وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 59

27 مئی 2018 (12:44)

وجیہہ سحر

دونوں کی نظر ایک ساتھ جھومتے ہوئے درختوں پر پڑی ۔ایک سفید ساہیولا ان درختوں کے درمیان جیسے تیر رہا تھا۔ ان کی نظر اس ہیولے پر ہی مرکوز ہوگئی۔ وہ ہیولا تیزی سے حرکت کرنے لگا ایک درخت سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے تک جا کے پھرنظروں سے اوجھل ہو جاتا اور پھر کسی درخت میں دکھائی دیتا۔ دونوں کی آنکھیں ہیولے کے ساتھ ساتھ بھٹکنے لگیں اور ساتھ ساتھ دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہونے لگیں۔

رفتہ رفتہ وہ ہیولا زمین کی طرف بڑھنے لگا پھر ان دونوں کے بالکل سامنے آکر زمین میں جیسے جذب ہوگیا۔عمارہ اور ساحل کی سانسیں گلے میں اٹکی ہوئی تھیں۔ ساحل نے عمارہ کا ہاتھ پکڑا”یہاںسے نکلتے ہیں۔“

ان دونوں نے ابھی قدم ہی اٹھائے تھے جو کہ ایک دم اس جگہ سے جہاں سے ہیولا جذب ہوا تھا سانپوں کے کھچے نکلنے لگے۔ عمارہ کے حلق سے چیخ نکلی اور ان دونوں نے قدم پیچھے کی طرف سکیڑ لیے۔

سانپ زمین سے مسلسل نکل رہے تھے اور ان دونوں کے گرد دائرے کی صورت میں پھیلتے جا رہے تھے۔دونوں بوکھلائے اپنے اردگرد دیکھنے لگے سانپوں نے ان کے گرد ایک دائرہ سا کھینچ دیا تھا ان کے ارگرد سانپ ہی سانپ تھے۔

دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا او ر لمبے لمبے سانس لینے لگے خوف نے جیسے ان کے ذہنوں کو جکڑ لیا اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 59

ساحل نے اپنی پینٹ کی جیپ سے پسٹل نکالی اس نے اس کا میگزین سیٹ کیا تو عمارہ نے ان کے بازوﺅں پر ہاتھ رکھا۔ ”یہ کیا کر رہے ہو تم جانتے ہو نا کہ یہ سب جادوئی عمل سے ہو رہا ہے۔ ان پر پسٹل چلانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔“

”تو کیا چپ چپ موت کو گلے لگا لیں تم بھی اپنی پسٹل نکالو ان پر فائر کرتے ہیں۔ جلدی کرو۔....“ ساحل کے کہنے پر عمارہ نے بھی اپنی پسٹل نکال لی دونوں نے ایک ساتھ سانپوں کے اوپر فائر کیے انہوں نے ہاتھ روکے بغیر پانچ چھ فائر کئے۔ گولیاں سانپوں کے جسموں پر لگیں مگر ان کو خراش تک نہ آئی وہ جوں کی توں ان دونوں کی طرف رینگتے رہے۔

فائر کرنے سے سارے سانپوں کا رخ ان دونوں کی طرف ہوگیا وہ تیزی سے ان دنوں کی طرف بڑھنے لگے۔ ان دونوں کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔ اب انہیں اپنی موت صاف نظر آرہی تھی دھیرے دھیرے سانپ ان کے پیروں کے قریب آگئے۔

خوف کی ان سرسراہٹوںمیں قرآن پاک کی آیات پڑھنے کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔ آواز ان کی بائیں جانب سے آرہی تھی۔ انہوں نے اپنے بائیں جانب دیکھا تو اسامہ اور عارفین کھڑے تھے۔ اسامہ قرآن کی آیات بلند آواز میں پڑھ رہا تھا۔

جس طرح وہ سانپ زمین سے نکلے تھے اسی طرح آہستہ آہستہ غائب ہونے لگے۔ساحل اور عمارہ نے اطمینان کا سانس کھینچا۔ چند ہی ساعتوں میں وہ سارے سانپ غائب ہوگئے۔

ساحل اور عمارہ ان دونوں کی طرف بڑھنے لگے تو اسامہ نے انہیں ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا۔ وہ ابھی تک آیت پڑھ رہا تھا۔ آیت مکمل ہوئی تو وہ دونوں خود ساحل کے قریب آگئے۔

”میں نے تم سب سے کہا تھا نہ کہ یہ آیات جو میں نے دی تھیں اپنے پاس رکھیں۔“

عمارہ نے اپنے سر کو جھٹکا دیا۔”بالکل ذہن سے نکل گیا، خوف نے تو جیسے ہماری عقل کو ہی ماﺅف کر دیا۔“

اسامہ، عمارہ کے قریب آیا اور اس کے چہرے کی طرف گہری نظر ڈالی۔”وہ خوف تو میں تم دونوں کے چہروں پر پڑھ رہا ہوں۔خوف کو خود پر اس طرح حاوی کرو گے تو ان بدروحوں کا مقابلہ کیسے کرو گے ویسے یہ سب کیسے ہوا....؟“

ساحل نے اسامہ کو ساری بات تفصیل سے بتائی۔ اسامہ نے ساحل کی بات سن کر اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ ”اس کا مطلب ہے کہ زرغام کو ہمارے ارادے کی خبر ہوگئی ہے۔ اس نے ہمارے لیے جال بننا شروع کر دیا ہے لیکن ہم بھی سر پر کفن باندھ کے نکلے ہیں۔“

”سانپ تو غائب ہوگئے مگر وہ ماووارتی مخلوق تو ہمارے آس پاس موجود ہے جو یہ سب کر رہی ہے۔ “ ساحل نے کہا۔

