اے سی سی اے کامالی بد عنونی روکنے کیلئے اکاؤنٹنٹس کے کردار پر زور

     اے سی سی اے کامالی بد عنونی روکنے کیلئے اکاؤنٹنٹس کے کردار پر زور

  

لاہور(پ ر)  اکاؤنٹنٹس کو چاہیے کہ وہ نئے کلائنٹس سے معاہدہ کرتے وقت حفاظتی اقدامات کریں اور یقینی بنائیں کہ دھوکا دہی کے خلاف اقدامات اس قدرمضبوط ہیں کہ وہ عالمی وبا سے پیدا ہونے والی ممکنہ مجرمانہ سرگرمی سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے)کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو کلائنٹس کے بارے میں،اپنے وجدان پر بہت زیادہ اعتمادکرنے کے حوالے سے متنبہ کیا گیا ہے اور تجویز کیا گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دیں۔تاہم، ایسے اکاونٹنٹس، جنہوں نے سروے میں حصہ لیا، شناخت کی توثیق کرنے اور ممکن نئے کلائنٹس کے مالی ریکارڈز کی چھان بین کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کے بارے میں تحفظات بھی رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ایسے ٹولز بہت مہنگے ہوتے ہیں اور چھوٹے کلائنٹس کے لیے ان کا استعمال ضروری نہیں۔سروے میں شریک صرف 49 فیصداکاؤنٹنٹس نئے کلائنٹس کے لیے کسی بھی قسم کا آن لائن چیک سسٹم استعمال کرتے ہیں جبکہ اکثریت اْن کے پاسپورٹس اور دیگر شناختی تفصیلات کی جانچ کرتی ہے اور اْس کے لیے روایتی کاغذی طریقے استعمال کرتی ہے۔

 رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ 65 فیصدشرکاء  اب بھی فزیکل ریکارڈز کی مینوئل ریکارڈ کیپنگ پر بھروسہ کرتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بات بھی دریافت ہوئی ہے کہ سول ٹریڈر اکاؤنٹنسی ادارے، بالخصوص دھوکا دہی کے خلاف جانچ کو ’باکس ٹکنگ‘ مشق سمجھتے ہیں۔نئے کلائنٹس کے اچھے کردار کی جانچ کے لیے وہ اپنے وِجدان پر بھروسہ کرتے ہیں اور دیگر کلائنٹس اور رابطوں کی سفارشات پر غور کرتے ہیں۔ ”اپنے کلائنٹ سے واقفیت حاصل کیجیے: کیا دفاع کی پہلی لائن کو ڈیجیٹلائز کرنے کا یہی موقع ہے“ کے عنوان سے شائع ہونے والی اِس رپورٹ کے مصنف اور اے سی سی اے میں ہیڈ آف ٹیکسیشن جیسن پائپر نے دنیا بھر سے پیشہ ور اکاونٹنٹس کا سروے کیا  تاکہ عدم تعمیل سے پیدا ہونے والے خطرات کم کرنے میں مالی پروفیشنلزم کی مدد کی جا سکے۔ جیسن نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا:”شناخت کی توثیق کے لیے، بہت سے ادارے اب ذاتی سفارش پر عمل کرنے کی بجائے رسمی انضباطی فریم ورک کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اس طرح کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اکاؤنٹنٹس کو بھی اپنے وجدان پر بھروسہ کرنے کی بجائے ٹولز پر بھروسہ کرنا چاہیے؟“جیسن نے مزید کہا:”ہر اکاؤنٹنٹ کے کلائنٹس کی بڑی اکثریت کے لیے کووڈ19-وبا سے پیدا ہونے والی عالمی اقتصادی تنزلی کے نتیجے میں کسی نہ کسی طرح عدم تعمیل کے خطرات میں بتدریج اضافہ ہو گا۔“جیسن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:”کیش فلو میں شدید کمی کے باعث کاروباری ادارے بقا کی جدوجہد کررہے ہیں،’تصدیق کے لیے بہت کافی ہے‘ کا فائدہ اٹھانے کی غرض سیکانٹ چھانٹ کی ترغیب موجود ہے۔“"ایسے کلائنٹس جنہوں نے آج سے دو سال قبل تک شاید کسی غیر قانونی سرگرمی کے بارے میں نہیں سوچا ہوگا اب کالے دھن کو سفید دھن میں تبدیل کرنے کے نمایاں خطرے سے، شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر،دوچار ہو سکتے ہیں۔“رپورٹ میں فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کومتنبہ کیا گیا ہے کہ اُن کا کردار نقدی کے بہاؤکے بہت قریب ہے اور صرف ایک کلائنٹ ان کی مشق ضائع کر سکتا ہے۔‘رپورٹ کے مصنف نے کنسلٹیٹو کمیٹی آف اکاؤنٹنسی باڈیز (سی سی اے بی) کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے ایک مطالعے کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اکاؤنٹنٹس کی اکثریت نہیں سمجھتی کہ دھوکا دہی کے خطرے کے تناسب سے اقتصادی جانچ کی ضرورت ہے۔نئی رپورٹ میں انفرادی مثالوں سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ِاس پیشے میں سمجھا جاتا ہے کہ مجرمانہ سرگرمی کے ساتھ الجھا ہوا ان کے لیے خطرہ کم ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جانچ اہمیت رکھتی ہے لیکن ان کے کاروباری اداروں کے لیے اس کی ترجیح زیادہ نہیں ہے۔مطالعے میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ چھوٹے ادارے اپنے تصور اور ذاتی سفارش پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے ہیں لیکن یہ بھی کہا:”شاید بہت نمایاں خطرہ اکاؤنٹنٹ میں پائے جانے والی بہت زیادہ خود اعتمادی سے پیدا ہوتا جو خود کو اس تشخیص کے قابل بھی سمجھتے ہیں جو حقیقی معنو ں میں ان میں نہیں پایا جا تا ہے۔“سروے کے اختتام پربتایا گیا ہے کہ بعض اکاؤنٹنٹس آن لائن اینٹی فراڈ ٹولز سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور سافٹ ویئر بنانے والے اداروں اور ریگولیٹرز کو لازماً  جل جل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی عالمی سطح پر دستیاب ہے اور باکفایت ہے۔

مزید :

کامرس -