……اور سائنس جیت گئی!

……اور سائنس جیت گئی!
……اور سائنس جیت گئی!

  

اور آخر کار سائنس جیت گئی…… کل (28مئی) پاکستانی قوم یومِ تکبیر منائے گی۔ بائیس برس پہلے اسی روز پاکستان نے انڈیا کے پانچ جوہری دھماکوں کے جواب میں چھ دھماکے کرکے 28مئی کو امر کر دیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ 23مئی 2020ء بھی ایک ایسا ہی تاریخ ساز دن تھا جب رات دس اور گیارہ بجے کے درمیان پاکستان میں سائنس نے ایک ایسا دھماکہ کر دیا جس کو سننے اور دیکھنے کے لئے خنجراب سے گوادر اور واہگہ سے تفتان تک پاکستان کے 22کروڑ عوام کی آنکھیں ترس گئی تھیں۔ ویسے تو مولانا پوپل زئی کے سعودی مرشدوں نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ سعودی عرب (اور متحدہ عرب امارات) میں 24مئی بروز اتوار یکم شوال ہو گی اور عیدالفطر منائی جائے گی۔ چنانچہ پوپل زئی تو اس دوڑ سے پہلے ہی آؤٹ ہو گئے تھے۔ یعنی مذہبی اختلاف کا جو کانٹا قوم کے حلق میں گزشتہ 73 برس سے پھنس گیا تھا، وہ اگرچہ نکل چکا تھا لیکن وائے افسوس کہ ایک بڑا کانٹا ابھی باقی تھا…… اور وہ تھا پاکستان کے سوادِ اعظم کو ایک دوسرے مولانا مفتی منیب الرحمن کی زبان سے یہ خوش خبری سنوانا کہ روئت ہلال کمیٹی کے مطابق پوپل زئی کے مقتدیوں کے علاوہ عید کس دن ہو گی۔ قرائن بتا رہے تھے کہ بعض مذہبی حلقے اتوار کی بجائے سوموار کو عید منانے کی تیاریوں میں ”مصروف“ تھے۔

پاکستان کے ایک اور مولانا (کلین شیو) فواد چودھری کہ پاکستان کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ہیں مفتی منیب الرحمن کی جان کے درپے تھے۔انہوں نے کئی دن پہلے اعلان کر رکھا تھا کہ امسال عیدالفطر 24مئی بروز اتوار ہو گی، یہ ماہ رمضان 29روزوں کا ہو گا اور سعودیوں اور پوپل زئیوں کو بھی اسی دن عید منانا پڑے گی۔ کہنے کو تو مولانا فواد یہ اعلان کرتے آ رہے ہیں کہ وہ مولانا منیب کا دل سے احترام کرتے ہیں کہ وہ ان کے بزرگ ہیں۔ لیکن تالی ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی۔ جب تک مولانا منیب، مولانا فواد کو اپنا برخوردار ڈکلیئر نہیں کرتے اس وقت تک دونوں کے افکار و خیالات میں بُعدالمشرقین رہے گا اور مولانا منیب نے تو کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ اعلان کر رکھا تھا کہ مولانا فواد اپنی سائنس سے کام رکھیں اور مذہبی امور و معاملات میں مداخلتِ بے جا سے باز آ جائیں (ٹانگ نہ اڑائیں کا ایک مہذب متبادل فقرہ) لیکن دوسری طرف مولوی فواد کا ادّعا تھا کہ وہ روئتِ ہلال کو مذہب کا مسئلہ نہیں سمجھتے کہ یہ سراسر ایک سائنسی مسئلہ ہے اور اس حوالے سے بحیثیت وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی ان کا Subject ہے۔

بیچارے پاکستانی عوام بالعموم اہل مذہب اور باریش حضرات سے بہت خائف رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے محسنوں میں تین اکابرین شامل ہیں …… ایک حضرت علامہ اقبال مفکر پاکستان…… دوسرے حضرت قائداعظم محمد علی جناح بانیء پاکستان…… اور تیسرے حضرت عبدالقدیر جو پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کے بانی ہیں اور یہ تینوں اکابرین نہ صرف یہ کہ کلین شیو تھے بلکہ ٹائی لگاتے اور تھری پیس سوٹ پہنتے تھے، انگریزی فرفر بولتے، لکھتے اور پڑھتے تھے، دیارِ مغرب کے تعلیم یافتہ تھے اور جہاں تک فہمِ دین کا تعلق ہے تو کون کافر ہے جو ان کے اعزاز سے انکار کر سکتا ہے۔مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال نے جب عیدالفطر کا چاند دیکھا تھا تو وہ لافانی نظم کہی تھی جو بانگ درا کا حصہ ہے، جس کا عنوان غرّۂ شوال ہے(چاند رات کے چاند کو غرّہ کہا جاتا ہے) اور جس کا پہلا شعر ہے:

غرّۂ شوال! اے نورِ نگاہِ روزہ دار

آ کہ تھے تیرے لئے مسلم سراپا انتظار

اٹھارہ (18)اشعارپر مشتمل یہ نظم اقبال نے سوزِ جذبات میں ڈوب کر لکھی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ اس نظم کو پڑھیں اور آپ کی زبان سے کلماتِ تاسف ادا نہ ہوں اور آنکھیں غم ناک نہ ہوں۔ اسی نظم کا ایک شعر یہ بھی ہے:

دیکھ کر تجھ کو افق پر ہم لٹاتے تھے گہر

اے تہی ساغر، ہماری آج ناداری بھی دیکھ

اسی تہی ساغر ہلالِ عید کو دیکھنے کے لئے 23مئی کی شام، مرکزی روئتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس تھا۔ آپ ایک عرصے سے دیکھ رہے ہوں گے کہ کسی ایک بلند مقام پر امریکہ (یا کسی اور ”کافر ملک“) سے خریدی گئی ایک جدید دور بین نصب کر دی جاتی ہے جس کی ٹیوب چار پانچ میٹر لمبی ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے کیمرہ مینوں کا ایک جم غفیر اپنے کیمرے اس دور بین پر فِٹ کر دیتا ہے اور اس کی ایک طویل نالی روئتِ ہلال کے لئے آسمان کے ایک حصے پر فوکس کر دی جاتی ہے۔جب ٹی وی کیمرے اپنا کام شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے مولانا مفتی منیب الرحمن کی تصویر بنائی جاتی ہے، وہ ایک آنکھ بند کرکے دور بین کی نالی سے چاند کو دیکھنے کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں۔ جب انہیں کچھ نظر نہیں آتا تو اردگرد حلقہ زن، مرکزی روئت ہلال کمیٹی کے نصف درجن اراکین میں ایک کا بازو پکڑتے ہیں، ان کی ریشِ مبارک، مفتی منیب کی ریشِ گلگونہ رنگ کے علی الرغم جیٹ بلیک ہے اور آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہے جو سنتؐ ہے اور وہ اس دور بین کی نالی پر اپنی ایک آنکھ گاڑ دیتے ہیں۔ جب ان کو بھی کچھ نظرنہیں آتا تو تیسرے مولانا کو دعوتِ دید دی جاتی ہے اور اس طرح حضرت مولانا منیب باری باری سب اراکینِ کمیٹی کے حقوقِ دید کی پاسبانی کرتے ہیں۔ جب میڈیا پر یہ کوریج دکھائی جاتی ہے تو ناظرین کو یقین آ جاتا ہے کہ قوم اگر سوئی بھی ہوئی ہے تو اس کے علماء جا گ رہے ہیں!

آپ شائد مولانا فواد چودھری کے حمائتی ہوں گے اور اس منظرِدید پر آپ کو یہ اعتراض ہو گا کہ اگرچاند دیکھنا سائنس اور ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں تو یہ مولانا حضرات ننگی آنکھ سے افق کو دیکھنے کی بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایجاد، دور بین کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟…… کس اسلامی خلافت میں روئتِ ہلال کے لئے دوربین استعمال کی جاتی تھی؟ کیا یہ ”حرکت“ غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی نہیں؟ اور اگر آپ نے دور بین پر تکیہ کر ہی لیا ہے تو وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی کو موردِ الزام کیوں ٹھہراتے ہیں؟ آپ کے پاس تو ایک دور بین ہے، ذرا وزیرِ موصوف کے توشہ خانے میں جا کر دیکھیں تو آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

ہمارے نظامِ شمسی کی گردشوں کا ایک سیمولیٹر (Simulator) اگر کسی مولانا کو دکھا دیا جائے تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ نہ صرف چاند بلکہ نظام شمسی کے تمام سیارے آسمان پر سالانہ گردش کرتے ہوئے کس کس مقام پر کیا کیا اشکال اختیار کرتے ہیں۔ اس نظام میں صرف سورج ستارہ ہے اور باقی سیارے ہیں جن کی دو گردشیں ہیں۔ ایک مداری گردش کہلاتی ہے جوہر سیارہ، سورج کے گرد اپنے مدار (Orbid) پر ایک مقررہ راستے (کورس) پر چلتے ہوئے طے کرتا ہے۔ اس کو سالانہ گردش بھی کہا جاتا ہے۔ ہماری زمین کی اس سالانہ گردش کا دورانیہ 365دن (اور چند گھنٹے) ہے…… دوسری گردش محوری ہے یعنی ہر سیارہ اپنے محور کے گرد بھی گھومتا ہے۔زمین کا وہ محور جو قطبِ شمالی سے قطبِ جنوبی کی طرف کھینچا گیا ہے وہ 66/1/2ڈگری پر ہے یعنی ٹیڑھا ہے اور یہ محوری گردش 24گھنٹے میں اپنے محور کے گرد ایک چکر پورا کرتی ہے۔ مداری (orbit)گردش کی وجہ سے موسم (سرما، گرما، بہار، خزاں) پیدا ہوتے ہیں اور محوری (Axis)گردش کی وجہ سے دن رات پیدا ہوتے ہیں۔

