لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ، چھوٹو سمیت مختلف گینگز کے18ملزموں  کی سزاکے خلاف  اپیل لیفٹ اوور

لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ، چھوٹو سمیت مختلف گینگز کے18ملزموں  کی سزاکے خلاف ...

  

  ملتان (خصو صی  رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ ملتان کے دو ججز مسٹر (بقیہ نمبر8صفحہ6پر)

جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور مسٹر جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل ڈویژن بینچ نے نے چھوٹو گینگ سمیت 4 گینگز کے 18 ملزموں کی سزا کے خلاف اپیل لیفٹ اوور کردی ہے۔ قبل ازیں عدالت عالیہ میں 18 ملزمان نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی جس کی پیروی ایڈووکیٹ عامر خان بھٹہ نے کی۔ یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 3 دسمبر 2019 کو ملزمان کو مجموعی طور پر 18،18 مرتبہ سزائے موت، 204 سال قید، 63 لاکھ روپے فی کس جرمانہ اور تمام جائیداد ظبطی کی سزا کا حکم دیا تھا جبکہ دو کم عمر ملزموں کو سزائے موت کی جگہ 450 سال فی کس قید سزا جبکہ دیگر 218 سال قید، 63 لاکھ روپے فی کس معاوضہ و جرمانہ اور جائیداد ظبطی کی سزا بھی دی گئی تھی۔ فاضل عدالت نے مقدمہ کی 2 سال سے زائد عرصہ نیو سنٹرل جیل میں سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔ فاضل عدالت میں پولیس تھانہ بنگلہ اچھا کے مطابق 13 اپریل 2016 کو ایس ایچ او محمد حنیف غوری کو اطلاع ملی کہ چھوٹو گینگ، سکھانی گینگ، انڈھر گینگ اور چنگوانی گینگ سے تعلق رکھنے والے خطرناک اشتہاری ملزم بھاری اسلحہ سے لیس ہو کر موضع چکاد نوانی کے علاقہ میں موجود ہیں جس پر پولیس ٹیم تیار کر کے کشتیوں پر مذکورہ علاقہ میں پہنچ کر ملزموں کو گھیرا گیا جس پر ملزموں نے بھاری اسلحہ، ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کر دیا جس سے پولیس اہلکار عبید اللہ تبسم جاں بحق، ایس ایچ او محمد حنیف غوری، پولیس اہلکار سیف اللہ، تنویر احمد، محمد اجمل، محمد طارق، شکیل احمد، آفتاب احمد، امان اللہ، حق نواز، زبیح اللہ، محمد اسحاق، مقصود احمد، سعید احمد زخمی ہو گئے جبکہ ملزمون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان ملزموں کے خلاف دہشت گردی کے دیگر 10 مختلف مقدمات اور یہ ملزم جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث تھے نیز آپریشن کے دوران 22 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا گیا جبکہ پولیس نے ملزموں سے 12 ہینڈ گرنیڈ، چار راکٹ لانچر اور کثیر تعداد میں بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ فاضل عدالت میں ملزموں کے خلاف 30 گواہ پیش ہوئے جبکہ ملزموں نے اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا شہادت پیش نہیں کی۔ فاضل عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 20 ملزموں غلام رسول عرف چھوٹو، نادر، دین محمد، خالد عرف خالدی، اسحاق عرف بلال، اکرم عرف اکری، غلام حیدر، حاکم، رزاق، ماجد، ناصر، شیر خان، جمعہ عرف بھٹہ، رشید، بہرام، بشیر، عبد الواحد، مجیب الرحمن، حسین بخش اور پیارا کو قتل کی دفعہ 302 کے تحت 6،6 مرتبہ سزائے موت اور 20،20 لاکھ روپے معاوضہ، جبکہ 18 سال سے کم عمر کے دو ملزموں قاسم اور صمد کو 6،6 مرتبہ عمر قید اور 20،20 لاکھ روپے معاوضہ، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7-اے ٹی اے کے تحت مذکورہ 20 ملزموں کو 6،6 مرتبہ سزائے موت اور 20،20 لاکھ روپے جرمانہ اور 2 کم عمر ملزموں کو 6،6 مرتبہ عمر قید اور 20،20 لاکھ روپے جرمانہ، تمام 22 ملزموں کو ارادہ قتل کی دفعہ 324 کے تحت 7 مرتبہ 10،10 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7-سی کے تحت 7 مرتبہ 10،10 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ، اغوا کی دفعہ 365 کے تحت 7،7 سال قید اور ایک ایک لاکھ روہے جرمانہ، ڈکیتی کی دفعہ 395 کے تحت 10،10 سال قید اور 2،2 لاکھ روپے جرمانہ دفعہ 412 کے تحت 10،10 سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 353 کے تحت 2،2 سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 186 کے تحت 3،3 ماہ قید اور 1500 روپے فی کس جرمانہ، دفعہ 121 کے تحت عمر قید اور 5،5 لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 122 کے تحت 10،10 سال قید اور 2،2 لاکھ روپے جرمانہ، ایکسپلوسیو ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت مذکورہ بالا 20 ملزموں کو 6،6 مرتبہ سزائے موت جبکہ دو کمر عمر ملزموں کو 6،6 مرتبہ عمر قید، ایکسپلویسو ایکٹ کے سیکشن 5-اے کے تحت تمام 20 ملزموں کی تمام جائیداد ظبط کرنے اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو فوری روبکار جاری کر کے حکومت پنجاب کو بھجوانے، اس طرح ملزم نادر کو 3 دفعات میں علیحدہ سزائیں بھی دی گئی ہیں جن میں دفعہ 337-ڈی کے تحت 10 سال قید اور کانسٹیبل سیف اللہ کو دیت کا ایک تہائی ارش بطور معاوضہ، دفعہ 337-اے کے تحت 2 سال قید اور 20 ہزار روپے دمان، دفعہ 337-ایل کے تحت 2 سال قید اور 10 ہزار روپے دمان دینے کی سزا دی گئی ہے۔ فاضل عدالت نے ملزموں کو دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے تمام سزائیں اکٹھی شروع کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

لیفٹ اوور

مزید :

ملتان صفحہ آخر -