قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے،اقدام قتل کا کیس قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے،چیف جسٹس پاکستان ،2 ملزموں کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری خارج

قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے،اقدام قتل کا کیس قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے،چیف جسٹس ...
قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے،اقدام قتل کا کیس قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے،چیف جسٹس پاکستان ،2 ملزموں کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری خارج

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اقدام قتل کے2 ملزمو ںکی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں خارج کردیں، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے ،دفعہ 324 میں ارادہ قتل سے حملہ کرنے کی سزا10 سال ہے ،حملے کے نتیجہ میں اگر زخم آئے تو اس کی سزا الگ ہو گی ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اقدام قتل کا کیس قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے،زخمی حملہ آور کی نشاندہی کر سکتا ہے مقتول نہیں ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اقدام قتل کے دو ملزمو ں کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے ،دفعہ 324 میں ارادہ قتل سے حملہ کرنے کی سزا10 سال ہے ،حملے کے نتیجہ میں اگر زخم آئے تو اس کی سزا الگ ہو گی ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اقدماقتل کا کیس قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے ،زخمی حملہ آور کی نشاندہی نہیں کر سکتا مقتول نہیں،عدالت نے اقدام قتل کے 2 ملزموں کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ،سندھ پولیس نے کراچی رجسٹری سے ارباب اور مشتاق کو گرفتارکرلیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد