امریکہ اور ایران میں کشیدگی، ایک ایسے ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی کہ یقین کرنا مشکل

امریکہ اور ایران میں کشیدگی، ایک ایسے ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی کہ یقین کرنا ...
امریکہ اور ایران میں کشیدگی، ایک ایسے ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی کہ یقین کرنا مشکل

  

بغداد(ویب ڈیسک)  امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کے بعد عراق کے وزیر دفاع علی الحاکم نے  ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسائے ملک پر عائد اقتصادی پابندیوں پر جنگی تناؤ پر دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کے خواہاں ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے وزیر دفاع محمد ظریف نے بغداد میں عراقی ہم منصب علی الحاکم سے ملاقات کی، ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے عراق کے وزیر دفاع علی الحاکم نے امریکا اور عراق کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی۔عراقی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہمسائے ملک پر اقتصادی پابندیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث ہے، سخت اقتصادی پابندیوں پر ایران کی مدد کریں گے اور امریکا سے پابندیوں کو نرم کرنے کے لیے بات چیت بھی کریں گے تاکہ خطے میں جنگ کا خطرہ ٹل جائے۔اس موقع پر ایران کے وزیر دفاع محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلق رکھنا چاہتے ہیں تاہم کسی بھی قوت کی جانب سے مسلط کی گئی معاشی یا جنگی جارحیت پر اپنا دفاع خود کر ے گا۔

ایران کے وزیر دفاع محمد ظریف نے یورپی ممالک سے عالمی جوہری توانائی معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا اور امریکا کے معاہدے سے نکل جانے کو عالمی امن کو تباہ کرنے کی سازش قرار دیا۔

مزید : بین الاقوامی