کیا مسلم لیگ(ن) میں دراڑ پڑ گئی؟

کیا مسلم لیگ(ن) میں دراڑ پڑ گئی؟
کیا مسلم لیگ(ن) میں دراڑ پڑ گئی؟

  

مسلم لیگ(ن) کے دو بڑوں میں پہلی بار اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔تحریک انصاف والے اسے ن سے ش نکلنے کا نام دے رہے ہیں، لیکن یہ معاملہ اتنا آسان نہیں کہ ان اختلافات کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) تقسیم ہو جائے۔یہ حکمت عملی کا فرق بھی ہو سکتا ہے۔شہباز شریف کو لندن جانے سے روک دیا گیا تو وہ سیاسی محاذ پر سرگرم ہو گئے۔انہوں نے پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ایک عشایئے پر بھی مدعو کیا،جس میں پیپلزپارٹی کا وفد بھی شامل تھا اور اے این پی کا بھی،انہوں نے دونوں کو واپس پی ڈی ایم میں آنے کی دعوت دی، جسے فوری قبول نہیں کیا گیا،اگلے دن مریم نواز نے جو مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر ہیں،سارا معاملہ ہی اُلٹا دیا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا عشائیہ پی ڈی ایم کا اجلاس نہیں تھا،پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم میں واپسی کی غیر مشروط دعوت نہیں دی جا سکتی جب تک وہ نوٹس پھاڑنے کے اپنے رویے پر معذرت نہیں کرتی،

ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے وہی بیانیہ اپنایا،جو میرا بھی بیانیہ ہے یہ تک کہہ دیا کہ ہمیں پی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی کی ضرورت نہیں، ہمارے نمبر پورے ہیں اب یہ تو ایک واضح دراڑ ہے، جو مسلم لیگ (ن) میں پڑ چکی ہے۔ شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر ہیں،اُن کی طرف سے دونوں روٹھی جماعتوں کو پی ڈی ایم میں واپس آنے کی دعوت اتنی بے معنی تو نہیں ہو سکتی، جتنی مریم نواز نے کر دی ہے۔البتہ اُن کا یہ موقف مضبوط ہے کہ ایسی دعوت کسی انفرادی حیثیت میں کیسے دی جا سکتی ہے،اس کا فیصلہ تو پی ڈی ایم کے اجلاس میں ہی ہو سکتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے شہباز شریف جلدبازی میں قدم اٹھا گئے ہیں۔انہوں نے پی ڈی ایم کی قیادت حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن کو بھی غالباً اعتماد میں نہیں لیا۔پیپلزپارٹی اور اے این پی کا اُن کی دعوت پر عشایئے میں چلے آنا بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے نام پر نہیں،بلکہ شہباز شریف کے بلاوے پر عشایئے میں آئیں۔

یہ سوال بڑا اہم ہے کہ اگر شہباز شریف کو لاہور ائر پورٹ پر نہ روکا جاتا اور وہ بیرون ملک چلے گئے ہوتے تو پیچھے مسلم لیگ(ن)کی باگ ڈور کس کے ہاتھ ہوتی۔شہباز شریف تو اب بھی باہر جانے کے لئے پر تول رہے ہیں اور رکاوٹ دور ہوتے ہی لندن چلے جائیں گے،جھگڑا تو پیپلز پارٹی اور اے این پی سے مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کا ہے،جن کی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سخت بیان بازی بھی ہوئی،اُن سے پوچھے بغیر شہباز شریف نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کو پی ڈی ایم میں شمولیت کی جو دعوت دی،وہ اس حوالے سے بھی متنازعہ ہے کہ شہباز شریف پی ڈی ایم کے عہدیدار نہیں ہیں۔اگر پیپلزپارٹی کو شمولیت کی غیر مشروط دعوت دی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اُس نے سینیٹ انتخابات میں جو کچھ کیا درست تھا،سید یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لئے حکومتی اتحادی جماعتوں کی جو حمایت حاصل کی وہ بھی قابل ِ اعتراض بات نہیں تھی۔

پی ڈی ایم کا یہ اصولی موقف رہا ہے کہ پہلے پیپلزپارٹی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی کرے،پھر اس کی واپسی کے بارے میں غور کیا جائے گا۔شہباز شریف نے دونوں جماعتوں کو شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے ایسی کوئی بات نہیں کی بس یہ کہا کہ حکومت گرانے کے لئے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ظاہر ہے یہ بات اس موقف کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم سے بالا بالا سید یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لئے جو کچھ کیا وہ درست تھا،حالانکہ پی ڈی ایم میں سب سے بڑی دراڑ ہی پیپلزپارٹی کے اس عمل کی وجہ سے پڑی تھی،شہباز شریف اُس وقت جیل میں اور منظر سے آؤٹ تھے،جب یہ سب کچھ ہوا،مسلم لیگ (ن) کے سارے فیصلے مریم نواز کر رہی تھیں اور شاہد خاقان عباسی ان فیصلوں پر عمل کرا رہے تھے، ایسے میں اصولاً شہباز شریف کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا،مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا،ظاہر ہے اس کے ردعمل میں وہی ہونا تھا جو ہوا اور مریم نواز نے پیپلزپارٹی کی واپسی کو رد کر دیا۔

اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔وقت بتائے گا کہ شاید ایسا نہیں ہے،آج بھی مسلم لیگ(ن) پر نواز شریف کی عملداری ہے۔آخری فیصلہ انہی کا ہوتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ مریم نواز کے ہر فیصلے کو نواز شریف کی تائید حاصل ہوتی ہے۔پی ڈی ایم سے نکلنے کے بعد پیپلزپارٹی کی طرف سے نواز شریف پر جو شدید تنقید کی گئی اور سلیکٹڈ کے طعنے دیئے گئے وہ شاید آسانی سے بھلانا ممکن نہیں،پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جب کراچی میں حلقہ 249 کا انتخاب ہوا تو نتائج کے مرحلے پر شدید اختلافات دیکھنے میں آئے، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی بالکل ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں،بلاول بھٹو زرداری نے سخت بیانات دیئے اور دوریوں کو مزید بڑھا دیا۔یہ سب باتیں نہ جانے شہباز شریف کیسے نظر انداز کر گئے اور انہوں نے پیپلزپارٹی کے لئے دیدہ و دِل فرش راہ کر دیئے۔ اصل میں شہباز شریف جیل میں تھے تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گذر چکا تھا۔انہوں نے پی ڈی ایم کے وہ دن دیکھے ہی نہیں جب یہ اتحاد بڑی تیزی سے حکومت کے خلاف آگے بڑھ رہا تھا،اُن دِنوں گیارہ جماعتی اتحاد بالکل متحد تھا، استعفوں کے معاملے پر بھی اتفاق رائے پایا جاتا تھا اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی اپنے استعفے اپنی قیادت کے پاس جمع کرا دیئے تھے،معاملہ تو اُس وقت بگڑا جب پیپلزپارٹی نے اچانک یو ٹرن لیا اور یہ سب باتوں سے پیچھے ہٹتی چلی گئی۔استعفوں سے بھی انکار کیا اور دھرنا دینے سے بھی۔پھر سب نے دیکھا کہ اس نے اُن معاہدوں کو بھی توڑا جو سینیٹ انتخابات کے حوالے سے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے عہدوں کی تقسیم کے حوالے سے کئے تھے۔

اب اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود شہباز شریف نے اس پر قلم پھیر کر پی ڈی ایم کو متحد کرنے کا مشن اختیار کر لیا وہ بھی تن تنہا، ظاہر ہے اُس سے اختلاف کی گنجائش تو ممکن تھی۔وہی اختلاف مریم نواز نے کیا ہے،اِس نے یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں غیر مشروط واپسی کا خواب دیکھنا چھوڑ دے،اسے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑے گا اور اپنے رویے کی معافی بھی مانگنی پڑے گی، تب جا کر معاملہ آگے بڑھے گا۔ابھی تک شہباز شریف کی طرف سے یہ وضاحت بھی نہیں آئی کہ انہوں نے عشائیہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر دیا تھا یا مسلم لیگ(ن) کے صدر کی حیثیت سے۔ بہرحال انہوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو استعمال نہیں کیا۔گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک سینئر سیاسی رہنما کی حیثیت سے پی ڈی ایم کو دوبارہ متحد کرنے کے لئے اپنے تئیں ایک کوشش کی،تاہم اب انہیں بھی یہ واضح ہو گیا ہو گا کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں،اس اتحاد کی راہ میں خود مسلم لیگ (ن) ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ اُس کا سیاسی بیانیہ اب پیپلزپارٹی سے واضح اختلاف پر مبنی ہے اور اس بیانیے کو نواز شریف کی تائید بھی حاصل ہے۔

مزید :

رائے -کالم -