کورونا وائرس لاک ڈاﺅن کے بعد لوگوں کو کام پر واپس بلانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ شہریوں کو ’رشوت‘ دینے پر غور کرنے لگے

کورونا وائرس لاک ڈاﺅن کے بعد لوگوں کو کام پر واپس بلانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ ...
کورونا وائرس لاک ڈاﺅن کے بعد لوگوں کو کام پر واپس بلانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ شہریوں کو ’رشوت‘ دینے پر غور کرنے لگے

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد بھی امریکی شہریوں کی اکثریت کام پر واپس نہیں جا رہی جس پر ٹرمپ انتظامیہ نے لوگوں کو کام پر واپس لانے کے لیے رشوت دینے غور شروع کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق لاک ڈاﺅن کے دوران شہریوں کو اضافی600ڈالر بطور وفاقی بے روزگاری الاﺅنس کے طور پر مل رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ کام پر واپس نہیں جا رہے۔ اوہائیو سینیٹر روب پورٹ مین اس پر یہ تجویز دی ہے کہ اس 600ڈالر میں سے 450ڈالر شہریوں کو بطور بونس دے دیئے جائیں، جس کے بعد وہ اضافی رقم کے لالچ میں کام پر واپس چلے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کے معاشی مشیر لیری کڈلو نے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”سینیٹر روب پورٹ مین کی اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے اور غالب امکان ہے کہ ان کی یہ تجویز منظور کر لی جائے گی، کیونکہ اس کے سوا شہریوں کو کام پر واپس لانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔“ لیری کڈلو کا کہنا تھا کہ 450ڈالر کا بونس جولائی کے اختتام پر ختم ہو جائے گا۔ یہ وہ عرصہ ہے جب شہریوں کو بیروزگاری الاﺅنس کے طور پر ملنے والے اضافی 600ڈالر بھی ملنا بند ہو جائیں گے۔ “

مزید :

بین الاقوامی -