”تو ہم کیا اس جنگل میں بھٹکتے رہیں گے۔“ عمارہ نے پوچھا۔

”نہیں....ہمیں اپنی منزل تک پہنچنا ہے کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی اور اگر نہ نکلی تو ہمیں پیدل چلنا ہوگا فی الحال تو یہ پتہ لگانا ہے کہ یہ ماورائی مخلو ق ہے کون سی جو ہمارا راستہ روک رہی ہے۔“ اسامہ نے کہا۔

کچھ دیر تک وہ چاروں اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیتے رہے پھر عارفین نے چڑ کر کہا”یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے ہم اس طرح بیٹھ کر کسی نا گہانی آفت کا انتظار کریں۔ ہمیں اپنا کام جاری رکھنا چاہئے۔ آﺅ مل کر گاڑی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں....“

”ساحل بھی چڑ کر بولا”تمہیں معلوم ہے نا ہم اس وقت کسی شیطانی طاقت کی زد میں ہیں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔“ وہ جیسے اپنی فرسٹریشن ایک دوسرے پر نکالنے لگے تھے۔

اسامہ ان دونوں کے درمیان میں کھڑا ہوگیا”تم آپس میں بحث کیوں کر رہے ہو۔ تم دونوں گاڑی چیک کرو۔ میں اور عمارہ اطراف پر نظر رکھتے ہیں۔“

ساحل اور عارفین دونوں مل کر گاڑی ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

”کوئی نقص سمجھ میں آئے تو ٹھیک کریں، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ عارفین بونٹ بند کرکے ساحل کے پاس آیا”تم گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کرو ہم مل کر دھکا لگاتے ہیں۔“

اس نے عمارہ اور اسامہ کو اشارے سے بلایا۔ پھر ان تینوں نے مل کر دھکا لگایا۔ تھوڑا سا دھکیلنے کے بعد گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ تینوں نے خوشی سے نعرہ لگایا”ہرے“ مگر تھوڑی دور جا کے گاڑی پھر رک گئی۔ ان تینوں نے ایک بار پھر دھکا لگایا مگر اس بار کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ گاڑی سٹارٹ نہیں ہوئی۔”شٹ“ عارفین نے اسٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مارا۔

ساحل گاڑی سے باہر نکلا اور سر پکڑ کے کھڑا ہوگیا۔”گاڑی کے بغیر کیسے ہم زرغام کے گھر تک پہنچ سکتے ہیں۔“

اسامہ، ساحل کے قریب آیا۔”میرا خیال ہے کہ گاڑی کو ادھر ہی چھوڑ دیتے ہیں اور اپنا سامان نکال کر پیدل ہی چلتے ہیں۔ مین سڑک تک پہنچ کر شاید کوئی سواری مل جائے۔“

”ضرورت کی چیزیں لے لیتے ہیں باقی سامان گاڑی میں پڑا ہے۔“ عمارہ نے ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی رائے لی۔

ساحل نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر اس نے اور عارفین نے گاڑی سے اپنا بیگ لیا اور اس میں اپنی ضرورت کا سامان چیک کرنے لگے ۔ اسامہ نے بھی پھرتی سے اپنا بیک بیگ نکالا وہ بھی اپنا سامان چیک کرنے لگا۔

عمارہ نے بھی اپنا ہینڈ بیگ کندھے سے لٹکا لیا۔ اسامہ ، عارفین اور ساحل نے اپنی اپنی کمروں سے اپنے بیگ باندھ لیے۔

اسامہ نے گاڑی لاک کی اور وہ سب وہاں سے پیدل نکل گئے۔

٭٭٭

زرغام اپنے خاص عمل سے فارغ ہونے کے بعد ساجد کو پکارتا ہوا لیونگ روم میں اایا۔ ساجد باہر لان میں بیٹھاہوا تھا۔ اس نے زرغام کی آواز سنی تو وہ دوڑتا ہوا اندر گیا۔ زرغام صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ زرغام کے قریب عاجزی سے کھڑا ہوگیا۔”صاحب! ناشتہ بنا دوں آپ کے لیے؟“

زرغام نے ہاتھ سے نفی کا اشارہ کیا۔”نہیں آج ناشتے کے لیے من نہیں ہے تم ایسا کرو کہ اورنج جوس لے آﺅ میں اپنے بیڈ روم میں جا رہا ہوں۔“

”جی بہتر....“ ساجد سر جھکائے کچن کی طرف چل پڑا۔

زرغام اپنے بیٹڈ سے پشت لگا کے بیٹھ گیا اس کا شیطانی ذہن کچھ پلان کر رہا تھا۔ غصے سے اس کے دماغ کی رگیں پھیل رہی تھیں۔”انسانوں کو میں جب چاہوں اپنی شیطانی طاقتوں سے مسل سکتا ہوں مگر یہ ہمزاد(خیام) میری شیطانی طاقتوں کو للکار سکتا ہے۔ ایک ہمزاد کا اعلان جنگ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

زرغام کا دماغ انہی سوچوں میں غرقوب تھا۔ ادھر ساجد کا ذہن اسے ایک شیطان سے بغاوت پر اکسار رہا تھا وہ کچن میں بے چینی سے ادھر ادھر پھر رہا تھا۔وہ بہت گھبرایا ہوا تھا اس کے ہاتھ پاﺅں کانپ رہے تھے مگر آج اس کے ایمان کی طاقت اسے ایک خناس کی غلامی سے روک رہی تھی۔اس کا ذہن اسے ایک خطرناک عمل کے لیے مجبور کر رہا تھا مگر اس میں ہمت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔(جاری ہے)

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 60 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں