”کووڈ 19“ کے منبع کی تفتیش کا اگلا مرحلہ ”شفاف“ ہونا چاہیے: امریکہ 

  ”کووڈ 19“ کے منبع کی تفتیش کا اگلا مرحلہ ”شفاف“ ہونا چاہیے: امریکہ 

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی وزیر صحت زیویئر باسیرا نے عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ”کووڈ 19“ کے آغاز کے بارے میں ایک زیادہ ”شفاف“ تحقیقات کرے۔ انہوں نے ادارے کے وزارتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تفتیش کے ذریعے شواہد حاصل کئے جائیں کہ کیا واقعی یہ وائرس چین کے شہر ووہان میں واقع تجربہ گاہ ”ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی“ سے فرار ہوا ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر الزام لگایا تھا کہ یہ تفتیش میں چین کے ساتھ جانبداری کا مظاہرہ کر رہا تھا اور اس بناء پر اس سے الگ ہوگئے تھے۔ تاہم تمام تر شکو شبات کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے اقوام متدہ کے اداروں میں واپسی اختیار کرکے ان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ شروع کر رکھاہے۔ امریکی طبی ماہرین اور میڈیا کافی وثوق سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ شیخ رشیدکا منبع ووہان کی تجربہ گاہ یہ ہے جو اس الزام چین پر لگا رہے ہیں کہ چین نے بلاشک جان بوجھ کر نہ کیا ہو لیکن اس کا آغاز ہونے کے بعد کافی عصہ تک بیرونی دنیا کو بے خبر رکھا اور اگر یہ معلومات بروقت مل جاتیں تو دنیا کے باقی ممالک اس کے سدباب کی زیادہ بہتر تیاری کرکے بہتر بچاؤ کر لیتے۔ ان کے مطابق چین سے آغاز ہونے کے باوجود چین کا نقصان اس لئے کم وہا ہے کہ اس نے خاموش رہ کر اس کو کنٹرول کیا اور اطمینان حاصل کرنے کے بعد اس وائرس کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ ”فوکی نیوز“ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر صحت نے مزید کہا کہ ”کووڈ 19“ نے نہ صرف ہماری زندگیوں کا ایک سال ہم سے چھین لیا بلکہ لاکھوں لوگوں کو زندگی سے محروم کردیا۔ ہم دنیا سے رخصت ہونے والوں کے احترام میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس برس ہم اپنی ہیلتھ سیکورٹی کو زیادہ مضبوط بنائیں اور وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کیلئے بہتر تیاری کریں تاکہ آئندہ صحت کے کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔

امریکی وزیر صحت

مزید :

صفحہ اول -