پنجاب اسمبلی: پانی کی تقسیم کا معاملہ، اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں گرماگرمی 

پنجاب اسمبلی: پانی کی تقسیم کا معاملہ، اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی،آئی این پی) پنجاب اسمبلی میں صوبے میں پانی کی تقسیم اور سندھ حکومت کی پنجاب پرتنقید کے معاملے اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں گرماگرمی،وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر آصف نکئی ہر سوال کا جواب”حوصلہ رکھیں سڑکیں بھی بنالیتے ہیں“دیتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز پنجاب کا اجلاس قائم مقام سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ پچاس منٹس تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کے متعلق سوالوں کے جواب صوبائی وزیر سردار آصف نکئی کی جانب سے دئیے گئے۔پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر گرماگرم بحث میں صوبائی وزیر محسن لغاری نے کہا ارسا کے پنجاب سے ممبر کو خراج تحسین پیش کرتاہوں جنہوں نے اچھی نمائندگی کی۔ملک میں اس وقت پانی کا سنگین مسئلہ ہے۔اب کہیں سے پانی امپورٹ نہیں کر سکتے جو قدرت نے ہمیں دیاوہی استعمال کریں گے۔جب گرمی سے برف پگھلتی ہے تو وہ پانی ہمارے پاس آتاہے۔ ارسا کے اندازے کے مطابق دس فیصد پانی کم کا اندازہ تھا۔شروع میں پنجاب کو پانی کم ملا۔پنجاب کو پہلی اپریل سے 45فیصد پانی کم ملا سندھ والوں کو 9فیصد پانی کم ملا۔دوسری دہائی میں پنجاب میں چونتیس فیصداور سندھ میں سات فیصد پانی کی کمی آئی۔تیسری دہائی میں پنجاب میں کاٹن کیلئے پانی مائنس انیس فیصد اورمائنس دس فیصد سندھ کو پانی کم ملا۔پہلی دہائی میں پنجاب کو چودہ فیصد اور سندھ کو پچیس فیصد پانی کا نقصان ہوا۔دوسری دہائی میں پنجاب میں پانی کابارہ فیصد  اور سندھ جا ستائیس فیصد پانی کا نقصان ہوا۔پورے سیزن میں پنجاب کا بائیس فیصد اور سندھ کو سترہ فیصد  پانی کی کمی ہوئی۔ارسا کے مطابق پانی کی کمی دس فیصد ہونی چاہئے تھی۔جہلم اور چناب سے پنجاب کو  پانی کی اکیس فیصد کمی ہوئی۔بار ہا ارسا سے کہہ چکے ہیں پانی پنجاب سے نکلنے اور باہر نکلنے کو  پیمائش کیا جائے۔ملک احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا  اگر سندھ اسمبلی میں مجموعی طورپر مسئلہ اس طرح اٹھنا ہے پنجاب سے زیادتی ہو رہی تو صوبوں کے درمیان۔پانی کے مسئلے پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔پنجاب اسمبلی میں پانی کے معاملے پر متفقہ قرار داد پاس کی جائے اود ارسا کو بلا کر مسئلے کے حل کیلئے تجاویز دی جائیں۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاہور کی 9 سڑکیں حکومت کی نااہلی کی نظر ہوگئیں ہیں سڑکوں کی مرمت کے لیے حکومت کی جانب سے فنڈز نہ رکھنے کا انکشاف کیا 9 سڑکوں کو 2018 میں آخری مرتبہ مرمت کیا گیا۔مذکورہ سڑکوں کے لیے مالی سال 19 اور 20 میں مرمت کے لیے کوئی فنڈ ہی نہیں رکھا گیا۔پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے والی محکمہ مواصلات کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ لاہور کی 9 اہم نوعیت کی سڑکیں مرمت کے لیے فنڈز کی منتظر۔مرمت کی منتظر سڑکوں میں لاہور فیروز پور روڈ گجومتہ تا للیانی 15 کلو میٹر سے زائد۔برکی روڈ عبداللہ گل انٹر چینج تا ہڈیارہ اڈہ 18 کلو میٹر۔سگیاں روڈ سگیاں برج تا دوساکو چوک لمبائی 5 کلو میٹر۔رائیونڈ روڈ ٹھوکر تا رائیونڈ لمبائی 24 کلو میٹر۔ڈیفنس روڈ فیروز پور روڈ تا ملتان روڈ 25 کلو میٹر۔مانگا رائیونڈ روڈ لمبائی 16 کلومیٹر۔سندر رائیونڈ روڈ لمبائی 14 کلومیٹر۔پاچیاں بائی پاس روڈ لمبائی 6 کلومیٹر۔جی ٹی روڈ قائد اعظم انٹر چینج تا واہگہ بارڈر لمبائی 11 کلومیٹر سے زائد شامل ہیں۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری اقبال گجر اسمبلی کی چکر آنے کی وجہ سے سیڑھیوں سے گر کرزخمی ہوگئے۔ریسکیو کے اہلکار چوہدری اقبال گجر کو لیکر ہسپتال منتقل کردیا۔بعدازراں قائمقام سپیکر دوست مزاری نے اجلاس اجلاس جمعے کی صبح نو بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی 

مزید :

صفحہ آخر -