خیبرپختون خوا میں ایک روز عید پر خوشی کا اظہار، مفتی پوپلزئی کے مقلدین زیادہ مطمئن!

خیبرپختون خوا میں ایک روز عید پر خوشی کا اظہار، مفتی پوپلزئی کے مقلدین زیادہ ...

  

سی۔ کے۔ حسین سے

خیبرپختون خوا میں رمضان المبارک کے 29 اور 30 روزے پورے ہوئے اور اتوار کو عید الفطر پورے دینی جذبے سے منائی گئی۔ جامع مسجد قاسم خان کی نجی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی پوپلزئی نے 22 مئی کو کمیٹی کا اجلاس کیا اور شہادتوں کی عدم موجودگی کے باعث اعلان کیا کہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، اس لئے ہفتہ (23 مئی) کو روزہ ہوگا۔ مفتی پوپلزئی کے مقلدین نے اس روز 30 واں روزہ رکھا سعودی عرب میں بھی صورت حال یہی تھی اور شوال کے چاند کی مناسبت سے ہفتے کو 30 واں روزہ اور اتوار کو عید الفطر تھی جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی رویت پر عمل کرنے والے حضرات کا ہفتے کو 29 واں روزہ تھا۔ مفتی پوپلزئی نے رمضان کے چاند کا جو اعلان کیا اس کے مطابق روزہ مرکزی کمیٹی کے حوالے سے ایک روز پہلے رکھا گیا۔ بہر حال ہفتہ (23 مئی) کو رات گئے جب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان سامنے آیا تو مفتی پوپلزئی کے مقلدین دہری خوشی سے نہال تھے کہ ان کی رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ ہی درست ثابت ہوا۔ بہر حال فریقین خوش تھے کہ طویل عرصہ بعد عید ایک ہی دن ہو گی۔ چاند کی رویت ہونے کے بعد پشاور اور نواحی شہروں میں روائتی گولے بھی چلائے گئے اور اتوار کو نماز عید ادا کی گئی، چاند رات اور اس لاک ڈاؤن کی نرمی سے عوام نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کسی احتیاطی تدبیر کو خاطر میں نہیں لائے۔ بازاروں میں ہجوم رہا اور عید کی شاپنگ کی گئی۔ خواتین کے ساتھ بچے اور بچیاں بھی تھے۔ اسی طرح نماز عید کے اجتماعات میں بعض مقامات پر احتیاط کی کوشش ہوئی۔ تاہم اکثر جگہوں پر سماجی فاصلوں کا کوئی لحاظ نہ رکھا گیا اور نماز کے بعد نمازی گلے مل کر عید کی عبارک باد بھی دیتے اور لیتے رہے۔

لاک ڈاؤن کی نرمی کے نتیجے میں بہر حال متاثرین میں قدرے اضافہ ہوا، اور سرکاری طور پر جو اعداد و شمار بتائے گئے ان سے تاثر ملا کہ عام لوگوں کے ٹیسٹ نہ ہوئے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے اب اگر کسی جگہ کوئی مثبت کیس سامنے آیا تو پورے علاقے میں لاک ڈاؤن کر کے تحقیق کی جائے گی۔ دوسری طرف پشاور کے ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے علاج میں مصروف طبی عملے میں بے چینی پائی جا رہی ہے جس کے مطابق عملہ تھکاوٹ کا شکار ہور ہا ہے جبکہ بہت افراد خود متاثر ہو گئے ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کورونا ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹر (ماہر پروفیسر) نئے اوقات کار سے پریشان ہیں، جن کے مطابق ان سے ہفتے میں ایک سو گھنٹے تک ڈیوٹی لی جائے گی۔ ان ڈاکٹروں نے (اطلاع کے مطابق) صوبائی محکمہ صحت سے احتجاج کیا اور ایک خط کے ذریعے سابقہ ڈیوٹی روسٹر اور طریق کار بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خط کے مطابق نئے اوقات کے مطابق طبی عملہ (ڈاکٹر) پریشان ہیں اور ان کے اپنے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ ایسی صورت میں مریضوں کا بھی نقصان ہوگا کہ ڈاکٹر ہی مریض بن گئے تو پہلے مریضوں کو کون سنبھالے گا۔ حکومت کی طرف سے تا حال کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

صوبائی وزیر اعلیٰ محمود خان اور صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے عوام کو عید کی مبارکباد دی اور حکومتی، انتظامی، انتظامات کو سراہا، ہر دو راہنماؤں نے ساتھ ہی یہ اپیل بھی کی کہ عوام محکمہ صحت کی طرف سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر کا مکمل خیال رکھیں کہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ لوگ اپنا اور دوسروں کا خیال رکھیں۔ اجمل وزیر نے تاجر بھائیوں کو انتباہ کیا کہ وفاقی حکومت کی ہدایت اور مشاورت سے دوکانیں کھولنے اور عید کی خوشیاں منانے کی جو اجازت دی گئی اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر پابندی دوبارہ لگانا اور ان کو سخت کرنا پڑے گا۔ شہری اور تاجر خود اپنا اور دوسروں کا خیال کریں۔

افغانستان کے امن سے پاکستان میں بھی اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے کہ کابل کی بد امنی سے خیبرپختون خوا کے قبائلی علاقے خصوصاً اور دوسرے ملکی حصے عموماً متاثر ہوتے اور تخریب کاری کا شکار ہوتے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے حصوں میں اب بھی شرارتی عناصر تخریبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ جلال آباد اور کابل میں ”را“ (بھارتی خفیہ ایجنسی نے تربیتی کیمپ بھی بنا رکھے ہیں۔ حال میں عید کے موقع پر طالبان نے سہ روزہ ”جنگ بندی“ کا یکطرفہ اعلان کیا تو اس کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی خوش آمدید کہا اور طالبان کے مزید 2000 قیدیوں کی رہائی کا اعلان کر کے ہدایت کی کہ ان کو جلد رہا کرنے کا اہتمام کیا جائے تازہ اطلاع کے مطابق فوری طور پر 100 طالبان رہا کئے گئے۔ خیبر پختون خوا میں اس پر اطمینان ظاہر کیا گیا اور توقع کی گئی کہ افغانستان میں امن کی کوشش کرنے والی قوتوں کو کامیابی ملے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -