27 فروری کو پاک فضائیہ نے حملہ کیا تو اس وقت بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں بھارتی فوج کے کون سے 2 ٹاپ جرنیل موجود تھے؟ نام سامنے آگئے

27 فروری کو پاک فضائیہ نے حملہ کیا تو اس وقت بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں بھارتی فوج ...
27 فروری کو پاک فضائیہ نے حملہ کیا تو اس وقت بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں بھارتی فوج کے کون سے 2 ٹاپ جرنیل موجود تھے؟ نام سامنے آگئے

  

نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) فروری میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے بھارتی نیوز ویب سائٹ دی پرنٹ کا دعویٰ ہے کہ جس وقت پاک فضائیہ نے حملہ کیا اس وقت بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں انڈین آرمی کے ٹاپ کمانڈر موجود تھے جو حملے سے چند منٹ قبل وہاں سے نکل گئے تھے۔

27 فروری کو جوابی کارروائی کے دوران پاک فضائیہ کے جہازوں نے راجوڑی سیکٹر میں انڈین بریگیڈہیڈ کوارٹر کے قریب بم گرائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے یہ بم اپنی طاقت کا اظہار کرنے کیلئے خالی جگہ پر گرائے تھے جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ ایچ 4 سٹینڈ آف ویپن بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے اندر گرا جس سے ملٹری انسٹالیشن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ جب پاک فضائیہ کے جہازوں نے راجوڑی میں واقع انڈین آرمی کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا اس وقت وہاں بھارت کی ناردرن آرمی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ اور 16 ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرم جیت سنگھ موجود تھے جو بم گرنے سے چند منٹ پہلے وہاں سے نکل گئے تھے۔

آرمی کے ٹاپ ذرائع نے ویب سائٹ کو بتایا کہ جس وقت بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر پاک فضائیہ کا بم گرا اس سے چند لمحے قبل بھارتی فوج کے دونوں کمانڈرز وہاں سے نکل کر قریبی پوسٹ پر چلے گئے تھے۔جس جگہ پر پاک فضائیہ کے جہاز نے بم گرایا یہ پوسٹ اس سے صرف 700 میٹر کی دوری پر تھی۔

واضح رہے کہ 26 فروری کی بھارتی دراندازی کے جواب میں 27 فروری کو پاکستان نے جوابی کارروائی کے دوران بھارت کی حدود میں 6 ٹارگٹس کو نشانہ بنایا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران بھارتی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں کسی اعلیٰ شخصیت کی موجودگی کی اشاروں کنایوں میں بات کی تھی ، ’ ذرا دنیا کو یہ بھی بتائیں جس وقت ہم نے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو لاک کیا اور اس کے قریب کی جگہ کو نشانہ بنایا تھا تو اس وقت وہاں کون موجود تھا؟‘۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /بین الاقوامی