افغانستان میں تشدد کے واقعات پر تشویش، پاکستان کی کوششوں سے طالبان امریکہ امن معاہدہ ممکن ہوا: وزیر خارجہ 

  افغانستان میں تشدد کے واقعات پر تشویش، پاکستان کی کوششوں سے طالبان ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے ہی طالبان امریکہ امن معاہدہ ممکن ہوا،پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کاری کا اپنا کردار جاری رکھے گا، مذاکرات سے سیاسی تصفیہ ہی اس ضمن میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، افغانستان میں قیام امن پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ مفاد ہے،ہمیں خرابی پیدا کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہنا چاہیے،افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر بھی تشویش ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یورپی یونین پاکستان کا روایتی دوست اور بڑا معاشی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ روابط کی بنیاد جمہوری اقدار، ہم آہنگی اور احترام پر استوار ہے جبکہ اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان سے دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔ معاہدہ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کی مضبوط بنیاد بنا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے سیاسی تصفیہ ہی اس ضمن میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے جبکہ افغانستان میں قیام امن پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ مفاد ہے۔ افغانستان کے اندر اور باہر ایسے عناصر ہیں جو امن اور سلامتی کی بحال نہیں چاہتے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں خرابی پیدا کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہنا چاہیے اس کے علاوہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر بھی تشویش ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک چین رولنگ پارٹیز ڈائیلاگ کے ورچوئل سیشن میں شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے ناصرف گفت وشنید کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ پاکستان تحریک انصاف اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے مابین تعاون کو مزید فروغ دیا۔ ہماری یہ میٹنگ اس وقت منعقد ہو رہی ہے جب ہم اپنی قومی اور دو طرفہ تاریخ کے اہم مراحل سے گزر رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین نے 21 مئی کو اپنی لازوال دوستی کے ستر سال مکمل کیے۔ چین نے غربت کے خاتمے کا حدف کامیابی سے حاصل کیا۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ اسی سال جولائی میں اپنے سو سال مکمل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس تاریخی موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف چین، جنرل سیکرٹری شی جن پنگ، اور دونوں ممالک کی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کی مسلسل کاوشوں سے پاکستان اور چین کے مابین دو طرفہ لا زوال دوستی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مستحکم ہوتی گئی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے دو طرفہ برادرانہ تعلقات کی بنیاد ایک دوسرے پر پختہ اعتماد، سوچ اور مفادات کی یکسانیت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ تبدیلی کا مظہر ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ہم صنعتی ترقی، تخفیف غربت، روزگار کی فراہمی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ سات دہائیوں پر مشتمل مثالی دو طرفہ تعلقات ”سٹریٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ“میں بدل چکے ہیں۔

وزیرخارجہ 

مزید :

صفحہ اول -