لاہورہائیکورٹ، شیر علی گورچانی کی نیب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹاد ی گئی

لاہورہائیکورٹ، شیر علی گورچانی کی نیب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹاد ی ...

  

  ملتان (خصو صی  رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ ملتان کے دو ججز مسٹر جسٹس سردار محمد سرفراز  ڈوگر اور مسٹر جسٹس انوار الحق (بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

پنوں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی شیر علی گورچانی کی نیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نیب کے بیان پر نمٹا دی ہے نیب حکام اور راجن پور نے انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ جائیداد کی نیلامی کا کوئی اشتہار جاری نہیں کیا اور عدالتی حکم کی پاسداری کررہے ہیں۔ قبل ازیں عدالت عالیہ نے سٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر راجن پور کو جائیداد نیلامی سے روک دیا تھا۔یاد رہے کہ نیب حکام نے شیر علی گورچانی، انکی اہلیہ روپ علی گورچانی، والد سردار پرویز اقبال گورچانی اور بھائیوں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے سے متعلق ریفرنس بنا رکھا ہے جس پر احتساب عدالت ملتان نے پیٹشنر شیر علی گورچانی اور انکی بیوی روپ علی کے علاوہ والد اور بھائیوں کی جائیدادیں ضبط کرنے سے نیب کو روک دیا تھا تاہم نیب لاہور نے انکی بیوی کے نام لاہور کے رہائشی مکان کی ضبطگی کنفرم کردی تھی جبکہ شیر علی گورچانی کا جام پور میں قائم میر بس اسٹینڈ جو نجی کمپنی کے استعمال میں ہے اسے نیلام کیے جانے کی کاروائی شروع کی جو 8 مارچ کو ہونا تھی۔ نیب کو روکنے کے لئے درخواست دائر کی گئی جس پر شیر علی گورچانی کی جانب سے سینئر قانون دان رانا آصف سعید اور نعیم خان عدالت عالیہ میں پیش ہوئے تھے۔نیب حکام کے مطابق سابق ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی کے موجودہ اثاثے ان کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں اور وہ اس کا جواز پیش کرنے میں ناکام ہیں جبکہ ملزم کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ان کا تعلق اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن سے ہے ان کے خلاف انتقامی کاروائی کی جا رہی ہے۔ جبکہ انکی اہلیہ کا اپنا ذریعہ آمدن ہے اس لیے نیب کو جائیدادیں ضبط کرنے سے روکا جائے۔ سٹے آرڈر کے باوجود  اخبار میں  جایداد کی نیلامی کے اشتہارات دیئے گئے  عدالت  میں اس اقدام کو چیلنج کیا گیا جس  پر عدالت عالیہ نے  برہمی کا اظہار کیا اور ڈائریکڑ جنرل  نیب، ڈپٹی کمشنر  ڈیرہ غازی خان اور اسسٹنٹ کمشنر  راجن پور  کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری  کرتے ہوئے آئندہ پیشی پر تحریری جواب جمع کرانے کا  حکم دیا تھا  تاہم گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر راجن پور نے تحریری جواب جمع کرایا جس پر عدالت عالیہ نے پٹیشن نمٹا دی ہے۔

نمٹا دی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -