پی آئی اے کی پرواز کو حادثہ لیکن دنیا کی وہ واحد ایئر لائن جس کی پروازوں کو کوئی قابل ذکر بڑا حادثہ پیش نہیں آیا مگر کیوں؟ کالم نویس نے حیران کن انکشاف کردیا

پی آئی اے کی پرواز کو حادثہ لیکن دنیا کی وہ واحد ایئر لائن جس کی پروازوں کو ...
پی آئی اے کی پرواز کو حادثہ لیکن دنیا کی وہ واحد ایئر لائن جس کی پروازوں کو کوئی قابل ذکر بڑا حادثہ پیش نہیں آیا مگر کیوں؟ کالم نویس نے حیران کن انکشاف کردیا

  

لاہور (کالم: شوکت ورک)اگلے روز کراچی ائیر پورٹ کے قریب قومی ایئر لائن کا ائیر بس طیارہ جو لاہور سے کراچی جا رہا تھا عید سے ایک روز قبل رمضان المبارک جمعتہ الوداع کے روز لینڈ کرنے سے چند لمحہ پہلے آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا۔ اس المناک حادثے پر پوری قوم اب تک سوگوار ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے، بوڑھے، جوان، خواتین اور مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد سوار تھے جو عید اپنے پیاروں کے ساتھ منانے کے لئے جارہے تھے جو ہمیشہ کے لئے ان سے دور چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ اس دردناک حادثے کے باعث پوری قوم روایتی انداز میں عید نہ منا سکی اور عید کی خوشیوں کو دکھ، درد اور رنج و الم نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پاکستان قوم جو پہلے ہی کرونا جیسی وبا کے باعث سراسیمگی اور خوف کا شکار تھی اس پر اس فضائی حادثے نے ان کی عید کی خوشیوں کو گہنا دیا۔ جمہوری ملکوں میں عام طور پر ہوتایہ ہے کہ جب کوئی بڑا قومی سانحہ ہوتا تو اس کا متعلقہ وزیر فوری طور پر مستعفی ہو جاتا ہے تاکہ جب اس واقعہ پر تحقیقات شروع ہو تو وہ اس پر اثر انداز نہ ہو سکے، مگر ہمارے ملک میں اس طرح کی کسی چیز کا نام و نشان تک نہیں۔

ریل کے حادثات ہوئے تو اس کی ذمہ داری یا توجھوٹی سطح کے ملازمین پر ڈالی گئی اور یا اسے تکنیکی خرابی کا نام دے کر معاملہ کو ختم کر دیا گیا اور وزیر ریلوے کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اسی طرح پاکستان میں اب تک 21فضائی حادثے رونما ہوئے ہیں اس پر رپورٹیں تیار کی گئی، مگر ان میں نہ تو کسی کو مورد الزام اور ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی کسی کو سزا دی گئی اور نہ ہی ہوا بازی کا کوئی وزیر مستعفی ہوا اور ان رپورٹوں کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔ اگر یہ رپورٹیں صحیح مرتب ہوتیں تو یقینا ان حادثات کے ذمہ داران کے نام سامنے آتے اور اس صورت میں انہیں سزا دی جاتی تو اس کا اچھا نتیجہ سامنے آتا اور متعلقہ افراد اپنے فرائض منصبی میں پوری توجہ دیتے اور یوں حادثات کے بچا جا سکتا تھا، مگر ان رپورٹوں کے حوالے سے یہ مثال ان پر صادق آتی ہے کہ ”بلے کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا گیا“موجودہ فضائی سانحہ کے حوالے سے ہمارے وزیر شہری ہوا بازی غلام سرور خان فرماتے ہیں کہ کوتاہی نکلی تو میں مستعفی ہو جائوں گا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی تو کوتاہی ہوئی ہے جو حادثہ کا سبب بنی اگر کوتاہی نہ ہوتی تو حادثہ بھی نہ ہوتا۔

ادھر پی آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ائیر مارشل ارشد ملک کا ارشاد ہے کہ ”مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کا احتساب ہوگا“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر شہری ہوا بازی اور سی ای او پی آئی اے اپنے شعبوں کے سربراہ ہیں ان کی موجودگی میں کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ رپورٹ غیر جانبدارانہ ہوگی۔ بہتر یہ ہوتا کہ ہر دو صاحبان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجاتے اگر وہ بے قصور ٹھہرتے تو دوبارہ اپنے عہدے سنبھال سکتے تھے اگر وہ اب بھی مستعفی ہوجائیں تو قوم پر ایک اچھا تاثر پڑے گا جو ان کی نیک نامی کا باعث ہوگا اور ان کے بعد آنے والے ان کی اس بات کا اعادہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری گزارش ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور استعفیٰ کا اعلان کر دیں جس سے ایک خوش آئند مثال قائم ہو گی۔

اس وقت د±نیا میں دو بڑی کمپنیاں جو مسافر طیارے بناتی ہیں ایک ہے لاک ہیڈ مارٹن (Lockheed Martin) جو امریکہ میں قائم ہے اور دوسری ایئر بس انڈسٹریز جو فرانس کے شہر طالوس میں قائم ہے اوریہ دنیا کی سب سے بڑی مسافر طیارے بنانے والی کمپنی ہے اور فروخت کے حوالے سے بھی یہ دنیا کی بڑی کمپنی ہے جس کے طیارے دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں اور جمعتہ الوداع کے روز حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بھی اس کمپنی کا تیار کردہ ہے جو پچھلے پندرہ سال سے زیر استعمال تھا۔ دستیاب مصدقہ اطلاعات کے مطابق 1945ءسے لے کر 2مارچ 2020ءتک ہونے والے پہلے دس فضائی حادثات میں امریکہ کا پہلا نمبر ہے،جہاں 856اور روس دوسرے نمبر پر ہے جہاں 527فضائی حادثات ہوچکے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ فضائی حادثات کی اس فہرست میں بھارت دسویں نمبر پر ہے، جہاں 94فضائی حادثے ہوئے ہیں۔انڈونیشیا واحد اسلامی ملک ہے،جو آٹھویں نمبر پر ہے جہاں 103فضائی حادثات ہوئے ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں۔

راقم الحروف کے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے جنرل سیکرٹری ہونے کے حوالے سے دفتری امور کے سلسلے میں اکثر بیرون ملک سفر کرنا پڑتا ہے اوربہ ایں وجہ چند پائلٹ حضرات سے بھی شناسائی ہے، جس کے باعث اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ پرواز سے کچھ پہلے پائلٹ حضرات کو گاڑی کے ذریعے طیارہ تک پہنچا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد طیارے کی اڑان کے اقدامات شروع ہوجاتے ہیں، جو درست نہیں ہے پائلٹ یا کپتان بھی انسان ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی انسانی رویے اور کیفیت کا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ پائلٹ کو طیارہ کی اڑان سے خاصی دیر پہلے ائیر پورٹ آنا چاہیے اور ایک سینئر موسٹ ذمہ دار آفیسر پائلٹ سے گفتگو کریں اور اس کے باور کرائے بغیر اس کی گفتگو اور باڈی لینگوئج کا بہ نظر عمیق مطالعہ کریں کہ کسی وجہ سے وہ گھریلو یاکسی اور معاشرتی مسئلہ سے تو ہمکنار نہیں اور اگران کو اس دوران محسوس ہوکہ وہ کسی ایسی بات کا شکار ہے تو اس کی جگہ دوسرے پائلٹ کو بھیجا جائے کیونکہ یہ اس صرف پائلٹ کا مسئلہ نہیں،بلکہ سینکڑوں زندگیوں کا مسئلہ ہوتا ہے اور اس کی ساری ذمہ داری پائلٹ پر ہوتی ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ آسٹریلیا ائیر لائن کنٹاس (Qantas)دنیا کی واحد ایئر لائن ہے، جس کا کوئی طیارہ آج تک کسی فضائی حادثے کا شکارنہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ماہرین نفسیات کا تقرر کیا ہوا ہے جو پائلٹ یا کپتان سے ہلکی پھلکی گفتگو کے ذریعے اندازہ کر لیتے ہیں کہ یہ پائلٹ ذہنی یا جسمانی طور پر طیارے اڑانے کا اہل ہے یانہیں، جس کی وجہ سے آسٹریلین ائیر لائن کو دنیا کی محفوظ ترین ائیر لائن قرار دیا جاتا ہے۔یہاں اس امرکا اظہار بھی بے جا نہ ہوگا کہ طیارے حادثہ کی صورت میں بلیک باکس کو اہمیت حاصل ہے اس میں میں دو قسم کی مشینیں ہوتی ہیں فلائٹ ڈیٹا ریکاڈرFlight Data Recorder (FDR) اور مشین جس کو کاک پٹ وائس ریکارڈ Cockpit Voice Recorder (CVR) کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کا کام جہاز اور کاک پٹ میں ہر ایک سیکنڈ کا ٹیکینکل ڈیٹا اور کاک پٹ جہاں پائلٹ اور ساتھی پائلٹ ہوتے ہیں کی گفتگو ریکارڈ کرنا ہوتا ہے، جو حادثے کی صورت میں رپورٹ مرتب کرنے والوں کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ جہاں تک فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کا تعلق ہے تو یہ تکنیکی کام کرتا ہے جیسے ہی جہاز کی بلندی، جہاز کس زاویے پر پرواز کررہا ہے،کس وقت اس کی کیا رفتار تھی او وہ کس سمت میں پرواز کررہا ہے وغیرہ جبکہ کاک پٹ وائس ریکارڈ زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ اس میں کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہوتی ہے اور یہ دونوں مشینیں بلیک باکس میں اکٹھی بھی ہوسکتی ہیں اور الگ الگ بھی ہوتی ہیں اس کے علاوہ پائلٹ کنٹرول ٹاور سے بھی رابطے میں ہوتا ہے اور بات چیت کرتا رہتا ہے جس کی ریکارڈنگ کنٹرول ٹاور کے پاس ہوتی ہے۔

تعجب یہ ہے کہ جبکہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس بھی مل گیا ہے۔سول ایوی ایشن کے پاس پائلٹ کی گفتگو کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے تو پھرشہری ہوا بازی کے وزیر موصوف کا یہ کہنا کہ حادثے کی رپورٹ کی تیاری میں تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ یہ بجا کہ اس میں ائیر بس کمپنی کی ٹیم کو بھی فرانس سے آکر اپنی رپورٹ مرتب کرنا ہوتی ہے جس کا معاوضہ اداکیا جاتا ہے اگر ان کو معاوضہ میں خاطرخواہ اضافہ کردیا جائے تو وہ یہ رپورٹ جلد بھی تیار کرسکتے ہیں۔ ہم وزیراعظم عمران خان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے معاوضے کی پرواہ کئے بغیر جلد سے جلد اس حادثے کی رپورٹ کا حکم کو منظر عام پر لانے کا حکم دیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور حادثے کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کی کسی حد تک اشک شوئی ہو سکے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -