طیارہ حادثہ، فرانسینی ٹیم تحقیقات کیلئے کراچی پہنچ گئی، ماڈل کالونی کا دورہ، شواہد بھی اکٹھے کئے

طیارہ حادثہ، فرانسینی ٹیم تحقیقات کیلئے کراچی پہنچ گئی، ماڈل کالونی کا ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) کراچی میں پی آئی اے طیارے کی حادثے کی تحقیقات کیلئے آنے والی فرانسیسی ٹیم کو ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کی ٹیم نے بریفنگ دی،سخت سکیورٹی انتظامات میں ٹیم نے ماڈل کالونی میں حادثے کے مقام کا دورہ بھی کیا اور معائنے کے دوران شواہد اکٹھے کئے۔ فرانسیسی ٹیم منگل کی صبح خصوصی پرواز سیکراچی پہنچ گئی، ٹیم کو لانے والا طیارہ واپس روانہ ہو گیا۔ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ نے ایئر بس ماہرین کو بریفنگ دی، ٹیم کو ملبے سے ملنے والے بلیک باکس اور ڈیٹا ریکارڈر کے متعلق بھی معلومات دی گئیں۔ یہ دونوں آلات ٹیم کے حوالے کئے جائیں گے جو انہیں ڈی کوڈ کرے گی۔ڈی کوڈ ہونے کے بعد جہاز کی روانگی سے گرنے تک کپتان اور معاون کپتان کی گفتگو سنی جاسکے گی، اس بات کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی کہ کاک پٹ عملے نے ایئربس کے طے شدہ پروسیجر پر کس حد تک عمل کیا۔ٹیم کے دورے سے قبل جائے حادثہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حصار میں لے لیا۔ سخت سیکیورٹی انتظامات میں ٹیم نے ماڈل کالونی میں طیارہ حادثہ کے مقام کا دورہ کیا، ٹیم کے ہمراہ سول ایوی ایشن اور پی آئی اے حکام بھی تھے، ٹیم نے سوا گھنٹہ تک تباہ شدہ طیارے کے ملبے کا جائزہ لیا۔انجنوں، لینڈنگ گیئر، ونگز فلائٹ کنٹرول سسٹم اور متاثر ہونے والے مکانات کا معائنہ کیا گیا۔ ٹیم کی جانب سے تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں دوسری طرف پی آئی اے ترجمان کے مطابق ایئر کریش میں مہارت رکھنے والی دس رکنی تکنیکی ٹیم تحقیقات سے منسلک ہے جس میں کسی متعلقہ ادارے کے افراد شامل نہیں ہوں گے، صرف طلب کی گئی معلومات، دستاویزات یا ریکارڈ دیں گے۔پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات پر مامور ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے کیپٹن سجاد گل کی مجموعی فلائنگ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔تحقیقاتی ٹیم نے سوال کیا ہے کہ کیپٹن سجاد گل نے بائیس مئی سے قبل کون کون سے سیکٹر اور روٹ پر فلائنگ کی، لاگ بک اور فلائنگ کیوقت کپتان روزہ سے تھا، اسکی بھی تفصیلات دی جائیں۔ ٹیم نے حادثے سے 2دن قبل کیپٹن سجاد کی لاہور تا کراچی پروازسے متعلق استفسار کیا، تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اس بات کی بھی باز پرس کی جارہی ہے کہ حادثے سے محض دورز قبل کیا کیپٹن سجاد گل نے بیس مئی کو اسی روٹ پر لاہور سے کراچی فلائٹ آپریٹ کرچکے ہیں، پائلٹ کی مبینہ طورپر تھکاوٹ کے پہلوکے حوالے سے بھی جانچ کی جارہی ہے۔دریں اثناکراچی میں طیارے کے حادثے میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ایدھی ہوم میں 21 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے، این ڈی ایم اے کے ڈاکٹرز نے ڈینٹل ریکارڈ کے ذریعے بھی لاشوں کی شناخت کا عمل شروع کردیا۔کراچی میں ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ایدھی ہوم میں 56 لاشیں لائی گئی تھیں، 21 لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 19 لاشوں کو زبرستی لوگ اپنے ساتھ لے گئے۔فیصل ایدھی نے مزید کہا کہ پولیس ہمیں کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کر رہی، کراچی کے ایک رکن قومی اسمبلی نے دباو ڈال کر لاش حوالے کروائی۔ دوسری طرفکراچی حادثہ کے بعد پی آئی اے نے فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، ترکی کی کمپنی سے سٹیٹ آف دی آرٹ سسٹم سے منسلک نیا نظام حاصل کیا جائے گا۔جدید فلائٹ سسٹم سے پی آئی اے طیاروں کو حادثات سے بچانے میں بہت معاونت ملے گی، ذرائع کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ فلائٹ سسٹم سے پی آئی اے کی سروس ڈیلوری عالمی معیار کی ہو جائے گی۔نیا فلائٹ آپریشن سسٹم آئی اے ٹی اے، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن سے منظور شدہ ہوگا، جدید فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم سے پی آئی اے موجودہ صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، ترکی کی ہٹ آئی ٹی کمپنی سے فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم حاصل کیا جائے گا۔

طارہ حادثہ

مزید :

صفحہ اول -