایک طرف چل دیا ..... دو تین آدمیوں نے پتھر بھی اس کے طرف پھینکے ..... ایک پتھر اس کے نزدیک ہی گرا ..... شیر نے گھوم کر دیکھا اور تیزی سے جھاڑیوں میں چلا گیا .....

لیکن وہ دور تک اس کو جاتا دیکھتے رہے تاآنیکہ وہ پہاڑ کی ایک گھنی وادی میں داخل ہوگیا ..... گرمیوں کے دن تھے یہی وجہ تھی کہ شیر باہر نظر آیا ورنہ بالعموم شیر اور انسان کے اوقات کار قطعاً مختلف ہوتے ہیں ..... شیر کا سارا شکار رات کے وقت ہوتا ہے ..... انسان کا سارا کاروبار دن کے وقت اس لیے دونوں کے تصادم کا امکان قدرتاً کم ہوتا ہے .....

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 17

  آدم خور شیر اپنے اوقات شکار میں نہ صرف تبدیلیاں ہی کر لیتا ہے بلکہ غیرمتوقع اوقات اورموافق پر آ پہنچتا ہے اور یہی اس کی کامیابی کا باعث ہوتا ہے ..... آدم خور شیر کے اوقات کار کاتعین ممکن نہیں ..... میں نے جتنے آدم خور شیر شکار کیے ان سب کو ..... دوشیروں کے علاوہ ..... دن کے وقت ہی ہلاک کیا ..... گویا وہ تمام شیر عام شیروں کی عادت کے خلاف دن کے وقت سر گرم عمل تھے .

شیر کے جانے کا اطمینان ہوجانے کے بعد بارات پھر بیر کنڈ کی طرف روانہ ہوئی لیکن اب سب ہی چوکنا تھے اور وہ ایک شادمانی کی حالت میں نغمہ و سرور کا سلسلہ تھا وہ بھی منقطع ہوگیا ..... شام ہونے کو تھی اور بارات ابھی بیر کنڈ سے ڈیڑھ دو میل رہ گئی تھی کہ ایک بار..... ایک شخص نے گھوم کر دیکھا تو شیر ..... کوئی ساٹھ ستر گز پر نظر آیا۔آدمی کے گھوم کر دیکھتے ہی شیر جھاڑیوں کی آڑ میں آگیا ..... یہ حرکت خطرناک تھی ..... اس شخص نے فوراً ہی نہار نہار کا شور کر دیا ..... اب بارات تیز قدم حرکت کرنے لگی ..... گاڑیاں ہنکائی گئیں لیکن بیلوں کو دوڑایا نہیں گیا ..... اسی حالت میں کہ شیر پیچھے آرہا بیلوں کو دوڑانا نہایت خطرناک ہوسکتاہے دیہاتی ان تمام مصلحتوں سے واقف ہوتے ہیں .....

ؓٓبارات بخریت بیر کنڈ پہنچ گئی لیکن اس عرصے میں شیر تین مرتبہ اور نظر آیا ..... جس سے ان لوگوں نے بھی یہی مطلب کیا کہ وہ ان کے تعاقب میں آیا ..... اوریہ کہ اس کو انسانی شکار کی تلاش ہے بارات والوں کے چوکنا ہونے کی وجہ سے اس کے حملے جرات نہیں ہوئی .(جاری ہے)

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -شکاری -