طیارہ حادثہ…… کیپٹن سجاد گل ذمہ دار کیوں؟

طیارہ حادثہ…… کیپٹن سجاد گل ذمہ دار کیوں؟
طیارہ حادثہ…… کیپٹن سجاد گل ذمہ دار کیوں؟

  

ایک اُداس عید گذر گئی،ایک طرف کورونا کی وجہ سے عید پر خوف کا ر نگ غالب رہا اور دوسری طرف پی آئی اے کے طیارے کی تباہی کے روح فرسا لمحات لوگوں کو زندگی کی بے ثباتی کا احساس دلاتے رہے، اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے غم میں صرف اُن کے لواحقین ہی نہیں پورا ملک سوگوار تھا اور اسی کیفیت میں عیدالفطر منائی گئی۔اسی دوران پی آئی اے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات بھی شروع ہوئیں۔ حکومت کی بنائی گئی چار رکنی کمیٹی نے جاثے حادثہ کا دورہ کیا، شواہد اکٹھے کئے۔یہ سلسلہ ابھی چل ہی رہا ہے کہ بدقسمت طیارے کے پائلٹ سجاد گل کے بارے میں خبریں منظر عام پر آنے لگی ہیں،جس دن وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے لاہور میں کیپٹن سجاد گل کے گھر جا کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا،اُسی دن سجاد گل کے والد نے ایک پریس کانفرنس میں یہ الزام لگایا کہ مبینہ طور پر حادثے کی ذمہ داری سجاد گل پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،تاکہ حادثے کے اصل ذمہ داروں کو بچایا جا سکے۔اُدھر پی آئی اے کی طرف سے اپنے اس منجھے ہوئے پائلٹ کے ساتھ بے مروتی کے سلوک کی انتہا اُس وقت دیکھنے میں آئی جب اُن کے تابوت میں لپٹے جسد ِ خاکی کو ایک کھٹارا ایمبولینس میں اُن کے گھر پہنچایا گیا اور نمازِ جنازہ میں کسی افسر نے شرکت نہ کی، تو کیا سجاد گل کو تحقیق سے پہلے طیارے حادثے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے، کیا اُس کے والد کا الزام درست ہے ہے کہ سجاد گل کو ذمہ دار قرار دے کر جہاز کی مینٹی ننس کے معاملے میں روا رکھی گئی غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

یہ معاملہ اِس لئے سنجیدہ ہے کہ اگر پہلے ہی یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ حادثہ کپتان کی غفلت کے باعث پیش آیا تو اصل مہ داروں کا تعین نہیں ہو سکے گا۔اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پی آئی اے کے شعبہ انجینئرنگ، مینٹی ننس اور سول ایوی ایشن کی نگرانی کا عمل شاندار ہے، اُس میں کوئی کمی یا کوتاہی روا نہیں رکھی گئی، حادثہ صرف جہاز کے پائلٹ کی غیر ذمہ داری اور موقع پر غلط فیصلے کی وجہ سے پیش آیا۔ یہ بہت پرانی تکنیک ہے، ریلوے کے حادثات میں بھی عمومی طور پر ڈرائیور کو ذمہ دار قرار دے کر معاملے پر مٹی ڈال دی جاتی ہے،حالانکہ اُسی ڈرائیور نے ہزاروں گھنٹے ٹرین چلائی ہوتی ہے۔ پی آئی اے کے سی ای او ارشد ملک نے حادثے کے بعد کراچی میں جو پریس کانفرنس کی تھی،اُس میں بھی اسی بات پر زور دیا تھا کہ جہاز بالکل فٹ تھا،وہ اُس کی فنٹس رپورٹ بھی لہراتے رہے، حالانکہ آخری موقع پر پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کا ریکارڈ گواہ ہے کہ جہاز میں تکنیکی خرابی تھی اور اس کے لینڈنگ گیئر نہیں کھل رہے تھے، پھر انجن بند ہونے کی اطلاع بھی پائلٹ سجاد گل نے کنٹرول ٹاور کو دی تھی۔ یہ بھی ثابت ہے کہ آخر وقت تک سجاد گل کے اعصاب مضبوط تھے اور وہ پُرعزم لہجے میں کنٹرول ٹاور سے بات کر رہے تھے۔آخر وقت تک انہوں نے اپنے تجرے اور سمجھ کے مطابق جہاز کو بچانے کی کوشش کی،لیکن جب جہاز کے انجن ہی بند ہو گئے تو معاملہ اُن کے ہاتھوں سے نکل گیا۔

