”ڈیڈ لائن گزر چکی، مطالبہ نہ مانا گیا تو کسی بھی وقت ٹی 20 اور ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کسی بھی واپس چھین سکتے ہیں“ آئی سی سی نے بھارت کو زوردار جھٹکا دیدیا

”ڈیڈ لائن گزر چکی، مطالبہ نہ مانا گیا تو کسی بھی وقت ٹی 20 اور ون ڈے ورلڈ کپ کی ...
”ڈیڈ لائن گزر چکی، مطالبہ نہ مانا گیا تو کسی بھی وقت ٹی 20 اور ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کسی بھی واپس چھین سکتے ہیں“ آئی سی سی نے بھارت کو زوردار جھٹکا دیدیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے درمیان ٹیکس کے تنازع پر ’ایل میل جنگ‘ شدت اختیار کر گئی ہے اور آئی سی سی نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ ون ڈے اور ٹی 20 ورلڈکپ کی میزبانی کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے درمیان ٹیکس استثنیٰ کا معاملہ شدت اختیار کرنے لگا اور اس حوالے سے دونوں باڈیز کے درمیان ’ای میل جنگ‘ چھڑ چکی ہے۔ بھارت میں عالمی ایونٹس پر پہلے ٹیکس استثنیٰ حاصل تھامگر 2016ءکے ٹی 20 ورلڈ کپ سے حکومت نے ٹیکس کاٹ لیا جس کی ادائیگی کا آئی سی سی تاحال مطالبہ کررہا ہے، بھارت کو اب 2021ءمیں ٹی 20 اور 2023ءمیں ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کرنا ہے اور آئی سی سی معاملات کو حتمی شکل دینے سے قبل بھارتی حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کی یقین دہانی چاہتی ہے۔

آئی سی سی کے جنرل کونسل اور کمپنی سیکرٹری جوناتھن ہال نے اس حوالے سے بی سی سی ای کو ای میل بھیجی جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اب تک حکومت سے ٹیکس استثنیٰ کیلئے ہونے والی بات چیت کے شواہد پیش کرے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکس استثنیٰ کی ایونٹ سے 18 ماہ قبل تصدیق ضروری تھی، یہ ڈیڈ لائن اب گزر چکی ہے، 18 مئی کے بعد سے کسی وقت بھی ٹی 20 ورلڈ کپ کے حقوق بھارت سے واپس لئے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب بی سی سی آئی نے کورونا وائرس لاک ڈاﺅن کو وجہ بناتے ہوئے ڈیڈ لائن میں 30 جون یا لاک ڈاﺅن اٹھنے کے ایک ماہ بعد تک کی توسیع مانگ لی ہے، ذرائع نے کہا کہ ٹیکس میں چھوٹ کا اختیار حکومت کے پاس ہے بورڈ اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتا، بی سی سی آئی کو یہ بات بھی ہضم نہیں ہورہی کہ انہیں اتنی سخت ای میل بھیجی جا سکتی ہے۔

مزید :

کھیل -