شوال کا چاند،لاہوریئے انتظار کی سولی پر لٹکے اور ایک روزہ کم ہو گیا!

شوال کا چاند،لاہوریئے انتظار کی سولی پر لٹکے اور ایک روزہ کم ہو گیا!

  

ہجری تاریخوں کے حوالے سے پورے سال میں گیارہ ماہ کے دوران تو کوئی تنازعہ سامنے نہیں آتا،لیکن رمضان المبارک اور شوال کے چاند پر ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے اور تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود ایک سے زیادہ عیدیں منائی جاتی ہیں۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور پشاور کی جامع مسجد قاسم خان کی رویت ہلال کمیٹی کے درمیان ایک روز کا اختلاف ہوتا ہے اور یہ بھی اس طرح کہ مفتی پوپلزئی کی قیادت میں قائم کمیٹی، مرکزی کمیٹی سے ایک یوم پہلے رہتی، روزہ بھی پہلے رکھا اور عید بھی ایک روز قبل منائی جاتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، تاہم یہ رمضان کی ابتدا پر ہو گیا اور جامع مسجد قاسم خان والوں نے سعودی عرب کے اعلان کے ساتھ مطابقت کی(ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے) اور روزہ ایک روز پہلے رکھ لیا، تاہم عید کے حوالے سے وفاقی وزیر فواد حسین چودھری مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مقابل آئے اور ان کی طرف سے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس سے قبل ہی یہ اعلان کر دیا گیا کہ عیدالفطر24مئی کو ہو گی۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس شوال کا چاند دیکھنے کے لئے 23مئی(ہفتہ) کو ہونا تھا، تاہم فواد چودھری کی مہارت سے تیار کردہ کیلنڈر کے مطابق شوال کی یکم اتوار(24 مئی) کو تھی اور عید اسی روز ہونا تھی، جبکہ رویت ہلال کمیٹی23مئی (29ویں روزے) مل رہی تھی اور فیصلہ اجلاس میں ہونا تھا۔

اس صورت حال نے ملک بھر میں بے چینی پیدا کر دی اور کیلنڈر کی حمایت اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی مخالفت شروع ہو گئی اور سوشل میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا پر بھی بحث جاری ہو گئی، چنانچہ23مئی(ہفتہ) کا روز یہاں شہریوں پر بہت بھاری گذرا کہ عید کب ہو گی،اس حوالے سے سوشل میڈیا پر نامناسب زبان بھی استعمال کی جاتی رہی،جبکہ پورے روزے رکھنے والے حضرات و خواتین کی یہ توقع تھی کہ روزے30ہوں گے اور عید 25 مئی (پیر) کو ہو گی،لیکن یہ توقع پوری نہ ہوئی۔ رویت ہلال کمیٹی نے رات دس بجے کے بعد فیصلہ کیا اور ”پسنی“ سے ملنے والی شہادت کے حوالے سے شوال کے چاند کا اعلان کر دیا اور عید (24مئی) کو منائی گئی۔ اس اعلان سے روزہ داروں کو سخت مایوسی ہوئی، جبکہ علماء کی مخالفت اور فواد حسین چودھری اور ان کے کیلنڈر کی حمایت والے بہت خوش ہوئے،چنانچہ عید تو پورے ملک میں بہت طویل عرصہ بعد ایک ہی روز ہوئی لیکن یہاں روزے29ہوئے۔اب روزہ داروں کا مفتی منیب الرحمن سے یہ سوال ہے کہ اگر کمزور شہادت کی بناء پر اس بار فیصلہ کر لیا گیا تو ایک روزے کی کمی کا کفارہ کون ادا کرے گا؟ کہ جہاں جہاں اتوار کی عید (سعودی عرب+مشرق وسطیٰ) ہوئی، وہاں 30روزے رکھے گئے، خوشی منانے اور اعلان کرنے والے دونوں پر واجب ہے کہ وہ اس عوامی استفسار کا جواب دیں اور یہ بھی بتائیں کہ شوال کے چاند کی رویت کے نام اور حوالے سے جس طرح اسلامی شعائر کو نشانہ بنا کر مذاق اڑایا گیا اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے کہ چاند کی رویت پر اختلاف انسان کرتے ہیں اور غلطی بھی انہی سے ہوتی ہے۔اس میں دینی شعائر اور احکام کی غلطی اور کمی کہاں ہے؟ کیا رسول اکرمؐ کا یہ فرمان نہیں کہ ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی عید کر لو“ اب سوال یہ ہے کہ جن حضرات و خواتین نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اتباع میں روزہ رکھا اور عید کی، ان کے ایک روزہ کی کمی کا حساب کون دے گا؟

پنجاب میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث کسی ”معیار کار“(ایس او پیز) کا خیال نہیں رکھا گیا اور شہریوں نے حالات کو معمول ہی جانا، اور نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب خوب شاپنگ کی۔ لاہور میں تو شہر کے تنگ بازاروں پر کیا منحصر کھلے اور جدید علاقوں میں بھی بہت رش رہا اور سماجی فاصلوں کو نظر انداز کیا گیا، بہت کم افراد نے فیس ماسک پہنے، جبکہ خواتین بچوں کو بھی ساتھ لے کر شاپنگ کے لئے نکلیں، اس بار ”روڈ سائیڈ“ بازاروں کی بھی بھرمار تھی اور بڑی سڑکوں کے کنارے اور گرین بیلٹوں پر دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ عید کے اجتماعات میں اگرچہ ایس او پیز کا خیال رکھنے کی کوشش کی گئی،لیکن نمازیوں نے ناکام بنا دی اور نماز کی ادائیگی کے بعد گلے بھی ملتے رہے۔ رویت کے مطابق عید کے نام پر مہنگائی کی گئی، بکرے کا گوشت 1300روپے فی کلو اور مرغی (برائلر) کا گوشت300سے350روپے فی کلو تک بھی بیچا گیا، جبکہ فروٹ(پھل) بھی 20سے 25فیصد تک پہلے سے مزید مہنگے بیچے گئے،حتیٰ کہ ادرک ایک ہزار روپے فی کلو ہو گیا۔عیدی کے نام پر سرکاری اہلکار بھی دروازے بچاتے رہے اور بھکاریوں نے ناک میں دم کئے رکھا۔ لاہوریوں نے نرمی کے نام پر کورونا کو بھگا دیا۔ اگرچہ اس دوران متاثرین اور وفات پانے والوں میں اضافہ ہوا۔ایک صوبائی وزیر اور سیکرٹری بھی متاثرین میں شامل ہیں۔

رمضان المبارک، عید اور کورونا نے اگرچہ کسی عمل کو متاثر نہیں کیا تو وہ سیاست اور نیب ہے۔ نیب نے اپنا عمل جاری رکھا اور سیاسی بیان بازی بھی بدستور پہلے کی طرح تھی۔ اگرچہ کورونا کے باعث احتجاجی مظاہرے اور جلسے ممکن نہیں ہیں۔

بدقسمت طیارے ایئر بس کے کپتان سجاد گل کی تدفین لاہور میں ہوئی۔ ان کے والد گل محمد بھٹی کو شکوہ ہے کہ کپتان کو ذمہ دار بنانے کی کوشش ابھی سے شروع کر دی گئی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -