فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی
فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

  

عالمی دباؤ اور امریکی صدر کے کہنے پر اسرائیل نے غزہ میں ظاہری طورپر جنگ بندی تو کر دی ہے، لیکن فائرنگ اور فلسطینیوں پر ظلم و تشدد کے اِکا دُکا واقعات ابھی بھی رونما ہو رہے ہیں۔اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر اسرائیلی پولیس نے یہودی آباد کاروں کے ساتھ مل کر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں موجود نمازیوں کو  تشدد کا نشانہ بنایا……پاکستانی قیادت نے بھی مسئلہ فلسطین پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے اس کے مستقل حل پر زور دیا۔ اسرائیل اور فلسطین کی حالیہ کشیدگی اور حملوں کے دوران پاکستانی قیادت و عوام نے یکجان ہو کر فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ فلسطین کی حمایت صرف لفظوں میں ہی نہیں کی گئی، بلکہ عملاً بھی اقوام متحدہ اور دنیا کے ہر پلیٹ فارم سے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی گئی۔یہ امر خوش آئند ہے کہ قومی اسمبلی میں متفقہ قراردادکی منظور ی سے دُنیا خصوصاً اسلامی ممالک میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔ یہ قرار داد پورے پاکستان کی ترجمانی کرتی ہے۔ پاکستان نے اپنا مؤقف دو ٹوک الفاظ میں پیش کیا اور اس مؤقف کو عالمی سطح پر سراہا بھی گیا۔ 

وزیراعظم عمران خان نے فلسطینی صدر کو موجودہ صورتِ حال میں مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اب فلسطین پر دنیا کا موقف تبدیل ہورہاہے۔ اسرائیل کا ساتھ دینے والے ملک بھی اب فلسطین کے حق میں بات کررہے ہیں۔پوری مسلم اُمہ نے فلسطین کے لئے آواز اٹھائی۔ مغربی میڈیا میں اسرائیل پر تنقید ہوئی،جو خوش آئند ہے، کیونکہ پہلے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ مغرب میں اسرائیل پر سیاستدان اور میڈیا تنقید کرے گا۔غزہ کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے۔ اسرائیل غزہ پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ جنگ غیر قانونی قابض اسرائیل اور نہتے فلسطینیوں کے درمیان ہے۔ ایک طرف جدید ترین قابض فوج ہے، دوسری طرف نہتے فلسطینی ہیں۔ مقبوضہ علاقوں کو خالی کروایا جائے۔ غزہ میں پانی اور غذا کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنائی جائے۔ پاکستان نے غزہ میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی اشیاء  بھجوانے کا انتظام کیا ہے۔ غزہ میں بے گھر افراد کی تعداد 50 ہزارسے تجاوز کر گئی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کا فوری خاتمہ عالمی برادری کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ آج ہم انسانی ہمدردی کے ناتے کچھ کرتے ہیں یا نہیں کرتے یہ تاریخ کا حصہ ہوگا۔ وقت آگیا ہے اب اسرائیلی مظالم روکنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ پاکستان مسئلہ فلسطین کے پُرامن حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

عوامی سطح پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف ملک کے چپے چپے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں میں مذہبی و سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلیوں اور احتجاج میں مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے،جبکہ اسرائیلی ظلم و بربریت پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔اسی سلسلے میں جماعت اسلامی کراچی کے زیر اہتمام شارع فیصل پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فلسطین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ القدس کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ پوری دنیا مل کر بھی فلسطینیوں کو شکست نہیں دے سکتی۔ گو کہ او آئی سی اجلاس میں مذمتی قرارداد منظور کی گئی، مگر قراردادوں سے فلسطین اور کشمیر آزاد نہیں ہو گا۔ فلسطین میں 300 لوگ شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔اس سلسلے میں صرف مذمتی بیانات اور قراردادیں ناقابل ِ قبول ہیں، عملاً کام کی ضرورت ہے۔ جن مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے، وہ فیصلے پر نظر ثانی کریں۔امریکہ نے اسرائیل کو اسلحہ فروخت کیا۔ کفر سے فریاد کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ احتجاج کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کو مالی مدد کی بھی ضرورت ہے۔

اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی ظلم و تشدد کے خلاف فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے یکجہتی فلسطین ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ریلی کی قیادت جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کی۔ ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، ایڈمنسٹریٹر ایوان اقبال جناب انجم وحید اور اکادمی کے افسران و ملازمین نے شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس موقع پر جسٹس ناصرہ اقبال کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے معاشی ناکہ بندی کی جائے۔ علامہ اقبال کے پیغام کے مطابق مسلمانوں کو قبلہ اول کی آزادی کے لئے متحد ہونا چاہئے۔ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ اسرائیلی مظالم کے خلاف پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ فلسطینی عوام کے لئے ان کی اپنی ہی سرزمین قیدخانہ بن چکی ہے۔ اسرائیل دہشت گردہے۔ او آئی سی فلسطین میں مظالم بند کرانے میں کردار ادا کرے اور عالمی عدالت انصاف اسرائیلی جبر کا از خود نوٹس لے۔ کشمیر اور فلسطین کی صورتِ حال ایک جیسی ہے۔ عالم اسلام کے تمام ممالک مل کر ایک مشترکہ فوج قبلہ اول کی حفاظت کے لئے فلسطین میں داخل کریں، کیونکہ جب بھارت کی افواج سری نگر میں داخل ہو سکتی ہیں اور اسرائیلی فوج مسجد اقصیٰ میں داخل ہو سکتی ہے  تو مسلم ممالک کی افواج فلسطین میں قبلہ اول کی حفاظت کے لئے کیوں داخل نہیں ہو سکتیں۔ ہم فلسطینی قیادت کو پیغام دے رہے ہیں کہ ان کے شہدا ء  ہمارے شہداء  ہیں اور ان کے شہداء  کے خون کا بدلہ لیں گے۔ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف اگرپوری دنیا خاموش ہو جائے، تب بھی ہم اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔ اسرائیلی جارحیت پر خاموش رہنے والوں کا انجام عبرت ناک ہو گا۔ فلسطینی شہروں اور القدس میں برپا مظالم کے خلاف آواز اٹھانا انسانیت کا فرض ہے۔اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے بہائے جانے والے خون پر خاموش رہنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن ان پر بھی یہ وقت آ سکتا ہے۔القدس، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسیحیوں اور یہودیوں کے لئے بھی مقدس مقام ہے، جہاں اسرائیل نامی دہشت گرد ریاست نے انسانیت سوزی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ اقوام عالم سے مطالبہ ہے کہ وہ بلا امتیاز اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -