آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی تلخ نوائی

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی تلخ نوائی

  

آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی بات کرنے سے قبل وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو وزارت ِ خارجہ کے حکام سے مشاورت کرنی چاہئے تاکہ انہیں بعد میں تردید کرنی پڑے اور نہ غلط فہمیاں پیدا ہوں،آزاد کشمیر کے انتخابات مقررہ وقت پر آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے،الیکشن کمیشن کو مطلوبہ سہولتیں فراہم کریں گے،بنی گالہ کے بند کمرے میں بیٹھ کر کسی کو آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج نہیں بنانے دیں گے،آزاد کشمیر میں نگران حکومت کا کوئی تصور ہے نہ ہی کسی کو گلگت بلتستان کا تجربہ دہرانے کی اجازت دیں گے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل ایک کے تحت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کی ٹیرٹریز میں نہیں آتے، گلگت بلتستان کو آئین کے آرٹیکل ایک میں تبدیلی کے بغیر صوبہ نہیں بنایا جا سکتا،پاکستان اور ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے پابند ہیں،وزیراعظم پاکستان کو پتہ ہی نہیں کہ آزاد کشمیرکا اپنا الیکشن کمیشن ہے اُن کا اختیار نہیں کہ وہ آزاد کشمیر میں الیکٹرانک ووٹنگ کا تجربہ کریں۔

آزاد کشمیر کے انتخابات جوں جوں قریب آ رہے ہیں حکومتی حلقوں میں وہاں ”کامیابی“ کے لئے منصوبہ بندی بھی اسی تیزی سے ہو رہی ہے اور اب کسی حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی بلا سوچے سمجھے پیش کر دی گئی ہے کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا تجربہ کر لیا جائے، جس کسی نے بھی یہ مشورہ دیا ہے محسوس ہوتا ہے کہ اسے آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت کا کوئی اندازہ ہے اور نہ ہی یہ معلوم کہ وہاں پاکستانی حکمرانوں کی من مرضیاں اس طرح نہیں چل سکتیں،جس طرح  پاکستان کے صوبوں میں تجربات کیے جا سکتے ہیں۔آزاد کشمیر کی حکومت کا اپنا صدر، اپنا وزیراعظم، اپنی سپریم کورٹ، اپنا الیکشن کمیشن اور اسی طرح کے اپنے ادارے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہاں   ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ بڑی شدو مد سے لگایا جاتا ہے اور یہ اہل ِ کشمیر کی پاکستان سے محبت کا غماز ہے،لیکن جب تک کشمیر پاکستان بن نہیں جاتا آزاد کشمیر کی جو خصوصی حیثیت اِس وقت ہے وہ باقی رہے گی،اس کے تحت پاکستانی حکمرانوں پر واجب ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیں۔پاکستان میں اگر الیکشن سے پہلے نگران حکومت قائم ہوتی ہے تو ایسا پاکستانی آئین کے تحت ہوتا ہے اس فیصلے کو کھینچ تان کر آزاد کشمیر پر تو نافذ نہیں کیا جا سکتا اور اگر کسی کو نگران حکومت کے نظریئے سے بہت زیادہ محبت ہے کہ یہ آزاد کشمیر میں بھی نظر آئے تو پھر اس کے لئے ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے آئین میں بھی اس میں درج طریق کار کے مطابق تبدیلی کی جائے، اس کے بغیر کسی کی خواہش یا کسی کے انتظامی حکم کے تحت وہاں نگران حکومت قائم نہیں کی جا سکتی،اس پر اگر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے قدرے تلخ الفاظ میں ردعمل کا اظہار کیا ہے تو یہ قابل ِ فہم ہے، کیونکہ ہم ایسی سرگوشیاں سنتے رہتے ہیں جن سے مترشح ہوتا ہے کہ پاکستان کے برسر اقتدار عناصر آزاد کشمیر کا انتخاب جیتنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں،بلکہ بعض جوشیلے وزراء نے تو گلگت بلتستان کے انتخابات جیتنے کے بعد ہی یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ اسی طرح ہم آزاد کشمیر کا انتخاب بھی جیتیں گے۔انتخاب جیتنا کسی کی خواہش اور منصوبہ بندی ضرور ہو سکتی ہے اور یہ ان جماعتوں کا حق ہے جو آزاد کشمیر میں قائم ہیں۔وہ آئین و قانون کے مطابق انتخاب لڑیں اور جو جماعت جیت جائے وہ حکومت بنا لے،لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو تو ایسے دعوے کرنے سے گریز کرنا چاہئے جن سے لگے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنا اقتدار آزاد کشمیر تک وسیع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

جہاں تک الیکٹرانک ووٹنگ کا تعلق ہے پاکستان میں اس سلسلے میں ایک صدارتی آرڈیننس ضرور نافذ ہوا ہے اور یہ صرف120 دن تک نافذ رہے گا اس سے پہلے پہلے یا تو اس آرڈیننس کو پارلیمینٹ سے منظور کرانا ہو گا یا پھر مدت ختم ہونے کے بعد اسے دوبارہ جاری کرنا ہو گا،اب تک کی اطلاعات کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا جو پروٹو ٹائپ تیار کیا گیا ہے یہ ماڈل کوئی نو سال پہلے تیار کیاگیا تھا جب ایک کمپنی اس مشین کو متعارف کرانے کے ارادے سے میدان میں آئی تھی،کمپنی نے متعلقہ اداروں کو مشین کا نمونہ  تو پیش کر دیا،لیکن پھر بات آگے نہ بڑھی اور نہ ہی مشین کا باقاعدہ ٹرائل کیا گیا،اس وقت جس کمپنی نے یہ ماڈل پیش کیا تھا اس کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اب اُن کی تیار کردہ مشین ہی کو جھاڑ پونچھ کر دوبارہ پیش کر دیا گیا ہے، لیکن اب تک اس الیکٹرانک مشین کا باقاعدہ تجربہ تو کہیں نہیں کیا گیا نہ ہی کسی ضمنی الیکشن میں اس کی آزمائش کی گئی نہ ہی کسی فرضی الیکشن کا انعقاد کر کے اس مشین کو آزمایا گیا اور سارا زور اِس بات پر صرف کیا جا رہا ہے کہ یہ کوئی ایسی جادوئی مشین ہے،جس کی وجہ سے الیکشن پر لگنے والے جعل سازی اور نتیجے والی مشینوں کو بٹھانے کے لئے لگنے والے تمام الزامات خودبخود دھل جائیں گے،حالانکہ دُنیا بھر میں جو جدید ترین کمپیوٹر لگے ہوئے ہیں اُن کا ڈیٹا ہیک ہوتا رہتا ہے اور ماضی میں پورے پورے بینک اِس واردات کے ذریعے لٹ چکے ہیں،اِس لئے یہ دعویٰ کرنا کہ جو الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہم تیار کر چکے ہیں اسے کوئی ہیک نہیں کر سکے گا۔ایک ایسا معاملہ ہے،جو ابھی آزمائش کی کسی کسوٹی پر پورا نہیں اُترا اور محض ایک مشین کے فنکشن دکھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس طرح دھاندلی کے سارے الزامات ہوا میں اُڑ جائیں گے،جس کسی نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں الیکٹرانک مشین کو آزمانے کی تجویز دی ہے وہ تو کوئی بہت ہی بڑاکاریگر لگتا ہے جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان میں جو صدارتی آرڈیننس نافذ ہوا ہے، جس کے تحت الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ کے لئے کہا گیا ہے اس کا اطلاق آزاد کشمیر پر نہیں ہوتا۔ آزاد کشمیر کا اپنا انتظامی ڈھانچہ ہے اور وہاں الیکشن،پاکستان کا الیکشن کمیشن نہیں کراتا،بلکہ یہ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے اگر وہاں الیکٹرانک ووٹنگ کرنی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومت سے رابطہ کیا جائے اور پھر مشاورت کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچا جائے،آزاد کشمیر پاکستان کا صوبہ نہیں ہے،جس پر وفاق کے احکامات لاگو کر دیئے جائیں۔اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے جو تلخ باتیں کی ہیں ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جو لوگ آزاد کشمیر کے انتخابات جیتنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں بہتر ہے وہ بھی اپنی رفتار ذرا دھیمی رکھیں اور ہر قیمت پر وہاں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو نقصان نہ پہنچائیں۔آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا یہ مشورہ بھی صائب ہے کہ کشمیر پر بیان بازی سے پہلے وزارتِ خارجہ سے مشورہ کر لیا جائے،کیونکہ ماضی میں ایسے بیانات جاری ہوتے رہے ہیں جن کی بعد میں وزارتِ خارجہ کو وضاحت کرنی پڑی۔ سنا ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی تازہ فارمولا القا ہوا ہے جسے انہوں نے فی الحال اپنے سینے میں تھام رکھا ہے۔یہ فارمولا اُن کے ذہن میں کس نے ڈالا اور وہ اسے خفیہ کیوں رکھ رہے ہیں اس کی بھی وضاحت ہو جائے تو بہتر ہے ایسا نہ ہو کہ یہ فارمولا بھی ماضی کے چار زون جیسے فارمولوں کا چربہ نکلے۔

مزید :

رائے -اداریہ -