پاکستان اور امریکہ کا 20سالہ پرانا معاہدہ!

 پاکستان اور امریکہ کا 20سالہ پرانا معاہدہ!
 پاکستان اور امریکہ کا 20سالہ پرانا معاہدہ!

  

 آخر جوبائیڈن کو یہ عقل آ ہی گئی کہ افغانستان میں جنگ کے ذریعے فتح حاصل نہیں کی جا سکتی۔ لیکن امریکہ کی یہ پہلی ناکامی نہیں۔ کوریا، ویت نام، عراق، شام اور یمن میں براہ راست اور پراکسی جنگوں میں امریکی ہزیمتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔اب یہی دیکھ لیجئے کہ کابل، قندھار اور بگرام میں عسکری ساز و سامان اور گولہ بارود کا جو ذخیرہ کیا گیا تھا، اس کو واپس لے جانے کے لئے C-17 کارگو طیاروں کا ایک پل بنایا گیا جو امریکہ اور افغانستان کی فضاؤں کے اوپر تھا۔ اس کے علاوہ دفاعی انفراسٹرکچر کو منہدم کرنے کے لئے جدید ترین انہدامی مشینری استعمال کی گئی جس نے لاتعداد فوجی گاڑیوں، توپوں، ٹینکوں اور طیاروں کے لئے بنائے گئے ہینگروں کو یکسر سکریپ میں تبدیل کر دیا۔ افغانی اس سکریپ کے انباروں کو دیکھتے ہیں اور ان کے دلوں سے آہ نکلتی ہے کہ کاش یہ Equipment ان کو صحیح سالم حالت میں مل جاتا تو اس کے کئی گنا زیادہ دام وصول کرتے۔ اب بھی حاجی انار خان اور الحاج اخروٹ خان کی رالیں ٹپکتی ہیں اور وہ مُڑے تُڑے فولادی ڈھانچوں کی قیمت کا اندازہ لگاتے ہیں اور دل تھام کے رہ جاتے ہیں۔ میں نے کئی بار سوچا ہے کہ کیا امریکہ، افغانستان پر زمینی قبضے کے لئے 2001ء میں یہاں اترا تھا؟…… ہماری فوج کو اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکی مقاصد کیا تھے لیکن امریکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے وہ بھی اس 20سالہ جنگ کو ’امریکہ۔ افغان جنگ‘ کا نام دے کر دنیا بھر کو اُسی طرح گمراہ کرتی رہی ہے جس طرح امریکی اور ناٹو افواج کو اس جنگ کی بھٹی کی نذر کرکے اسے ننگ دھڑنگ افغانوں کو از سرتاپا مسلح یورپی فوجوں کے درمیان مسلح تصادم کا نام دیتی ہے۔

ISI کی کامیابی اسی میں ہے کہ اس سفید امریکی / یورپی جھوٹ کو ایک نگاہ سے دیکھے لیکن دوسری نگاہ سے ان سفید فام اقوام کی مکاریوں کو پاکستان کے فائدے کے لئے بھی استعمال کرے…… 1980ء کے عشرے میں دنیا کی دوسری سپرپاور نے جب وہی کچھ کرنے کی کوشش کی تھی جو 2001ء میں امریکہ نے کی تو اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ روس کو پاکستانی بم سے کوئی لینا دینا نہ تھا کہ پاکستانی بم تو اسی افغان جہاد کی اوٹ میں تشکیل و تکمیل کیا گیا۔ اب افغانستان میں جو امریکی فوجی باقی ہیں ان کی تعداد اتنی نہیں کہ ان کے انخلا کے لئے چار ماہ کا عرصہ درکار ہو۔ آج کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان سے اب تک صرف 16% امریکی فوج واپس جا سکی ہے۔ باقی 84% کو آئندہ 100دنوں اور 100راتوں کے دوران (11ستمبر 2021ء تک) واپس جانا ہے۔

امریکہ، افغانستان سے نکل بھی رہا ہے اور آس پاس کے ملکوں میں ایسے ٹھکانوں (Basesوغیرہ) کی تلاش میں بھی ہے جن میں وہ ان 2500ٹروپس کو قیام پذیر کر سکے!…… کیا قارئین کو یقین ہے کہ وسط ایشیائی ریاستوں میں اپنے فوجیوں کو ٹھہرانے کا مقصد وہی ہے جو میڈیا کے ذریعے عام کیا جا رہا ہے؟…… اور یہ وسط ایشیائی ریاستیں وہی تو ہیں جن سے ’عاجز‘ آکر 1990ء میں سوویت یونین ان سے نکل گیا تھا۔ اب اگر امریکہ ان میں آنا چاہتا ہے تو اسے روسی / سوویت انخلا کی وجوہات پر غور کرنا چاہیے اور امریکیوں نے اس پر غور کیا ہو گا اور اس آپشن کو ناقابلِ عمل سمجھ کر ناچار پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹایا ہوگا!

کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں 2001ء کا ایک پرانا معاہدہ موجود ہے جس کی رو سے پاکستان، امریکہ کو فضائی اور زمینی راہداری استعمال کرنے کی اجازت دینے کا پابند ہے…… سبحان اللہ! 20برس بعد اس معاہدے کو ’بیدار‘ کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اس دیرینہ معاہدے کو از سر نو سر اٹھانے کی اجازت کیوں دے رہا ہے؟ ویسے بین الاقوامی معاہدوں کے متعلق تو یہ مقولہ مشہور ہے کہ ان کو زود یا بدیر ٹوٹنا ہی ہوتا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سیٹو اور سنٹو معاہدے یاد کیجئے۔ کیا 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں ان کی پاسداری کی گئی؟ امریکہ تو پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کا ایک کارنر سٹون بھی کہہ چکا ہے۔ کیا اس ’امریکی قول‘ کو کبھی عملی شکل میں دیکھنے کا اتفاق ہوا کسی پاکستانی کو؟ …… اگر نہیں تو ترجمانِ وزارتِ خارجہ، حفیظ خان کو یہ بات برملا کہنے سے کس نے روکا ہے؟ ان کا فرمانا ہے کہ: ”ہاں 2001ء کا ایک معاہدہ موجود ہے جس کی رو سے پاکستان، امریکہ کو اپنی فضائی اور زمینی راہداریوں کو استعمال کرنے کی اجازت دینے کا مکّلف ہے“…… ایک عام پاکستانی کے لئے یہ بات باعثِ ننگ ہے کہ وہ دم دبا کر بھاگنے والے امریکیوں کو یہ سہولت دے۔ میں ابھی تک اس ’سہولت‘ کے پسِ پردہ پوشیدہ ’پاکستانی مصلحتوں‘ کی کھوج نہیں لگا سکا!…… 

کیا پاکستان، امریکہ کو یہ سہولت اس لئے دے رہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ 11ستمبر 2021ء کے بعد انڈین مشیروں کو یہاں سے دیس نکالا دے دے گا؟…… کیا طالبان بھی اس ڈیل میں پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں؟…… کیا پاکستان پر چین اور روس کا دباؤ ہے کہ وہ امریکی انخلا کی تکمیل میں بائیڈن کو کسی بہانہ سازی کا موقع نہ دے؟…… کیا امریکہ اور پاکستان کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ بھی موجود ہے جس کی رو سے پاکستان کو امریکی دفاعی ساز و سامان کے حصول کی توقع ہے؟…… میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس وغیرہ امریکی پتنگ کا ’دُم چھّلا‘ ہیں۔ کیا امریکہ نے پاکستان کو کوئی یقین دلایا ہے کہ وہ برطانیہ پر زور دے گا کہ پاکستان کے ان منی لانڈروں کو اپنے ہاں سے نکال باہر کرے جنہوں نے گزشتہ کئی عشروں کی لوٹ مار سے پاکستان کو کنگال کر دیا ہے؟…… کیا برٹش ورجن آئی لینڈز کی سپریم / ہائی کورٹ نے 6بلین ڈالر پاکستان کو ادا کرنے کا جو فیصلہ سنایا ہے اس کے پسِ پردہ محرکات میں برطانوی ہائی کمانڈ کا بھی کوئی ہاتھ ہے؟…… کیا امریکہ نے اپنے برطانوی ’دم چھّلے‘ کو اشارہ کیا ہے کہ وہ برٹش ورجن آئی لینڈ (BVI)کے جج کو یہ سہولت پاکستان کو فراہم کرنے کا اشارہ دے؟……

قارئین گرامی! یہ ساری باتیں بظاہر آج ظن و تخمیں کے زمرے میں ہیں۔ لیکن سفید فام اقوام کی تاریخ ایسی انہونیوں سے بھری پڑی ہے۔ آپ کس کس کو یاد کریں گے؟…… آج جو بات انہونی نظر آتی ہے وہ آنے والے کل میں حقیقت کا روپ دھارنے میں ’حق بجانب‘ ہو جاتی ہے۔ یہ صرف ہم سادہ لوح مسلمان ہی ہیں جو جنگ میں اپنے قول و قرار برقرار رکھنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

اگلے روز وزیراعظم کو ISI ہیڈکوارٹر میں لے جایا گیا…… اس کی اچانک ضرورت کیا آن پڑی تھی؟ کور کمانڈرز کانفرنس بھی اچانک منعقد کی گئی۔ اس کی ضرورت کیا تھی؟ کیا عمران خان ماضی میں یہ نہیں فرماتے رہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اپنے اڈے (جیکب آباد، شمسی وغیرہ) دے کر سخت غلطی کی تھی اور یہ غلطی اب کبھی نہیں دہرائی جائے گی…… کیا پاکستان اس غلطی کو 100% دہرانے کی جگہ اگر 25%بھی دہرائے تو کیا عمران خان کو ایک اور ’یوٹرن‘ لینا پڑے گا؟…… میں بھی منتظر رہوں گا اور آپ بھی انتظار کیجئے۔2001ء کے اس پاک۔ امریکہ معاہدے کو اچانک Revive کرنے کے مضمرات کسی نہ کسی لیول پر آشکار ضرور ہوں گے۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں 

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

مزید :

رائے -کالم -