کورونا ویکسین اور افواہوں کا بازار! 

کورونا ویکسین اور افواہوں کا بازار! 

  

 کیا پیشہ ورانہ رویوں سے سازشی نظریات کو توڑا جا سکتا ہے؟

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے جو ابھی تک اپنی آبادی کے 2 فیصد سے کم لوگوں کو کورونا کی ویکسین دے سکے ہیں جبکہ زیادہ تر ممالک میں یہ شرح 50 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ سب لوگ یہ حقیقت مان چکے ہیں کہ ویکسین کے بعد ہم معاشی، مذہبی اور سماجی معاملات احسن طریقے سے انجام دے سکتے ہیں مگر پاکستان جیسے پسماندہ ممالک جہاں شرح خواندگی 60 فیصد سے کم ہونے کے ساتھ 25 ملین بچے سکول نہیں جاتے، وہاں لوگوں کو ویکسین کے لیے آمادہ کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہاں ہر بندہ اپنا الگ نظریہ اور سوچ لیے ہوئے کھڑا ہے اور حکومتی احکامات کو پس پشت ڈال کر اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ہمارے جیسے پسماندہ معاشروں میں جب بھی کوئی سائنسی ایجاد ہوتی ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے مگر کچھ وقت کے بعد اس کو حقیقت جان کر تسلیم کرتے ہیں مگر وقت کا پہیہ گزر جانے کے بعد۔ آپ کے پاس سینکڑوں مثالیں ہیں جو ٹی-وی سے لیکر کیمرے اور لاوڈسپیکر سے موبائل فون تک، مشین کی ایجاد سے مختلف بیماریوں کی ادویات تک، ہم مخالفت سے شروع کر کے اس کو گھر لا کر فخر محسوس کرتے ہیں مگر ہر بار ماضی کو یاد نہیں کرتے اور یہ سفر تیسری نسل تک پہنچ چکا ہے۔

اسی کیفیت سے میں پچھلے 3 ہفتوں سے اپنی امی جان کو ریکوسٹ کر رہا تھا کہ کورونا کی ویکسین لگوا لیتے ہیں مگر وہ مسلسل کسی سازشی تھیوری کا ذکر سنا کر، جو کسی بھی ان پڑھ یا وحمی بندے سے سن کر اس پر یقین پکا کیے بیٹھی تھی کہ یہ مغرب اور بل گیٹس کی چال ہے اور مسلمانوں کو کنٹرول کرنے کا خواب پورا کرنے کے چکر میں ہمیں ویکسین دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت پاکستان میں 18 محتلف نظریات عام فہم اور جلدی قائل ہونے والے لوگوں میں گردش کر رہے ہیں جو کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ ابھی تک گلی محلوں میں یہ نظریات گردش کر رہے ہیں کہ ویکسین مغرب کی چال ہے، بل گیٹس ویکسین سے لوگوں میں مائیکرو چپ لگا کر ان کو کنٹرول کرے گا، 5جی کی تیاری سے لے کر دنیا کے خاتمے تک کے افواہیں گردش کر رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کل صبح میں نے امی جان کو بتایا کہ بل گیٹس جو پوری دینا کو مائیکرو چپ کے ذریعے سے کنٹرول کرنا چاہ رہا ہے وہ تو اپنی بیوی کو بھی کنٹرول نہیں کر سکا اور اس نے طلاق لے لی ہے۔ اس لیے اس طرح کہ نظریات کا مقصد صرف لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے تاکہ لوگ غیر محفوظ ہوں اور دنیا ہماری بیوقوفی کا مذاق اڑائے جب کہ ویکسین میں ایسی کوئی سازش نہیں ہے۔میری یہ دلیل ابھی مکمل بھی نہ ہوئی اور امی جان نے کہا کہ واقعی اس طرح کے لوگ ہمیں گمراہ کر رہے ہیں اور ہم نے اسی وقت 1166 پر اپنا اور امی جان کا نمبر رجسٹر کروایا اور آج ویکسین سنٹر جا کر خوشی سے ویکسین لگوا کر اور واپسی پر یہ احساس لے کر واپس آئے کہ اب ہم محفوظ ہیں۔ایک اور خوشی کی بات کہ سنٹر پہنچنے پر عملہ اور انتظامات بہت اعلی تھے، یہاں تک کہ ڈپٹی کمشنر سیف انور چٹھہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوآرڈینٹر فہیم صالح خود لوگوں سے اپنی خدمات کے حوالے سے سوال وجواب کر رہے تھے جو بہت خوش آئند ہے۔ مگر وہاں بیٹھے ہوئے میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ سرکاری مشینری موجود ہونے کے ساتھ، 1166 کی بیترین سروس، میڈیکل عملہ اور ویکسین کی وافر مقدار بھی موجود ہے مگر ہم پھر بھی اس میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ پاکستان سب سے کم لوگوں کو ویکسین دینے والوں میں کیوں شامل ہے؟ تو تھوڑا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ہمارا غیر سماجی اور غیر پیشہ ورانہ رویہ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سارے ویکسین سنٹرز پر انجکشن لگانے کے بعد یہ نہیں بتایا جاتا کہ ویکسین کے 48 گھنٹوں تک آپ کو بخار، کمزوری اور بازو میں درد ہو سکتی ہے اور اسکا سادہ سا حل یہ ہے کہ ایک پیناڈول یا بروفن کی گولی کھانے سے افاقہ ہو گا۔ جب میڈیکل سٹاف یہ نہیں بتاتا تو بحار اور کمزوری سے ویکسین لینے والا پریشانی کا شکار ہو کر اگلے 48 گھنٹوں میں سینکڑوں لوگوں کو ڈرا کر مایوس کر چکا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگوں کو ویکسین لینے کے بعد منفی اثرات دیکھنے کو ملے اور اس میں قصور ویکسین کا نہیں ہے بلکہ ہمارا غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے۔ اگر آپ کو ہائی بلڈپریشر، شوگر، بخار یا پچھلے کچھ دنوں تک کورونا تھا تو آپ کے لیے ویکسین فائدہ کی بجائے تقصان دے سکتی ہے اور یہ باتیں اگر میڈیکل سٹاف آپ کو نہیں بتاتا تو یہ اس کی طرف سے کوتاہی تصور کی جائے گی۔

تمام قارئین سے درخواست ہے کہ جلدی سے 1166 پر اپنے کو رجسٹر کروا کر ذمہ دار شہری بنیں اور معاشی معاملات کو نارمل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اگر میڈیکل عملہ آپ سے کوئی معلومات نہیں لیتا یا آپ کو ویکسین سے متعلقہ معلومات نہیں دیتا تو اس سے تعاون کرنے کی درخواست کریں اور آپ کا چھوٹا سا عمل کتنے لوگوں کو ذہنی سکون دے سکتا ہے۔ حکومتی ارباب اختیار سے بھی درخواست ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو آگاہی فراہم کی جائے کہ ویکسین لگوانے سے پہلے اور لگوانے کے بعد آپ کون سی چیزوں کو اپنے ذہن میں رکھیں تاکہ معاشرے میں پھیلنے والی افواہوں کا سدباب کیا جا سکے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -