کسان خوشحال،پنجاب خوشحال

کسان خوشحال،پنجاب خوشحال
کسان خوشحال،پنجاب خوشحال

  

کسان کا کام مٹی نرم کر کے بیج بونا،وقت پر کھیت سیراب کرنا،کھاد ڈالنا اور فصل کی نگہداشت کرنا ہے،  موسم کی موافقت یا عدم موافقت قدرت کی کاری گری، ہمسایہ ملک سمیت اکثر ملکوں میں  بیج پانی کھاد حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور  اس سے بھی بڑھ کر فصل کی مناسب نرخوں پر فروخت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہے،بہترین فصل ہونے پر بھی کسان کو مارکیٹ اچھی نہ ملے تو قصور وارحکومت ہوتی ہے،ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم ماضی قریب میں اجناس درآمد کر تے رہے، وجہ حکومتوں کی نا اہلی، عاقبت نا اندیشی اور زراعت کے شعبے کو نظر انداز کر کے ساری توجہ صنعت اور تجارت پر مرکوز کرنا تھی نتیجے میں خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم،  زراعت بھی تباہ ہو گئی اور صنعت بھی ترقی نہ کر سکی ماضی کے حکمرانوں کی چند صنعتوں کے سوا قومی صنعت کا بیڑہ غرق ہو گیا،کپاس کی فصل میں نہ صرف ہم خود کفیل تھے، بلکہ کپاس برآمد کیا کرتے تھے،ملکی پیداوار میں کپاس کا حصہ 23فیصد سے زیادہ تھا،مگر کپاس زون میں شوگر ملیں نصب کرنے کی اجازت دی گئی،تو کپاس کی پیداوار اتنی کم ہو گئی کہ ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات کے لئے درآمد کرنا پڑی، ٹیکسٹائل انڈسٹری بند کرنا پڑی،پاور لومز کی صنعت تباہ ہو گئی،کھڈیاں جو پنجاب کی ثقافت تھی وہ صنعت بھی برباد ہو گئی۔

کسان کو گنا اور گندم کی کاشت کے لئے مجبور کیا جاتا، مگر گنے کی قیمت سرکاری طور پر اتنی کم رکھی جاتی کہ کسان کی لاگت بھی پوری نہ ہو پاتی حکمران طبقہ کی شوگر ملیں اس سرکاری ریٹ پر بھی گنا خریدنے سے اجتناب کرتیں،کٹوتی کی جاتی،فصل وصول کر کے سالہا سال ادائیگی نہ کی جاتی،دوسری طرف پولٹری فیڈ والوں نے مکئی نقد خریدنا شروع کر دی،اور کسان نے دیگر فصلوں پر مکئی کی کاشت کو ترجیح دی، جس سے گندم کی قلت پیدا ہو گئی اور گندم بھی درآمد کرنا پڑ گئی، گندم کا کاشتکار بھی سابق ادوار میں پستا رہا، حکومت اول تو گندم کا نرخ ہی کم مقرر کرتی،سرکاری ادارے براہِ راست کسان سے مقررہ قیمت پر گندم خریدنے میں تساہل کرتے تو کسان پیداوار خراب ہونے سے بچانے کے لئے مڈل مینوں اور آڑھتیوں کو گندم کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے،باردانہ کی فراہمی میں بھی ایسا رویہ اپنایا جاتا کہ کاشتکار کومرضی یا مقررہ قیمت پر گندم فروخت کرنے میں دشواری ہوتی اور مڈل مین کو ان کی مرضی کی قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے اور یہ مڈل مین کچھ گندم سرکاری محکموں کو مقررہ ریٹ پر اور باقی فلور ملوں کو مرضی کی قیمت پر فروخت کرتے، جس کے نتیجے میں آٹے کی قلت کے ساتھ قیمت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا۔

حکومت نے اس مرتبہ پنجاب میں کسان کو حقیقی ریلیف فراہم کرتے ہوئے گنے اور گندم کی قیمت کسان تنظیموں کے مشورے سے مناسب مقرر کیں،فصل کی مقررہ سرکاری نرخوں پرخرید کو یقینی بنایا،سرکاری اہلکار باردانہ لے کر گاؤں گاؤں گھومتے رہے،اسی طرح گنے کی بھی مناسب قیمت مقرر کی گئی اور کسان کو فروخت میں سہولت کے ساتھ قیمت کی بر وقت ادائیگی پر بھی شوگر ملوں کو مجبور کیا گیا،کئی سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسان کا استحصال کرنے والے آڑھتیوں اور مڈل مینوں کی ایک نہ چلنے دی گئی،اس حوالے سے محکمہ فوڈ کی کار کردگی بھی بہتر رہی اور محکمہ نے کسان کی بھر پور سرپرستی کر کے انہیں مافیاز سے بچائے رکھا،یہی نہیں سالہا سال سے کسانوں کی گنے کی ادائیگی کے لئے شوگر ملوں کو مجبور کیا گیا،جس سے کسان خوشحال ہوا۔

کسان کی بہتری اور زرعی شعبے کو خود کفیل بنانے کے لئے کسان کارڈ کے اجرا سے کسان پیداواری اخراجات کے لئے آڑھتیوں کے رحم و کرم پر نہیں رہا،اب وہ بینک سے آسان شرائط پر فوری قرضہ لے کر بیج کھاد ادویہ خرید سکتا ہے،اس اقدام سے کسان میں اعتماد آیا، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوا، اس کے ساتھ ہی بیورو کریسی پر بھی اعتماد نے معاملات کو بہتر کرنے میں مدد دی۔ کاشتکاروں میں اعتماد کی فضاء ہے، اب وہ ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے پر عزم ہیں،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سفر خوشحالی پر نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتاہے کہ جس ملک کا شعبہ زراعت خود کفیل تھا اس ملک نے مختصر وقت میں کامرانی کے زینے طے کئے، امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان بھی اب خود کفالت کی راہ پر چل نکلے گا، اِن شا اللہ

مزید :

رائے -کالم -