صحافی عمران رحمانی پر درج جھوٹامقدمہ ختم کیا جائے، جھمرہ پریس کلب

صحافی عمران رحمانی پر درج جھوٹامقدمہ ختم کیا جائے، جھمرہ پریس کلب

  

چک جھمرہ (نمائندہ خصوصی)چک جھمرہ پریس کلب کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی عمران رحمانی پر درج مقدمہ بدنیتی ہے، مقدمہ سے خارج کرکے اصل ملزمان کو گرفتار کیا جائے، مدعی مقدمہ جان بوجھ کر اپنے والد کے قاتلوں کو بچا رہے ہیں ان کو بھی شامل تفتیش کرکے پوچھ گچھ کی جائے کہ وہ پولیس سے اصل حقائق کیوں چھپا رہے ہے، عمران رحمانی بھی اسی حملہ میں مضروب ہوا جس میں سیٹھ منیر کا قتل ہواا ورثاء کی طرف سے اصل قاتلوں کو بچانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ان خیالات کا اظہار جھمرہ پریس کلب کے عہدیداروں و ممبران نے ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت محمودالحسن انصاری نے کی،جس میں افضال احمد تتلہ، یسین بٹ، مہر شہباز اکرم، عباد علی انصاری، ارسلان انصاری، شیخ افضل، رفیق احمد لونا، سیٹھ سلیم انصاری، میاں آصف رسول، ڈاکٹر ارشد علی، خالد حسین بھی شریک تھے۔قرارداد میں کہا گیا کہ مقدمہ کی ایف آئی آر پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے قاتلوں اور مدعی مقدمہ نے باہمی صلاح و مشورہ ہو کر قتل کا مقدمہ جان بوجھ کر نمائندہ روزنامہ پاکستان عمران رحمانی پر درج کرایا۔مدعی مقدمہ کی طرف سے عمران رحمانی پر نا جائز قتل کا مقدمہ اندراج کروانے پر مقدمہ مدعی کی سازش کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔سیٹھ منیر ایک شریف انسان تھا اسکا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ہماری پولیس اعلی حکام سے گزارش ہے کہ وہ اس تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مدعی مقدمہ اور گواہوں کو بھی شامل تفتیش کرے۔دوسری جانب اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں کی عمران رحمانی پر فائرنگ کی زد میں آکر سابق کونسلر سیٹھ منیر گولیاں لگنے سے ہلاک ہوا جبکہ مدعی کی طرف سے اصل حقائق معلوم ہونے کے باوجود ایسے شخص پر قتل کی ایف آئی آر کٹوانا جو اس حملہ میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوا انتہائی قابل افسوس ہے۔اہل علاقہ کے مطابق نمائندہ روزنامہ پاکستان عمران رحمانی بے گناہ ہے،جو مقدمہ سے باعزت بری ہوگا،پولیس حکام اصل قاتل چھپانے پر مدعی مقدمہ اور قاتلوں کے خلاف بھی تفتیش کرے۔

جھمرہ پریس کلب

مزید :

صفحہ آخر -