گورنر سندھ عمران اسماعیل کی طیارہ حادثہ شہدا ء کے گھر آمد، لواحقین سے اظہار تعزیت کی

گورنر سندھ عمران اسماعیل کی طیارہ حادثہ شہدا ء کے گھر آمد، لواحقین سے اظہار ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) گورنرسندھ عمران اسماعیل عید کے دن طیارہ حادثہ میں شہید ہونے والے سید محمد احمد، شبیر احمد اور رضوان احمد کے گھر گذارا، وہاں شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کی دعا بھی کی۔اس موقع پر گورنر سندھ کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد صدیقی، رکن صوبائی اسمبلی شہزاد قریشی، محمود مولوی سمیت دیگر بھی ساتھ تھے۔ شبیر احمد کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ طیارہ حادثہ میں تمام زخمی افراد کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گوہوں بلاشبہ عید الفطر سے قبل پوری قوم پر بہت بڑی قیامت برپا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثہ کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے اس ضمن میں ڈی این اے کے ماہرین کی خصوصی ٹیم لاہور سے کراچی پہنچ گئی ہے ٹیم اپنی تحقیقات کرکے رپورٹ جلد وزیراعظم پاکستان کو پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثہ کے شہداء کو فی کس 10، 10 لاکھ روپے دیئے جارہے ہیں اس کے علاوہ لواحقین کو انشورنس کی رقم بھی موصول ہونا شروع ہو جائے گی،طیارہ حادثہ میں متاثر مکانات کی تعمیر حکومت کرے گی متاثرین مکانات قصر ناز یا پی آئی اے کے ایئر پورٹ ہوٹل میں قیام کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیم لاشوں کی شناخت کے لئے کام کررہی ہے حادثہ میں شہید کئی افراد کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ سندھ میں ڈی این اے کی سہولت ہونی چاہئے،وزیراعظم پاکستان سے گذارش کروں گا کہ اس کیس کو ایف آئی اے کے حوالہ کیا جائے اوررپورٹ کے مطابق ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے گذارش کروں گا کہ تحقیقات میں SBCA کو بھی شامل کریں کیونکہ ایئر پورٹ کے اطراف بلندو بالا عمارتوں کی تعمیر ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے روکے۔گورنرسندھ نے کہا کہ شہر میں آبادی کے پھیلاؤ کے باعث کراچی ایئر پورٹ کے اطراف بھی آبادی بڑھ چکی ہے اور اس وقت ایئر پورٹ شہر کے درمیان آگیا ہے اس لئے طیارہ حادثہ کے بعد ایئر پورٹ شہر سے باہر منتقل کرنے کی سفارش کی ہے

مزید :

صفحہ آخر -