دنیا کی گرم ترین جگہ جسے ’موت کی وادی‘ کہا جاتا ہے

دنیا کی گرم ترین جگہ جسے ’موت کی وادی‘ کہا جاتا ہے
دنیا کی گرم ترین جگہ جسے ’موت کی وادی‘ کہا جاتا ہے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے بارے میں عام لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ایک سرد ملک ہے جہاں گرمیوں میں بھی درجہ حرارت بہت کم رہتا ہے۔ یہ خیال اس لیے سراسر غلط ہے کہ امریکہ ہی میں ایک وادی ایسی بھی ہے جہاں درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے اسے ڈیتھ ویلی، یعنی ’موت کی وادی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وادی امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ہے جہاں 10جولائی 1913ءکو ریکارڈ 56.7ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اگرچہ درجہ حرارت اس نہج کو کبھی نہیں پہنچا لیکن اس وادی کا اوسطاً درجہ حرارت 46ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے جو کہ ہمارے موسم گرما کی نسبت کہیں زیادہ گرم ہے۔

ڈیلی سٹار کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس انوکھی وادی کو دیکھنے آتے ہیں اور گرمی کی وجہ سے گاہے سیاحوں کی موت ہونے کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں تاہم ایسے افسوسناک واقعات سیاحوں کی غلطی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی طرف سے سیاحوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ صبح 10بجے کے بعد وادی میں پیدل زیادہ دور مت جائیں۔ جو لوگ اس ہدایت پر عمل کرتے ہیں، محفوظ رہتے ہیں لیکن جو اس ہدایت کو نظرانداز کرتے ہیں ان کے لیے شدید گرمی کے باعث واپسی کا سفر ناممکن ہو جاتا ہے۔یہاں آنے والے سیاحوں کو یہ ہدایت بھی کی جاتی ہے کہ وہ دن میں 4لیٹر سے زائد پانی پئیں تاکہ شدید گرمی کی وجہ سے ان کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور وہ بیمار نہ پڑ جائیں۔

اس وادی میں بارش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کی وجہ سے پوری وادی کی زمین میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں جو ایک عجیب منظر پیش کرتی ہیں۔ یہاں زیادہ گرمی کا دورانیہ جون سے ستمبر تک ہوتا ہے۔ اس قدر گرمی اور خشکی کے باوجود اس 34ملین ایکڑ پر پھیلی وادی میں پودوں کی 900سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کئی طرح کے جانوربھی پائے جاتے ہیں جن میں سانپ بھی شامل ہیں۔ یہ وادی سطح سمندر سے 36میٹر گہرائی میں واقع ہے اور امریکہ میں کوئی دوسرا مقام ایسا نہیں جو سطح سمندر سے اتنی گہرائی میں واقع ہو۔

اس وادی کی ایک پراسراریت یہ تھی کہ یہاں پتھر خود بخود حرکت کرتے تھے۔ دہائیوں تک اس پراسراریت نے دنیا کو حیران کیے رکھا لیکن چند سال قبل کیلیفورنیا کے انسٹیٹیوٹ آف اوشنوگرامی کے ماہرین کاﺅزنزرچرڈ نورس اور جیمز نورس نے اپنی تحقیق میں پتھروں کی حرکت کا راز فاش کر دیا۔ اگرچہ یہ وادی اپنی شدید گرمی کی وجہ مشہور ہے لیکن سردی کے موسم میں رات کے وقت یہاں بھی زمین پر برف کی ایک تہہ جم جاتی ہے اور دونوں ماہرین کے مطابق یہی برف کی تہہ پتھروں کے خود بخود حرکت کرنے کی وجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جما دینے والی سرد رات کے بعد دن کو جب سورج کی تپش بڑھتی ہے تو برف کی تہہ پگھلنے سے نیچے کی سخت زمین ریشم جیسی نرم ہو جاتی ہے اور ہوا کے ساتھ بڑے بڑے پتھر بھی پھسل کر ایک سے دوسری جگہ تک سرک جاتے ہیں۔

چونکہ وادی میں برف کی تہہ کم ہی جمتی ہے لہٰذا پتھروں کے ازخود سرکنے کا نظارہ بھی کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس وادی میں سیاحوں کی سہولت کے لیے ایک نیشنل پارک بنایا گیا ہے جس میں کئی ہوٹل موجود ہیں۔ اس وادی میں اتنی زیادہ گرمی پڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ وادی چار پہاڑی سلسلوں کے سنگم میں ہے۔ یہ پہاڑ نہ صرف بارش کو اس وادی تک آنے سے روکتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے نمی بھی بہت کم ہی وادی کی زمین کو نصیب ہوتی ہے۔ یہاں بادل نہ آنے کی وجہ سے آسمان بالکل صاف رہتا ہے۔ اس پر یہ وادی سطح سمندر سے 36میٹر گہرائی میں ہے چنانچہ یہاں کی ہوا کا درجہ حرارت بہت زیادہ رہتا ہے۔ یہاں کا موسم اتنا شدید ہونے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں پہنچتے ہیں اور زیادہ تر لوگ انتظامیہ کے بنائے ہوٹلوں میں رہنے کی بجائے کیمپ لگا کر مقیم ہونے کو ترجیح دیتے ہیں تاہم یہ لوگ عموماً اندر سے ہی وادی کا نظارہ کرتے ہیں، باہر نکلنے اور دور تک جانے کی جرا¿ت کسی کسی کو ہوتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -