”وزیراعظم پنجاب کے تھانوں میں جا رہے ہیں لیکن ۔۔۔“چیف جسٹس اطہر من اللہ کے کیس کی سماعت کے دوران دبنگ ریمارکس

”وزیراعظم پنجاب کے تھانوں میں جا رہے ہیں لیکن ۔۔۔“چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ...
”وزیراعظم پنجاب کے تھانوں میں جا رہے ہیں لیکن ۔۔۔“چیف جسٹس اطہر من اللہ کے کیس کی سماعت کے دوران دبنگ ریمارکس

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارلحکومت میں بڑے بھائی پر چوری کے الزام میں نابالغ بچوں کو اٹھانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پنجاب کے تھانوں میں جارہے ہیںلیکن انہیں معلوم نہیں کہ اسلام آباد کے تھانوں میں کیا ہو رہاہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بڑے بھائی پر چوری کے الزام میں نابالغ بھائیوں کو گرفتار کر نے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران ایس پی نعیم املک عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ دو نابالغ بچوں کو آپ نے کیوں اٹھایا ہے ؟ نعیم ملک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتا نہیں تھا لیکن جب تفتیشی سے پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ گرفتار نہیں کیا تھا بلکہ حراست میں رکھا تھا ۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد پولیس کے دن بہ دن بچوں کو اٹھانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں ، فرشتہ کیس میں بھی یہ بات سامنے آئی  کہ پولیس کیس درج نہیں کر رہی تھی ، کئی روز تک اس کے اہل خانہ کو احتجاج کرنا پڑا ۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزیراعظم پنجاب کے تھانوں میں جارہے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ اسلام آباد کے تھانوں میں کیا ہو رہاہے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایس پی نعیم ملک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے وزیراعظم کو شرمندہ کیاہے ، معاملے کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے ، پولیس اور تھانے تو ٹھیک ہونے تھے آپ نے تو بچوں کو اٹھانا شروع کر دیاہے ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک جج صاحب بچی پر ظلم کرنے کے کیس میں تین سال قید بھگت رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے 15 روز کیلئے بچوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا ، ایس ایچ او اور تفتیشی کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے رپورٹ پیش کی جائے ۔

عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ماتحت عدلیہ نے تھانے کو بیلف بھیجا تھا لیکن تفتیش افسر نے جھوٹ بولاا کہ بچے موجود نہیں جبکہ بچے وہیں تھے جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ثاقب نے بیلف کے سامنے جھوٹ بولا اور اب اسلام آبادہائیکورٹ میں بھی ایسے بیان دے رہاہے ۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ایس ایچ او اور تفتیشی کے خلاف براہ راست کوئی حکم جاری نہیں کر رہے لیکن آئی جی کارروائی کرتے ہوئے رپورت پیش کریں ۔

مزید : قومی