حفاظتی ٹیکوں کی عالمی خدمات کو خطرہ

حفاظتی ٹیکوں کی عالمی خدمات کو خطرہ

  

عالمی ادارہئ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے نتیجے میں پھیلنے والی وبائی بیماری کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں کی عالمی خدمات کو نقصان پہنچا ہے،جس کی وجہ سے لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں جس طرح دُنیا کو وِڈ19کی ویکسین تیار کرنے کے لئے ایک ہو گئی ہے اسی طرح زندگی بچانے والی اُن درجنوں ویکسینوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جو اِس وقت آسانی سے دستیاب ہیں، انہیں ہر جگہ بچوں تک بروقت پہنچنا چاہئے۔ اُن کاکہنا تھا کہ معمول کی حفاظتی ویکسین کی خدمات کی فراہمی میں کم از کم68 ممالک میں رکاوٹ آئی ہے، جن میں ان ممالک کے ایک سال سے کم عمر کے تقریباً آٹھ کروڑ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، بچوں کو قطرے پلانے میں کسی بھی طرح کا تعطل زندگی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ صحت کے متعلق خدمات کی محفوظ فراہمی کی صلاحیت پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ صحت عامہ کے متعلق مشوروں پر عمل کریں۔ ڈبلیو ایچ او جلد ہی ویکسی نیشن مہمات پر عملدرآمد کے بارے میں نئی ہدایات شائع کرے گا۔

یہ درست ہے کہ دُنیا کورونا کی ویکسین کی تیاری کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کر رہی ہے، ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں اور کئی ادارے اربوں ڈالر کے اخراجات سے ویکسین کی تیاری کے لئے ریسرچ میں مصروف ہیں۔عالمی خیراتی ادارے بھی اس کام میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ویکسین کے ساتھ ساتھ ایسی نئی اور پرانی ادویات کے تجربات بھی جاری ہیں جو کورونا مریضوں کی شفایابی میں معاون ثابت ہوں، پاکستان میں پلازمہ تھراپی کے ذریعے علاج شروع ہے اور چند مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں،خون کی بیماریوں کے معالج اس طریق ِ علاج کے بارے میں پُرامید ہیں۔پاکستان میں نئی ادویات کی تیاری پر بھی کام ہو رہا ہے اور امید ہے چند ماہ کے اندر اندر یہ دوا تیار ہو جائے گی،دُنیا کے اور بہت سے ممالک میں ادویات کے کامیاب تجربات ہو رہے ہیں،جس انداز میں کورونا اچانک حملہ آور ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دُنیا پر اس کے مہیب سائے گہرے ہوتے گئے، ویکسین کی عدمِ دستیابی کی وجہ سے مریض اس کا آسان شکار ہوتے چلے گئے،کسی ویکسین یا دوا کی عدم موجودگی کے باعث اس کا علاج سماجی فاصلوں میں ڈھونڈا گیا،جو اب تک کے تجربات میں سب سے کامیاب تجربہ ہے، جن ممالک نے اِس وبا کو پھیلنے سے روکا اور اس کے آگے بند باندھا ان میں چین، جرمنی، کوریا جیسے ممالک شامل ہیں،چین میں نئے کیسز اب صفر ہو گئے ہیں۔ جرمنی میں بھی حالات بہت بہتر ہیں اور جرمن صدر نے کورونا پابندیوں کے تناظر میں مسلمانوں کی خصوصی طور پر تعریف کی ہے جنہوں نے رمضان المبارک کی عبادات اور عیدالفطر کے اجتماعات میں حکومت کی ہدایات کا خصوصی خیال رکھا اِس اہتمام پر مسلمان جرمن صدر کی تعریف و توصیف کے مستحق ٹھہرے،لیکن افسوس وطن ِ عزیز میں پابندیوں کا کما حقہ‘ خیال نہ رکھا گیا ورنہ ایک موقع پر کورونا کا پھیلاؤ روکنا ممکنات میں سے نظر آتا تھا، پھر لاپروائی نے ایسی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