پائلٹ سجاد گل کے ہوائی تجربے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ وہ بہت تجربہ کار پائلٹ تھے، صرف320 ایئر بس کو وہ4700 گھنٹے اُڑا چکے تھے۔ گویا یہ جہاز اُن کے لئے کوئی اجنبی نہیں تھا، وہ اس کے سارے داؤ پیچ جانتے تھے۔ طے کرنے کی بات یہ ہے کہ لاہور سے جب یہ بدقسمت جہاز اڑا تو کیا مکمل طور پر فٹ تھا۔ اسی طیارے کے ایک مسافر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جو اُسی نے اُس وقت بنائی جب جہاز لاہور ایئر پورٹ پر کھڑا تھا اور اڑنے میں تاخیر ہو رہی تھی۔اُس نے وڈیو میں اپنے گھر والوں کو بتایا کہ کسی فنی خرابی کی وجہ سے جہاز ابھی چلا نہیں۔تو کیا واقعی اس طیارے کے آخری وقت تک خرابی دور کی جاتی رہی۔جب جہاز میں مسافر بیٹھ چکے ہوں تو عموماً پائلٹ پر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ اب وہ اڑان بھرے، اگر چھوٹی موٹی کوئی خرابی ہے بھی تو اُس سے درگذر گرے۔اہم سوال یہ ہے کہ جس خرابی کی وجہ سے جہاز لاہور ایئر پورٹ پر کھڑا تھا، کیا اُسے دور کر کے بھیجا گیا یا حقیقی جانچ پڑتال کے بغیر طیارے کو اڑانے کی اجازت دی گئی۔ سی ای او ارشد ملک بتا رے تھے کہ کسی بھی جہاز کی اڑان سے پہلے پائلٹ ایک رپورٹ پر دستخط کرتاہے، جس میں تسلیم کیا جاتا ہے کہ جہاز مکمل طور پر فٹ ہے، تو کیا کیپٹن سجاد گل نے جہاز کے سسٹم کو دیکھے بغیر اس رپورٹ پر دستخط کئے یا انہیں قائل کیا گیا کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کا اب کوئی مسئلہ نہیں،آپ جہاز کی اڑان بھریں۔

سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ جب پائلٹ سجاد گل کراچی ائر پورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کے قریب پہنچ گئے تھے تو انہوں نے دوبارہ اڑان کیوں بھری۔ کیوں پندرہ سے اٹھارہ منٹ تک فضا میں چکر لگاتے رہے۔ اسی دوران کنٹرول ٹاور کی ہدایت کو بھی کیوں نظر انداز کیا،ہوا بازی کی تاریخ میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں اور نہ ہی خلاف ضابطہ ہے کہ اگر لینڈنگ گیئر نہیں کھل رہے تو پائلٹ جہاز کو دوبارہ فضا میں بلند نہ کرے۔ یہ رسک لیا جاتا ہے تاکہ ایک اور کوشش کی جائے کہ لینڈنگ گیئر کھل جائیں۔اب باہر بیٹھ کے تو بہت سی باتیں کی جا سکتی ہیں،لیکن جو شخص فضا میں اپنی اور مسافروں کی زندگی بچانے کے عمل سے دوچار ہو، اُس کی کیفیت کیا ہوتی ہے، یہ وہی جانتا ہے۔ بہرحال جہاز کا مسلسل فضا میں بلند رہنا اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پائلٹ آخر وقت تک اس لمحے کا انتظار کرتا رہا کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کھلیں اور وہ جہاز کو زمین پر اُتار سکے، اس سارے عمل میں ایک نیا الجھاؤ اُس وقت پیدا ہوا جب پائلٹ سجاد گل کنٹرول ٹاور کو یہ اطلاع دیتے ہیں کہ جہاز کے دونوں انجن کام چھوڑ چکے ہیں، جہاز جب دوبارہ کراچی کے رن وے پر اُترنے کی بجائے اڑان بھرتا رہا تو تقریباً پندرہ بیس منٹ تک فضا میں پرواز کرتا ہے۔ گویا اُس وقت اُس کے انجن ٹھیک کام کر رہے ہوتے ہیں پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ جہاز کے انجن کام چھوڑ گئے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ رن وے پر بغیر لینڈنگ گیئر کھلنے کے اُترنے کی کوشش میں جہاز کو جو نقصان پہنچا اُس کی وجہ سے انجن بند ہوے تو اِس سوال کا جواب کون دے گا کہ پھر جہاز پندرہ منٹ تک فضا میں کیسے اڑتا رہا اور اُس کے انجن کیسے کام کرتے رہے۔

کہانی اتنی سادہ نہیں کہ صرف پائلٹ سجاد گل پر سارا ملبہ ڈال کے اسے ختم کیا جا سکے۔ پی آئی اے کے کھٹارا جہازوں کو اگر اُس کے پائلٹ اڑا رہے ہیں تو اُنہیں اس کی داد ملنی چاہئے۔تحقیقاتی رپورٹ آنے سے پہلے پائلٹ سجاد گل کی طرف انگلیاں اٹھانا ان کے عمر بھر کے کیریئر کو داغدار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اُن کے خاندان کے لئے بھی دُکھ کی اس گھڑی میں ایک تکلیف دہ امر ہے، جس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

مزید :

رائے -کالم -