عید ”عیدی“ اور مہنگائی

عید ”عیدی“ اور مہنگائی

  

عید بھی گذر گئی،شہریوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق خوشی منائی اور عبادت بھی کر لی گئی۔ معاشرتی روایت کے مطابق منافع خوری بھی خوب کی گئی۔ برائلر مرغی کا گوشت تاریخ میں سب سے زیادہ نرخوں پر بکا، مرغی خانے والوں نے سپلائی بند کر دی اور جو سٹاک پہلے سے موجود تھا اسی کے نرخوں کو پَر لگا دیئے گئے، مرغی کا گوشت300روپے فی کلو سے شروع ہو کر400روپے فی کلو تک بکا اور بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ قیمت وصول کی گئی۔عید کے نام پر بکرے اور گائے کے گوشت کی پہلے سے زیادہ قیمت میں مزید ایک سو سے ڈیڑھ سو روپے فی کلو تک اضافہ کیا گیا، بکرے کا گوشت1300روپے اور گائے کا گوشت باڑھے پانچ سو سے چھ سو روپے فی کلو تک بکا،اسی تناسب سے پھل اور دوسری اشیاء خوردنی مہنگی ہوئیں، اور انتظامیہ قابو پانے میں قطعاً ناکام ثابت ہوئی۔ وزیراعظم کی بار بار ہدایت کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کے ساتھ پولٹری ایسوسی ایشن کے مذاکرات بھی نامکمل رہے اور صوبائی وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ جتنے دن چاہیں ہڑتال کر لیں، مرغی کا گوشت260روپے فی کلو سے زیادہ قیمت پر فروخت نہیں کرنے دیا جائے گا، شادی ہال اور تقریبات بند ہونے کی وجہ سے مرغی کے گوشت کی قیمت 140روپے فی کلو تک بھی آ گئی تھی، جبکہ عام معمول کے مطابق یہ نرخ 180 سے 200 روپے تک رہتے ہیں۔اب عید گذر چکی، عید کے تیسرے روز(منگل تک) بازار اور مارکیٹیں بند رہیں۔ آج چوتھے روز منڈیاں کھلیں گی تو پھر نرخوں کا اندازہ ہو گا کہ معمول پر واپس آتے ہیں یا نہیں۔بہرحال تاجر حضرات کورونا لاک ڈاؤن کی کسر پوری کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -