جدائی کا ایک سال

 جدائی کا ایک سال

  

 مدثر حسن قاسمی گزشتہ سال 27مئی کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے وہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں عربی زبان و ادب کے استاد تھے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے تدریسی کیرئیر کے دوران پی ٹی وی اور دیگر چینلز کے ساتھ بھی بطور اداکار وابستہ رہے۔ بطور پروڈیوسر ڈائریکٹر بھی انہوں نے اپنے ڈرامے تیار کئے جو بعد میں مختلف چینلز پر پیش کئے جاتے رہے۔

مدثر قاسمی کے والد مولانا جعفر قاسمی ایک ممتاز علمی شخصیت تھے اور انگلستان میں اپنے طویل قیام کے دوران بی بی سی لندن کی اردو سروس سے وابستہ رہے تھے جب مولانا جعفر قاسمی 1965ء میں پاکستان واپس آئے تو مدثر قاسمی ابھی صرف دو سال کے تھے۔ مدثر حسن قاسمی نے اپنی ابتدائی تعلیم ادبستان صوفیا لاہور سے حاصل کی اور بعدازاں گورنمنٹ ایف سی کالج لاہور چلے گئے۔اپنے آبائی شہر چنیوٹ کے مسائل کی وجہ سے انہوں نے اپنی مائیگریشن ایف سی کالج سے اسلامیہ کالج چنیوٹ کروا لی اور بعدازاں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج سے ایم اے عربی کیا اور شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں رغبت تصوف و عرفان سے بھی تھی اور وہ روم کے سلسلہ تصوف الشازلیہ سے وابستہ تھے۔ طویل عرصہ وہ ایک صوفی کی حیثیت سے عوام الناس سے گوشتہ نشین تھے اور صرف منتخب شخصیات سے رابطہ رکھتے تھے۔ اس لحاظ سے وہ اپنے والد مولانا جعفر قاسمی کے پیروکار تھے کہ صرف خاص شخصیات سے رابطہ رکھا جائے اور عوام سے کنارہ کشی کی جائے۔ اس کے باوجود وہ ایک ملنسار اور خوشگوار شخصیت کے مالک تھے ٹی وی ڈراموں میں ان کی دلچسپی شروع ہی سے تھی اور انہوں نے اندھیرا اجالا ڈرامے میں بھی کام کیا جبکہ علی بابا چالیس چور اور دیگر ڈراموں میں بھی اچھے اور اہم کردار ادا کئے۔گزشتہ سال جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو مدثر حسن قاسمی بھی اس میں مبتلا ہوکر دنیا سے چلے گئے۔ ان کے تمام احباب نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا۔ ابھی انہوں نے اپنی عمر عزیز کی بہت سی بہاریں دیکھنا تھیں۔

مدثر حسن قاسمی نے اپنی زندگی میں اپنے والد ماجد مولانا جعفر قاسمی کی یادوں کا چراغ ہمیشہ روشن رکھا جس میں انہیں جناب مجیب الرحمن شامی کی سرپرستی حاصل رہی اور مولانا جعفر قاسمی کے نام سے میموریل لیکچر کا سلسلہ شروع کیا اسی طرح چنیوٹ میں مولانا جعفر قاسمی سٹریٹ کا نام ان کے والد سے منسوب کیا گیا۔ مدثر حسن قاسمی نے اپنے والد کے مضامین پر مشتمل محشرِ خیال کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع کی۔ اب ان کے صاحبزادے محمد احمد مدثر قاسمی اپنے والد کی یادوں کا چراغ روشن کئے ہوئے ہیں۔مدثر قاسمی میرے ماموں زاد بھائی تھے اور زندگی بھر ان سے تعلق ایک دوست کا سا رہا۔ 

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -