عید پر اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات، طیارہ حادثہ نے فضا سوگواررکھی

عید پر اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات، طیارہ حادثہ نے فضا سوگواررکھی

  

اسلام آباد ڈائری

میٹھی عید اس بار کورونا کی وبا کے پیش نظر اور کراچی میں پی آئی اے کے طیارہ کے حادثہ کی بدولت پھیکی عید میں تبدیل ہو گئی۔ با شعور گھرانوں کے افراد حتیٰ کہ بچوں نے بھی اس بار عید شاپنگ کی نہ خواتین اور بچیوں نے مہندی لگوائی حتیٰ کہ چوڑیاں بھی نہیں پہنیں۔ دارالحکومت میں کورونا وائرس کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ عید شاپنگ کے دنوں میں خاص کڑک نظر آئی حتیٰ کہ چاند رات مہندی اور چوڑیوں کے سٹالز بھی لگانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگرچہ دارالحکومت کے پوش علاقوں میں عید شاپنگ کے دوران لوگوں نے قدرے حفاظتی انتظامات کئے لیکن لوئر مڈل کلاس کے تجارتی مراکز میں عوام کورونا سے بے نیاز شاپنگ میں مصروف رہے۔ یہی حال دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کا تھا جہاں بازاروں میں بے تحاشا رش تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کے لاک ڈاؤن کے حوالے سے مسلسل ملے جلے اشاروں اور سپریم کورٹ کی جانب سے تمام شاپنگ مالز کو کھولے جانے کے حکم نامے کے بعد عوام تمام حفاظتی انتظامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بازاروں میں اُمنڈ پڑے۔ عوام کی اکثریت پہلے ہی سے کورونا کی وبا کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی عاری ہے۔ لاک ڈاؤن کھولنے کے فیصلے نے عوام کے کورونا وائرس کے حوالے سے پہلے سے دھندلائے ہوئے تصورات کو مزید گدلا کر دیا ہے۔ اس حوالے سے اب وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا بھی متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر عوام نے یہی روش اختیار کئے رکھی تو دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا عید شاپنگ میں جس بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس کے کچھ نہ کچھ منفی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اس ضمن میں اگلا ایک ماہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے لیکن یہ نرمی تب کی گئی ہے جب ان ممالک میں کورونا مریضوں کا گراف نیچے کی طرف آنا شروع ہو گیا اور اکثریت ممالک میں لاک ڈاؤن کی نرمی کے بعد بھی عوام مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کئے ہوئے ہیں پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی ایسے وقت میں کی گئی جب کورونا مریضوں کا گراف تیزی سے اوپر جا رہا تھا۔ در حقیقت پاکستان جیسے ملک میں کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے موثر لاک ڈاؤن کے سوا کوئی دوسرا ہتھیار کارگر نہیں ہو سکتا۔ قرین قیاس ہے کہ حکومت اپنی حکمت علمی کا از سر نو جائزہ لے کر اس ضمن میں کوئی فیصلہ کرے گی۔

کورونا کے خوف کے ساتھ ساتھ طیارہ حادثہ نے بھی رہی سہی عید کی خوشیوں کو گہنا دیا۔ دارالحکومت میں بالخصوص اس حادثہ میں ایک جواں سال کیڈٹ کی شہادت زیر گفتگو رہی جبکہ پاکستان کی ایک ٹاپ ماڈل کی اس حادثہ میں موت اور اسلام آباد میں سٹینڈرڈ چارٹر بنک کے کریڈٹ منیجر کی اپنی بیوی بچوں سمیت ہلاکت نے دارالحکومت کی فضا کو سوگوار کئے رکھا۔ اگرچہ راولپنڈی سے بڑی تعداد میں گاڑیوں میں سوار لوگوں نے حسب معمول عید کے موقع پر دارلحکومت کا رخ کیا لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرتے ہوئے واپس لوٹنا پڑا۔ دارالحکومت میں تفریحی مراکز بند رہے جبکہ ہوا بازی کے وفاقی وزیر سردار غلام سرور خان نے طیارہ حادثہ کی نہ صرف تحقیقات کا اعلان بھی کیا بلکہ حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کے پس ماندگان کے لئے معاوضہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں طیارہ حادثہ کی دو الگ الگ تحقیقات ہوں گی اور ان کے نتائج شفاف طریقے سے عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت اپنے اس اعلان پر کس حد تک عمل پیرا ہو پاتی ہے۔ پاکستان میں ایسے حادثات کی انکوائری رپورٹس کو فائلوں کے انبار تلے دفن کر دیا جاتا ہے۔ اس طیارہ حادثہ پر ترکی کے صدر طیب اردگان نے وزیر اعظم عمران خان کو فون کر کے اظہار افسوس کیا علاوہ ازیں انہوں نے کورونا کی وبا کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون سے لائحہ عمل مرتب کرنے پر بھی زور دیا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کی جانب سے کورونا کے حوالے سے امدادی سامان کی فراہمی پر بھی شکریہ ادا کیا گیا جبکہ اس حادثہ پر امریکہ، چین، جاپان، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر تمام دوست ممالک کی جانب سے اظہار افسوس کیا گیا۔ ابو ظبی کے کراؤن پرنس ایچ ایچ محمد نے بھی وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلیفون کر کے اظہار افسوس کیا وزیر اعظم عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز کارروائیوں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ در حقیقت بھارت ایک بار پھر پاکستان کے خلاف کسی آپریشن کا ڈرامہ رچانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے پاکستان نے ایسی انٹیلی جنس اطلاعات کی بدولت بروقت عالمی دنیا کو بھارت کے مذموم مقاصد کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے اسی ضمن میں عید سے قبل وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض نے تفصیل ملاقات کی جس میں اس ساری صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پاک فوج کی اس حوالے سے تمام ضروریات پوری کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا۔

اس بار عید کا چاند دیکھنے پر دارالحکومت میں وفاقی وزیر سائنس فواد چودھری اور رویت ہلاک کمیٹی کے مابین خوب چاند ماری ہوئی۔ فواد چودھری اپنے مختلف طرز کی بدولت نوجوان حلقوں میں خاصے مقبول ہیں اس صورتحال کی بدولت وفاق وزیر مذہبی امور نور الحق بھی اس صورتحال پر قدرے پریشان نظر آئے۔ انہوں نے اپنا وزن رویت ہلاک کمیٹی کے پلڑے میں ڈالا اور از راہ تفنن کہا کہ فواد چودھری آجکل چاند چاند کھیل رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ بالآخر رویت ہلال کمیٹی کو بھی سائنس کی اس شعبہ میں ترقی کو ماننا پڑا اور فواد چودھری نے اپنے حلقوں سے سوشل میڈیا پر خوب داد پائی۔

عید سے قبل شوگر کمیشن کی رپورٹ نے خوب تہلکہ مچایا لیکن وقت بتائے گا یہ صرف ہوائی فائرنگ تھی یا ذمہ داروں کے خلاف ٹھوس اقدامات بھی کئے جاتے ہیں دیکھنا ہے کہ ریگولیٹرز اور کاروباری مافیا کا گٹھ جوڑ کب اور کیسے ٹوٹ پاتا ہے۔ اب دوائیوں کی بھارت سے درآمد کے سکینڈل کی تحقیقات ہو رہی ہیں شنید ہے کہ ہوش ربا حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ اپوزیشن بھی حکومت کے لئے لینے کے لئے پر تول رہی ہے حکومت کو داخلی سیاسی خطرات اور کورونا کی وبا سے نپٹنے کے علاوہ سرحدی صورتحال کی سنگینی کا چیلنج بھی درپیش ہے دیکھنا ہے کیسے ان چیلنجز سے عہدہ براں ہوتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -