سندھ حکومت نے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراض اٹھا دیا،نیا تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ

سندھ حکومت نے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراض اٹھا دیا،نیا ...
سندھ حکومت نے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراض اٹھا دیا،نیا تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ حکومت نے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم پراعتراض اٹھادیا، تحقیقاتی کمیٹی کو ختم کر کے نئی ٹیم تشکیل دی جائے،پی آئی اے کے سی ای او اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو عہدے سے ہٹایا جائے، اِس کے بغیر شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔

کراچی کیمپ آفس میں صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ اور امتیاز شیخ کے ہمراہ پریس کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کہا جاتا ہے پائلٹ کی غلطی ہے تو کبھی کہا جاتا ہے پرندے ٹکرائے،ہمیں طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراض ہے، تحقیقاتی ٹیم میں تمام لوگ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ماتحت ہیں، پی آئی اے کے سی ای او اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو عہدے سے ہٹایا جائے اِس کے بغیر شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔ان کا کہنا مزید کہنا ہے کہ پہلے کسی نے نہیں بتایا کہ طیارہ رن وے پر آیا تھا لیکن جب مسافر زبیر نے بتایا تب سب کو پتا چلا طیارہ رن وے پر آیا تھا، حادثے کی ذمہ داری ان پر ڈالی جارہی ہے جو اب اس دنیا میں نہیں۔

سعید غنی نے مطالبہ کیا کہ اس تحقیقاتی کمیٹی کو ختم کر کے نئی ٹیم تشکیل دی جائے، تحقیقاتی ٹیم میں پالپا، عالمی پائلٹس کی تنظیم کے نمائندوں پر مشتمل غیر جانبدار تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے اور پھر فیصلے کیے جائیں۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو ضرور تحقیقات میں شامل کریں جبکہ ماڈل کالونی کے ساتھ کینٹ کا علاقہ بھی ہے پھر اسے بھی تحقیقات میں شامل کریں، ائیرپورٹ کے اطراف تعمیرات کی اجازت سول ایوی ایشن دیتا ہے تو اسے بھی شامل کریں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات ناصر شاہ نے طیارے حادثے سے متعلق امدادی کاموں کے حوالے سے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کراچی لیب میں ہورہے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج آنے پر نعشیں ورثا کے حوالے کی جائیں گی، اس حادثے کے بعد تمام اداروں نے مل کر کام کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹڈی دل پر وفاق نے صوبے کی کوئی مدد نہیں اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت سنجیدہ نہیں، ٹڈی دل حملے وفاقی حکومت کی نااہلی ہے، وفاق نے ریگستانی علاقوں میں سپرے کا وعدہ کیا تھا، سندھ حکومت نے اپنے طور پر ٹڈی دل کا مقابلہ کیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -