اتحاد اور نوابزادہ(مرحوم) کی باتیں!

 اتحاد اور نوابزادہ(مرحوم) کی باتیں!
 اتحاد اور نوابزادہ(مرحوم) کی باتیں!

  

 سیاسی اتحادوں اور جوڑ توڑ کی جب بھی بات ہو گی نوابزادہ نصراللہ (مرحوم) ضرور یاد آئیں گے اور احساس ہو گا کہ ان کو بابائے اتحاد بلاوجہ نہیں کہا جاتا تھا، ان کے اندر ایسے گن تھے، ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ان سے سوال کیا کہ وہ مشرق و مغرب کو کیسے ملا لیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مخصوص مسکراہٹ اور حقے کا کش لیتے ہوئے کہا، ہم اس کے لئے بہت محنت کرتے ہیں، پہلے الگ الگ ایک ایک لیڈر سے ملاقات ہوتی، تبادلہ خیال ہوتا، تحفظات اور خیالات کا علم ہو جاتا، اسی طرح دوسری جماعت کے رہنما اور پھر علی ہذا القیاس باری باری سب سے بات ہوتی، جب سب کے عزائم، ارادوں اور تحفظات کا علم ہو جاتا تو پھر دوسرے راؤنڈ میں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات دور کرنے کا سلسلہ شروع کیا جاتا اور آخر کار کم از کم نکات پر اکٹھے چلنے اور بیٹھنے کا پروگرام زیر بحث لا کر پھر اجلاس بلایا جاتا اور اعلان ہو جاتا تھا، ہم نے پوچھا کہ اختلاف تو رہتے ہیں جو بعد میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا ایسی باتوں کو بڑے مقصد کی خاطر نظر انداز کرنے پر آمادہ کر لیا جاتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں، سب کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو، جو خلیج بن جائے۔ ہمیں ذاتی طور پر بھی علم ہے کہ جب بھی نوابزادہ نصراللہ کی کوشش سے کوئی اتحاد بنا تو وہ کوئی عہدہ رکھے بغیر بھی بزرگ ہوتے تھے اور پھر ہر کوئی انہی سے شکائت کرتا اور وہ وسیع تر مقصد کی خاطر بات ختم کرنے پر زور دیتے، ہمارے ذہن میں بہت سے ایسے واقعات ہیں، جب اتحاد ٹوٹتے نظر آئے،

لیکن نوابزادہ کے ہوتے یہ ممکن نہ ہوا۔ پاکستان پیپلزپارٹی تو ان کے متاثرین میں سے ہے کہ پاکستان قومی اتحاد بھی نوابزادہ ہی کی کاوش سے اسی طریقہ کار سے بنا اور اس کے نتیجے میں نہ صرف بھٹو حکومت گئی، بلکہ بالآخر ذوالفقار علی بھٹو جہان فانی سے چلے گئے۔ اس کے باوجود نوابزادہ نے پیپلز پارٹی کو قائل کرکے اتحاد میں شامل کیا، پھر محترمہ ان کا احترام اس حد تک کرنے لگیں کہ ناگوار بات بھی مان جاتیں۔ ان سطور میں عرض کیا جا چکا ہے کہ کس طرح نوابزادہ نصراللہ خان محترمہ کو قائل کرکے منہاج القرآن سیکرٹریٹ لے کر گئے اور وہاں محترم ڈاکٹر طاہر القادری کو نئے اتحاد کا سربراہ بھی بنا لیا، بعد میں جب محترمہ نے شکوہ کیا تو نوابزادہ نصراللہ نے قائل کر لیا کہ اس وقت سیاسی جماعتوں کے مکمل اتحاد کی ضرورت ہے اور یہ سب پاکستان عوامی تحریک کو شامل کرنے کے لئے کیا گیا۔ پھر وہ وقت بھی یاد ہے، جب اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے نوابزادہ ہی کے دفتر میں میڈیا کو بلا کر اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ اچانک تھا، لیکن نوابزادہ اپنے کمرے میں بیٹھے حقہ گڑگڑا رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ وہ اسی لئے پریس کانفرنس میں نہیں گئے تھے۔

یہ سب یوں یاد آ رہا ہے کہ اس بار قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف نے یہ بیڑہ اٹھایا کہ وہ پی دی ایم کو پہلی صورت میں بحال کریں اور پیپلزپارٹی کو اے این پی سمیت واپس لے آئیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے بات کرکے بلاول بھٹو اور اسفند یارولی سے بھی بات کی اور آخر کار ایک عشائیہ ترتیب دے کر سب کو بلا لیا، بلاول یا زرداری خود تو نہ آئے، تاہم سہ رکنی اہم وفد آ گیا۔ اس میں یوسف رضا گیلانی اور شیری رحمن بھی تھیں، جبکہ میاں افتخار اور ہوتی صاحب نے اے این پی کی طرف سے شرکت کی، سب اچھا کی بات ہونے لگی۔ لیکن جو لوگ دور کی نظر رکھتے ہیں ان کو کھٹک سی تھی محمد شہبازشریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں سے ملاقاتیں اور کئی امور پر مشاورت ضرور کی، لیکن پیپلز پارٹی کے بارے میں تحفظات نہ سنے اور وسیع تر مفاد کی غرض سے یہ جانا کہ وہ جو کریں گے، مان لیا جائے گا، لیکن ”یہ خیال است محال است“ والی بات ہو گئی۔

عشائیہ کے اگلے ہی روز یہ ثابت ہو گیا کہ نوابزادہ نصراللہ، نوابزادہ نصراللہ ہی تھے، ایک روز بھی نہیں گزرا کہ خود مسلم لیگ (ن) کے زعماء نے اپنے مرکزی صدر کی بات پر صاد نہیں کیا اورپھر سے اپنا موقف اور تحفظات دہرا دیئے، بلکہ واضح دھمکی بھی دے دی۔ دوسری طرف سے جواب متوقع تھا، سابق وزیراعظم اور پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے پی ڈی ایم کی بحالی کے کاغذ کی سیاہی پانی پھینک کر پھیلا دی۔ وہ کہتے ہیں، پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم میں آنا ہے تو میرے خط کو جوڑ کر پھر سے پڑھے اور جواب دے، اگر یہ نہ ہوا تو پی ڈی ایم اپنی سیکرٹری جنرل شپ پاس رکھے مَیں چھوڑ دوں گا اور یہ کیسے ممکن تھا کہ شاہد خاقان اتنی سخت بات کہیں اور جواب نہ ملے۔ شیری رحمن کا جواب ہے، ہم کسی کے غلام نہیں،ہم ایک آزاد، خود مختار پارٹی ہیں، کسی کے تابع یا کسی جماعت کو جوابدہ نہیں ہیں، یہ سب اس کے باوجود ہے کہ محمد شہباز شریف نے خصوصی طور پر ہدائت کی کہ کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کے خلاف بیان بازی نہ کرے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مریم اورنگزیب نے میڈیا سے درخواست کر دی کہ وہ ان ”اختلافی“ باتوں کو نظر انداز کر دے، ان کے ساتھ ہی مریم نواز بھی تھیں، وہ کہتی ہیں، میں شاہد خاقان عباسی کے موقف سے متفق ہوں۔

ہم نے کوشش کی کہ اپنی طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو، جو طبع نازک پر ناگوار ہو، تاہم اب پیپلزپارٹی کے ایک معتبر لیڈر نے کہا، بلاول اب بہت ”میچور“ ہیں، انہوں نے اتوار کی رات دوبئی سے کراچی واپسی کے باوجود عشائیے میں شرکت نہیں کی۔ ورنہ بات اور زیادہ بگڑ سکتی تھی، ابھی تو محمد شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرکے یہ خبر بنا دی کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کو پھر سے اتحاد میں لا کر 31مئی کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کی جائے گی۔ (یہاں محترم مولانا صاحب بول پڑے ہیں،معافی نہیں تو شرمندگی کا اظہار کرنا ہو گا۔مریم نواز سے متفق ہوں) ان حالات سے قارئین! خود ہی اندازے لگا لیں کہ کیاہوگا اور عوام کہاں کھڑے ہیں، کیا مسلم لیگی قائدین یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ م، ش کے حوالے سے شیخ رشید سچ کہتے ہیں اور پیپلزپارٹی اپنے عمل سے حکومت کو مدت پوری دینے کا فیصلہ ظاہر کر چکی ہے، ”اللہ جانے کیا ہوگا آگے“……

مزید :

رائے -کالم -