اسی طرح نظام شمسی کے مختلف سیاروں کے اپنے اپنے چاند ہیں۔ ہمارے سیارے (زمین) کا صرف ایک چاند ہے۔ اس کا طلوع و غروب اور بدر و ہلال درج بالا سمولیٹر پر صاف نظر آتا ہے۔ ایک ایک ڈگری، منٹ اور سیکنڈ میں یہ چاند زمین کے کس حصے پر طلوع ہو گا، اس کی شکل کیا ہو گی، اس کا فلک (افق) پر طلوع رہنے کا دورانیہ کتنا ہوگا، کس براعظم، کس ملک اور ملک کے کس حصے میں چاند کی کون سی شکل دیکھی جا سکے گی، اس کا تمام کیلنڈر فلکی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ہر طالب علم کو از بر ہے۔ اس لئے ہر ماہ ہلال کو آسمان پر تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سال بھر کا کیلنڈر آپ کے سامنے ہے۔ مولانا منیب الرحمن اور ان کے دوسرے اراکینِ کمیٹی اگر اپنی دور بین پر ”ایمان“ لاتے ہیں تو سمولیٹر پر کیوں نہیں؟

قارئین کو یاد ہو گا ان امور و موضوعات پر ماضیء قریب و بعید میں بہت ساری بحثیں ہو چکی ہیں۔ میں نے آپ کو صرف یاد دہانی کروائی ہے۔ اس عیدالفطر کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اب مرکزی اور صوبائی روئتِ ہلال کمیٹیوں کے ایام ختم ہونے والے ہیں۔ 23مئی 2020ء اس خاتمے کا مرحلہ ء اول تھا۔ آپ نے دیکھا کہ ساڑھے دس بجے شب جب چیئرمین مرکزی روئت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا تو حسبِ سابق ایک ایک مولانا کا نام صحیح مخرج اور درست تلفظ سے ادا کیا۔ کیا مجال کوئی اعراب (زیر، زبر، پیش) اِدھر اُدھر ہوا ہو۔ ان مولانا حضرات میں صوبائی کمیٹیوں کے مولاناؤں کے نام بھی تھے جو باامر مجبوری مفتی منیب صاحب کو لینے پڑے کہ یہ سب لوگ حکومت کے تنخواہ دارملازمین ہیں۔ ان کے باقاعدہ دفاتر ہیں جن میں نوکر چاکر، کلرک اور دوسرا عملہ بھی ہے۔ یہ دفاتر کسی مسجد میں قائم نہیں۔ ان کو سٹاف کاریں بھی فراہم کی گئی ہیں اور یہ سب بجٹ آپ کے ٹیکسوں سے ادا کیا جا رہا ہے۔ کیا اب اس خرچے کی ضرورت ہے؟……

یہی وہ بنیادی سوال ہے جو مولانا مفتی منیب الرحمن اور مولانا فواد چودھری کے درمیان وجہِ نزاع ہے۔ حکومت جان بوجھ کر چپ ہے، ابھی اس کو دوسرے بہت سارے جھمیلوں سے نمٹنے کی فرصت نہیں اس لئے روئت ہلال کے مسئلے کو فی الحال بیک برنر پر رکھ دیا گیا ہے۔ مگر جلد وہ وقت آنے کو ہے جب سائنس اور ٹیکنالوجی جیت جائے گی۔ 23مئی کے اس اعلان میں جو حضرات موجود تھے ان میں محکمہ موسمیات کے کلین شیو حضرات بھی تھے اور پاک بحریہ کا ایک وردی پوش آفیسر بھی تھا جس نے اور مارا کے ساحل پر چاند دیکھنے والوں کے ایک جم غفیر کی وڈیو اس اجلاس میں دکھائی۔ یہ ہجوم کہہ رہا تھا کہ ہم نے ہلال دیکھا ہے۔ یہی بات چمن کی کمیٹی کے مولانا حضرات نے بھی کہی۔ ہمیں ان مولانا حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور محکمہ موسمیات اور پاک بحریہ کا بھی کہ انہوں نے سارے پاکستان کو دو عیدوں کے عذاب سے بچایا۔

……میں آخر میں مفتی منیب الرحمن صاحب کے لچک پذیر رویئے کی داد بھی دینی چاہتا ہوں۔ انہوں نے خند پیشانی سے اور مارا اور چمن کے عوام کی روئت ہلال پر آمنّا کہا اور باقی اراکینِ مرکزی کمیٹی کو اپنے موقف پر راضی کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ یہ حضرات پوری قوم کے شکریئے کے حقدار ہیں!

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

مزید :

رائے -کالم -