قمری کیلنڈر کے بعد اب وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیا کرنے جارہی ہے؟ فواد چوہدری نے نئے چیلنج کا اعلان کردیا

قمری کیلنڈر کے بعد اب وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیا کرنے جارہی ہے؟ فواد چوہدری ...
قمری کیلنڈر کے بعد اب وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیا کرنے جارہی ہے؟ فواد چوہدری نے نئے چیلنج کا اعلان کردیا

  


اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے قمری کیلنڈر بنانے کے بعد وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے نئے چیلنج کا اعلان کردیا۔ 

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر فواد حسین چوہدری نے لکھا کہ ’’ قمری کیلنڈر کے بعد اگلا بڑا چیلنج کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈز کو موبائل فون پیمنٹ سے تبدیل کرنا ہے، ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ادائیگیوں کا آسان ہونا لازمی ہے، انشااللہٰ چند مہینوں میں تمام ادائیگیاں بس کے کرائے سے گاڑی خریدنے تک موبائل سے ہوں گی‘‘۔

یادرہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے  قمری کیلنڈ ر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے اور منگل کے روز اسے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو فیصلہ کرے گی کہ اسے اپنانا ہے یا پرانے نظام پر ہی چلنا ہے ، فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  بتایا کہ چاند دیکھنے کےلئے سائنسدانوں کی مدد سے ویب سائٹ تیار کر لی ہے جس کی موبائل ایپ بھی آج (پیر )سے دستیاب ہو گی ، ہم نے علماءکو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اب چاند دیکھنے کےلئے پاپڑ بیلنے کی ضرورت نہیں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے بآسانی چاند کو دیکھا جا سکتا ہے ،ناسا اس مہم پر ہے کہ انسان اب طویل مدت کےلئے چاند پر رہ سکتا ہے، اس لئے علماءکو فکر نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کےلئے اور مسائل آئیں گے ، انہیں فکر ہے کہ ان کا کردار ختم ہو جائے گا اور ان کی تنخواہ کا کیا بنے گا،۔

پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے دورہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے   فواد چوہدری نے کہا کہ نہ صرف امسال بلکہ آئندہ پانچ سالوں میں آنے والی عیدوں کی تاریخ کی بھی پیشگوئی کر دی ۔ جس کے مطابق امسال عید الفطر 5جون ، اس کے بعد 24مئی2020،14مئی 2021،3مئی 2022،22اپریل 2023اور 10اپریل 2024ءکو عید الفطر ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹیکنالوجی کا انقلاب آرہا ہے ، چوتھا صنعتی انقلاب ٹیکنالوجی بیسڈ ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہم اس پر توجہ مرکوز کریں اور ہم پوری ہیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ا نہوں نے کہا کہ میں جب وزارت اطلاعات میں تھا تو وہاں بھی بدلتے حالات کے مطابق اصلاحات کےلئے کام کا آغاز کیا ۔ ہماراایکسٹرنل پبلسٹی ونگ عملاً زیرو ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم عالمی دنیا میں پاکستان کانقطہ نظر دے ہی نہیں پاتے ۔ اسی طرح میڈیا کے اندر بھی ٹیکنالوجی کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔زراعت میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو نہیں لایا گیا ، ستر سال سے ٹیکسٹائل میں ہیں لیکن ہمیں ایک پرزہ بھی باہر سے منگوانا پڑتا ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے سائنٹسٹ اور بچوں کوبتانا ہوگا کہ علم کا کوئی مقابلہ نہیں اور اس کے بغیر قومیں آگے نہیں جاتیں ، ہمارے ہاں ہر دفعہ عید کے چاند کا مسئلہ ہوتا ہے ۔ ریاست مذہبی تہوار کے لئے فورس نہیں کر سکتی بلکہ یہ دل اور عقیدے کا معاملہ ہے لیکن درست بات کہنا اور درست سمت کی طرف لے کر چلنا ریاست کا فرض ہے ۔ ہم نے علماءحضرات کی توجہ اس طرف جانب مبذول کرائی کہ چاند دیکھنے کے لئے پاپڑ بیلنے کی ضرورت نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم یہ بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ چاند کہاں ، کب اور کیسے پیدا ہوگا اور اس کی نوعیت کیا ہو گی ،اگر سائنسی ایجاد دوربین حرام ہے تو کیا عینک کا استعمال درست ہے ،اس چیز کو عقل نہیں مانتی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سائنسدانوں، محکمہ موسمیات ، سپیس ایجنسی ، سپارکو سے مل کر ویب سائٹ اورایپ تیار کی ہے اور یہ پاکستان کی پہلی چاند دیکھنے کی ویب سائٹ ہے جس میں ہچری کیلنڈر ، ڈے ٹو ڈے تاریخ ، اسلامی تہواروں کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے آج سے اس کی ایپ گوگل پلے سٹو رپر بھی دستیاب ہو گی اور لوگ بآسانی چاند سیکھ سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چاند کب ، کہاں اور کیسا ہے یہ مشکل کام نہیں ہے اصل مسئلہ چاند کی پیدائش ہوتا ہے ۔ اس کی تین شرطیں ہیں جس میں پاکستان کی حدود میں6.8ایلٹی چیوٹ، وزیبلٹی اور چمک 0.8فیصد اور غروب آفتاب اور چاند کے درمیان 38منٹ کا فرق ہونا چاہیے اور اگر یہ تینوں چیزیں ہوں گی تو چاند نظر آ گیا ہے ۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان میں بسنے والے ہی نہیں بلکہ امریکہ ، آسٹریلیا، ناروے اور دیگر ممالک میں بسنے والے مسلمان بھی استفادہ کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسے پانچ سال کے لئے رکھا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی آگے جارہی ہے اور حالات کو دیکھتے ہوئے اس پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے ۔

مزید : قومی