کورونا کی وبا کی وجہ سے دوسری بیماریوں کے علاج سے توجہ ہٹ گئی یا کم از کم اس جانب سے کسی حد تک لاپروائی برتی گئی، پاکستان دُنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو موجود ہے اور اب پولیو کے کیسز ایک بار پھر منظر عام پر آنے لگے ہیں۔تازہ ترین کیس تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں سامنے آیا ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب کا آبائی علاقہ ہے۔ پولیو کے بارے میں عمومی تاثر اور تجربہ یہ ہے کہ اس کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں،جنہوں نے بچپن میں پولیو کے قطرے نہیں پئے ہوتے جو بچے اس مشق سے کامیابی کے ساتھ گذر چکے ہوتے ہیں وہ محفوظ رہتے ہیں، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بعض علاقوں میں پولیو کی ویکسین کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ اتنا زیادہ ہے کہ اس سے متاثر والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے، نہ صرف اس کی مزاحمت کرتے ہیں، بلکہ کہیں کہیں تو پولیو کے قطرے پلانے والے عملے کو سخت ردعمل کا سامنا ہوتا ہے، فائرنگ سے ورکروں کو جان سے ہاتھ بھی دھونا پڑے،لیکن انہوں نے حوصلہ نہ ہارا، جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ ورکر معمولی معاوضے کے عوض بچوں کو قطرے پلانے کے لئے دور دراز اور پُرخطر مقامات تک پہنچتے رہے،کورونا کی وبا کے دِنوں میں بھی ہم نے پولیو ٹیموں کو متحرک دیکھا ہے،لیکن نئے کیس سامنے آنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب بھی بعض بچے اس حفاظتی کورس سے محروم ہیں۔اب ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے اس طرف توجہ دلائی ہے تو ضروری ہے کہ حفاظتی ٹیکے اور دوسری ویکسین کے کورسز کی تکمیل میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے،دُنیا کے68ممالک میں ویکسین پہنچانے میں مشکلات کا ذکر ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بھی کیا ہے،لیکن یہ مشکلات تو کورونا کی وجہ سے ہیں جہاں معمول کے حالات میں بھی مزاحمت ہو رہی ہو اِس پر سوائے افسوس کے کیا کِیا جا سکتا ہے۔

پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں بھی پولیو کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں،لیکن ان سب میں قدرِ مشترک یہی ہے کہ پولیو کی زد میں آنے والے لوگوں میں وہی شامل ہوتے ہیں جنہوں نے قطرے نہیں پئے ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ پولیو کے کیس سامنے آنے پر دُنیا کے کئی ممالک نے فضائی سفر کرنے والوں پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ سفر سے پہلے قطرے پینے کا سرٹیفکیٹ اپنے ساتھ لے کر آئیں،لیکن اس پابندی کو بھی غیر موثر کرنے کے لئے ”جعلی سرٹیفکیٹوں“ کا اجرا ہونے لگا تھا، حالانکہ چند ممالک کے سوا جس طرح دُنیا نے پولیو سے نجات حاصل کی ہے پاکستان میں بھی ایسا ممکن ہے،پھر کسی جعلی سرٹیفکیٹ کی ضرورت بھی نہیں ہو گی،اِس لئے ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ کوئی بچہ حفاظتی ویکسین سے محروم نہ رہے۔اس جانب بروقت توجہ بھی دلا دی گئی ہے کہ کورونا کی وجہ سے دُنیا ان حفاظتی اقدامات سے پہلو تہی نہ کرے جو پہلے سے دستیاب ہیں اور متاثرہ علاقوں میں آسانی سے ویکسین پہنچائی جا سکتی ہیں اِس لئے دُنیا بھر کی حکومتوں کو ڈبلیو ایچ او کے اس انتباہ پر کان دھرنے ہوں گے،جہاں اس نئی بیماری میں اُلجھ جانے والے پرانے امراض کے طریقوں سے غافل ہیں، امراض سے تحفظ ہر فرد کا بنیادی حق ہے، چاہے وہ پرانا ہو یا نیا، اِس لئے جو ویکسین دستیاب ہے اس سے تغافل نہیں ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -