ہندوستا ن کی بدترین ”ہندو توا“ پالیسی خطے کو جنگ میں دھکیل سکتی ہے: شہر یار آفریدی

ہندوستا ن کی بدترین ”ہندو توا“ پالیسی خطے کو جنگ میں دھکیل سکتی ہے: شہر یار ...

  

چکوٹھی(آئی این پی)چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار آفریدی کا عید الفطر کے دن لائن آف کنٹرول چکوٹھی کا دورہ۔کشمیریوں کی جد و جہدآزادی اور قربانیوں کوخراج تحسین۔ چکوٹھی میں خطاب کرتے ہوئے شہر یار آفریدی نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسیوں اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ظلم نے دو قومی نظریہ کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ہندوستان کی ایک اورتقسیم کو کوئی نہیں روک سکے گا۔بھارت بیرونی دنیا کے لیے انڈیا ہے جو بالی وڈ کا شائننگ انڈیا ہے، جو جدت پسند، ترقی یافتہ، دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت اور پانچویں بڑی اکانومی ہے۔ جس کے ساتھ عرب اور عجم سب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کے پاکستان، بنگلا دیش، نیپال، چائنہ، سری لنکا سب کے ساتھ سرحدی جھگڑے جاری ہیں۔ دنیا کو انڈیا سے زیادہ ہندوستان کو دیکھنا پڑے گا۔ بھارت میں بھوک اور افلاس کی چکی میں پستی ہوئی آبادی ہے جس کا پیٹ نسلی اور مذہبی نفرت کے بیا نیے سے بھرا جاتا ہے۔جہاں مسلمان کو قابل نفرت انسان سمجھاجاتا ہے۔ جہاں گائیکے ذبح کرنے پر مسلمان زندہ جلا دیے جاتے ہیں لیکن گوشت برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے انہوں نے کہا کہ ہندستان کی بد ترین ''ہندوتوا'' پالیسی اس خطے کو کسی بھی وقت جنگ میں دھکیل سکتی ہے جس کے نتائج انتہائی خطرناک اور خوفناک ہونگے۔ کشمیر کے مسئلے کا دیر پا حل ہی خطے میں پائدار امن کا ظامن ہے۔۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بھارت کو نازی جرمنی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے سے روکنا ہوگا۔ بھارت کی مسلم کش اور اسلامو فوبیا کی پالیسیوں کی گونج عرب دنیا تک پھیل چکی ہے۔ شہر یار آفریدی نے کہا کہ تمام بڑی عالمی طاقتوں اور عالم اسلام کو کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور کشمیری لیڈر شپ کی رہائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔

شہر یار آفریدی

مزید :

صفحہ آخر -