بدقسمت طیارے نے لینڈنگ کی کوشش کی، ایئرپورٹ پر انتظام نہیں تھا

بدقسمت طیارے نے لینڈنگ کی کوشش کی، ایئرپورٹ پر انتظام نہیں تھا

  

کراچی ڈائری: مبشر میر 

پوری قوم کورونا وائرس کی تباہ کاریاں جھیلنے میں مصروف تھی۔ عید الفطر سے قبل ایک شدید ترین حادثہ گہرا صدمہ دے گیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچ کر رن وے سے چند لمحوں کی دوری پر قریبی آبادی ماڈل کالونی ملیر کینٹ میں گر گئی اور 97 قیمتی جانیں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ حادثہ کیا تھا کہ پوری قوم لرز گئی۔ دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات آنے لگے۔ حادثے کے بعد چند ہی منٹوں میں ریسکیو ٹیمیں بھی وہاں پہنچ گئیں۔ ملیر چھاونی کا علاقہ ہونے کے ناتے پاک آرمی کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ریسکیو کا عمل جاری تھا کہ حیران کن رپورٹنگ مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھنے کو ملی جس میں صحافتی اقدار کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے تحقیقات سے پہلے ہی نیوز رومز اور رپورٹرز نے فیصلے صادر کرنا شروع کر دیئے۔ ہر کوئی اپنی سبقت کی بات کر رہا تھا۔ کمرشل ازم کے زیر اثر میڈیا، صحافتی اقدار کو بھی بھول گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر حادثہ بہت سے سوال اٹھا تا ہے اور ان میں سے چند ایک کے ہی جواب مل پاتے ہیں۔ اکثر سوال ہی رہتے ہیں۔ پی آئی اے کے اس بدقسمت طیارے کے متعلق بھی بہت سے سوال ہیں۔ا گر تحقیقات گذشتہ ادوار کی طرح نہ ہوئی تو ہو سکتا ہے کہ قوم حقائق جان سکے۔ موجودہ تحقیقاتی ٹیم پر پالپا تنظیم نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ اس میں کسی کمرشل پائلٹ کو شامل نہیں کیا گیا۔ تحقیقات کے لیے ایئر فورس ماہرین پر ہی انحصار کیا جا رہا ہے۔ طیارہ حادثے میں معجزانہ طور پر دو افراد زندہ بچے، ظفر مسعود جو بینک آف پنجاب کے سی ای او ہیں اور ایک نوجوان محمد زبیر۔ حادثے پر اہم سوال محمد زبیر کی گفتگو نے اٹھایا کہ حادثے سے پہلے بھی لینڈنگ کی کوشش ہوئی تھی۔ اس وقت بھی لینڈنگ گیئرز کھلنے میں ناکام ہو گئے تھے لیکن ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈگ کے انتظامات مکمل نہیں تھے۔ اس لیے پائلٹ کو فضا میں دوبارہ طیارے کو لے جانا پڑا۔ کاش اسی وقت ہنگامی لینڈنگ ہوسکتی۔ 

پی آئی اے پر جو سوال اٹھتا ہے، وہ طیارے کی دیکھ بھال کے حوالے سے اہم ہے، جس کا جواب انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو دینا ہو گا۔ ایئرپورٹ پر انتظامات مکمل نہ ہونے کی ذمہ داری سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ہو گی۔ باخبر ذرائع کے مطابق 2018  سے سی اے اے اپنے مستقل ڈی جی سے محروم ہے۔ اہم ترین اداروں کو ایڈہاک ازم کی بنیاد پر کیوں چلایا جا رہا ہے؟ اس کا جواب وفاقی حکومت کو دینا ہو گا۔ ایک اہم سوال سندھ حکومت اور کراچی کی شہری حکومت کو بھی دینا ہو گا کہ حادثے کے بعد ریسکیو کے انتظامات میں یہ دونوں حکومتیں کہاں تھیں۔ لاشیں ایدھی اور چھیپا اٹھا رہا تھا۔ جے ڈی سی کی ٹیم ان کی ہر طرح سے معاونت کرتی نظر آئی، جس طرح کورونا بحران میں کراچی میں ایدھی، سیلانی ویلفیئر، الخدمت، جے ڈی سی نے مل کر کام کیا، اسی طرح حادثے میں بھی ان کی خدمات شاندار ہیں۔ کے ایم سی کے پاس مشینری نہیں۔ سندھ حکومت کے وزرا نے صرف فوٹو سیشن کیا۔ ریسکیو کا تکنیکی کام افواج پاکستان نے کیا۔   طیارہ ساز کمپنی ایئربس، فرانس بھی تحقیقات میں شامل ہو گی لیکن پاکستان میں تحقیقاتی کمیٹی کے علاوہ ایوان بالا میں ایوی ایشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی جس کے سربراہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ ہیں کو بھی متعلقہ لوگوں کو کمیٹی میں  بلا کر سوال جواب کرنے چاہئیں اور ایک رپورٹ ایوان میں پیش کرنی چاہئے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ افسوس ناک حادثوں سے بچنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ پیشہ ورانہ کوتاہیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ہو ورنہ ان تحقیقات کا کوئی فائدہ نہیں۔ جائے حادثہ کی قریبی آبادی سے لوگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ حادثے کے فوری بعد کچھ عاقبت نااندیش لوگوں نے جہاز کے مسافروں کا سامان جو جلنے سے بچ گیا اور گلیوں میں بکھرا پڑا تھا، اسے اٹھا کے لے جانے میں شرمندگی محسوس نہ کی، جو قومی اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ شہدا کے لواحقین کو ان کے پیاروں کا سامان لوٹانے میں مدد کرے اور تباہ حال گھروں کے مکینوں کی بھی امداد کرے۔ عید کے موقع پر کراچی کے شہری جہاں وبا سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات سے ناخوش ہیں، وہاں مزید نئے لوگ جوش اور جذبے سے عوام کی خدمت کرتے نظر آرہے ہیں۔ ایس آر او (social responsibility organizations ) نے شہر کراچی کے کئی علاقوں کو جراثیم سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ زیڈ ایچ خرم کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیمیں پورے کراچی میں پھیل چکی ہیں۔ گلی، محلوں کے ساتھ ساتھ اہم عمارتوں کو بھی جراثیم کش ادویات سے اسپرے کیا جا رہا ہے۔ اسی تنظیم نے ریلوے اسٹیشن کینٹ کراچی پر تین واک تھرو گیٹ نصب کر دیئے ہیں۔ 

عید الفطراگرچہ سادگی سے منانے کا اعلان ہوا تھا لیکن ٹی وی چینلز نے اس اعلان کو ہوا میں اڑا دیا اور لگتا ہی نہیں کہ اس ملک میں اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے۔ عید پر نماز کے اجتماعات میں نظم و ضبط کافی حد تک دیکھا گیا ہے لیکن مارکیٹوں میں صورت حال افسوس ناک تھی۔ سندھ حکومت گذشتہ سالوں کی طرح شہر کراچی کے لوگوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی دینے میں ایک مرتبہ پھر ناکام رہی۔ کئی علاقوں کے لوگ نماز عید کی تیاری کے لیے پانی کو ترستے رہے۔ ٹینکر مافیا نے حسب سابق اپنی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا۔ گذشتہ بارہ برسوں میں کوئی ایک رمضان المبارک یا عید ایسی نہیں تھی، جب صاف پانی کا بحران پیدا نہ ہوا۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -